ایران کی خلیجی ممالک کو وارننگ: ٹرمپ کو باز رکھیں، ورنہ ہم آپ پر سخت حملے کریں گے
عراقچی نے واشنگٹن کے خلیجی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ ٹرمپ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے انہیں دوبارہ حملے کرنے سے باز رکھیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران نے خلیجی ممالک کے ساتھ ایک مربوط سفارتی مہم شروع کی ہے اور انہیں واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر امریکی حملے بند کرنے اور اس کے بجائے مذاکرات کے ذریعے جنگ کا خاتمہ کرنے پر آمادہ نہ کر سکے تو تہران ان کی تیل، بجلی اور پانی کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس انتباہ میں واشنگٹن کے قریبی عرب اتحادیوں کی توانائی کی تنصیبات، تیل کے میدانوں، ریفائنریوں، بجلی کے گرڈ، آبی ڈھانچے، نقل و حمل کے نیٹ ورک اور دیگر اہم اثاثوں پر حملوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پیغام ایران کی اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد خلیج بھر میں شدید معاشی تباہی کے امکان کو اجاگر کر کے مزید امریکی فوجی کارروائی کو روکنا ہے۔ یہ پیغام اس وقت اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں کے ذریعے پہنچایا گیا جب 28 جولائی کو ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے نیٹ ورک اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی دی تھی۔
گفتگو سے واقف دو سینئر ایرانی عہدیداروں، دو خلیجی ذرائع اور ایک سینیئر علاقائی سفارت کار کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سعودی، ترک اور قطری ہم منصبوں کے علاوہ پاکستان کے آرمی چیف سے بھی بات کی۔ معاملے کی حساسیت کے باعث سب نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
سینیئر سفارت کار کے مطابق عراقچی نے واشنگٹن کے خلیجی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ ٹرمپ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے انہیں دوبارہ حملے کرنے سے باز رکھیں، اور خبردار کیا کہ ایران پر کسی بھی حملے کا جواب خلیج بھر میں امریکی اثاثوں اور اہم بنیادی ڈھانچے پر جوابی کارروائی کی صورت میں دیا جائے گا۔
سفارت کار کے مطابق ہر گفتگو میں ان کا پیغام ایک ہی تھا: ’ہم جواب دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن سفارتی حل ہی پورے خطے میں مزید کشیدگی اور تباہی سے بچنے کا بہترین راستہ ہے۔‘
ایک خلیجی ذریعے نے کہا کہ ’ایران کا انتباہ بالکل واضح تھا: اگر امریکہ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو ایران خلیجی توانائی کی تنصیبات اور دیگر علاقائی اہداف پر حملہ کر کے جواب دے گا۔‘
یہ سفارتی مہم ظاہر کرتی ہے کہ ایران خلیجی ممالک کی کمزوری کو دباؤ کے ایک ذریعے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور علاقائی حکومتوں کو اس امکان سے دوچار کر رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں ان کی معیشتوں کی بنیاد بننے والا بنیادی ڈھانچہ براہ راست نشانے پر آ سکتا ہے۔
بعد ازاں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے بات کی اور ان پر زور دیا کہ فوجی کارروائی مؤخر کریں، مذاکرات کی طرف واپس آئیں، جنگ بندی یقینی بنائیں اور سفارتی حل کی کوشش کریں۔
ایک اور خلیجی ذریعے کے مطابق یہ انتباہ تمام خلیجی ممالک کے لیے تھا، لیکن اسے بنیادی طور پر سعودی عرب اور قطر کے ذریعے پہنچایا گیا۔ ایران نے حالیہ برسوں میں اپنے خلیجی ہمسایوں، بشمول سابق علاقائی حریف سعودی عرب، کے ساتھ تعلقات بہتر کیے ہیں۔
دوسرے ایرانی عہدیدار کے مطابق قطر، عمان اور سعودی عرب نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرے اور نئے تصادم سے گریز کرے، کیونکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملوں کا ایک اور دور ’پورے خطے کو آگ کا گولہ بنا سکتا ہے۔‘
2 اگست کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے ایران پر حملہ منسوخ کرنے پر اتفاق کیا ہے، ’بشرطیکہ جلد ہی کوئی معاہدہ ہو سکے۔‘
وسیع علاقائی کشیدگی کی دھمکیاں، ایرانی عہدیدار کا بیان
پہلے خلیجی ذریعے نے کہا کہ ’سعودی عرب کا خیال ہے کہ مزید کشیدگی صرف مزید تباہی لائے گی۔ اسی لیے اس نے ٹرمپ پر زور دیا کہ سفارت کاری کو ایک موقع دیا جائے۔‘
اگرچہ ریاض نے واشنگٹن پر سفارت کاری اپنانے پر زور دیا، لیکن اس نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر اسے خطرہ لاحق ہوا تو وہ اپنا دفاع کرے گا۔ دوسرے خلیجی ذریعے کے مطابق سعودی عرب نے خبردار کیا کہ اس کی سرزمین پر کسی بھی حملے کا فوجی جواب دیا جائے گا۔
شاہی دربار سے قریبی تعلق رکھنے والے سعودی تجزیہ کار علی شہابی نے کہا کہ مملکت کا اندازہ ہے کہ مزید کشیدگی سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کا امکان کم ہے۔ ان کے مطابق ’مملکت کا ماننا ہے کہ متناسب فوجی ردعمل اور آبنائے ہرمز میں ایران پر مسلسل دباؤ کا امتزاج ایک عملی سفارتی حل کی جانب سب سے مضبوط راستہ فراہم کرتا ہے۔‘