بجلی کے بلوں کا روایتی ڈیزائن تبدیل، صارفین اور ماہرین اس فیصلے پر تنقید کیوں کر رہے ہیں؟
بدھ 17 جون 2026 18:16
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں بجلی کے بلوں کا روایتی ڈیزائن تبدیل کرتے ہوئے ایک نیا فارمیٹ متعارف کروا دیا ہے۔
بدھ کو پاور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس نئے فارمیٹ کا بنیادی مقصد بلوں کو سادہ، واضح اور صارفین کے لیے سمجھنے میں آسان بنانا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل پاور ڈویژن نے بجلی کے بلوں کا سائز چھوٹا کر دیا تھا جس پر صارفین کا کہنا تھا کہ بل کا سائز چھوٹا کر کے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔
ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے صارفین کو اب ماہانہ بل مرحلہ وار اسی نئے فارمیٹ کے تحت جاری کیے جائیں گے.
اس نئے ڈیزائن میں بل پر موجود معلومات کی ترتیب تبدیل کی گئی ہے جبکہ اس میں ’کیو آر کوڈ‘ اور دیگر نئے فیچرز بھی شامل کیے گئے ہیں۔
تاہم حکومت نے نئے فارمیٹ میں بجلی کے بلوں پر عائد مختلف ٹیکسوں اور چارجز کی تفصیلی معلومات کو حذف کر دیا ہے، جس پر بجلی صارفین اور توانائی کے ماہرین حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
بجلی صارفین اور ماہرین کا موقف ہے کہ حکومت کو بلوں کا فارمیٹ تبدیل کرنے کے بجائے بجلی کی قیمتوں اور بھاری ٹیکسوں میں کمی کرنی چاہیے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
نئے بل فارمیٹ سے متعلق ہم کیا جانتے ہیں؟
پاور ڈویژن کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے توانائی کے شعبے میں طویل عرصے سے جاری عوامی شکایات کے بعد بجلی کے بلوں کا ایک نیا اور آسان فارمیٹ متعارف کروا دیا ہے۔
’ملک بھر میں بجلی کی تقسیم کار تمام کمپنیوں میں یہ نیا نظام مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت لاہور، گوجرانوالہ اور ملتان میں نئے فارمیٹ پر بلوں کی چھپائی شروع ہو چکی ہے۔‘
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی کمپنی آئیسکو پیر سے اس پر عمل درآمد کا آغاز کرے گی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ دیگر کمپنیاں بھی خریداری کا عمل مکمل ہوتے ہی اس نئے ڈیزائن کو اپنا لیں گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق یہ اقدام صارفین اور سٹیک ہولڈرز کی طرف سے سالہا سال سے ملنے والی شکایات کے جواب میں اٹھایا گیا ہے ۔
’پُرانے بلوں کا ڈیزائن انتہائی پیچیدہ، بوجھل اور تکنیکی اصطلاحات سے بھرا ہوتا تھا، جس کی وجہ سے عام شہری یہ سمجھنے سے قاصر رہتا تھا کہ اس پر کون سے ٹیکسز اور چارجز عائد کیے گئے ہیں۔‘
اس نئے ڈیزائن میں بنیادی معلومات کو نمایاں جگہ دی گئی ہے جس کے تحت بل کی کل رقم، ادائیگی کی آخری تاریخ اور استعمال شدہ یونٹس کو سب سے اوپر اور بڑے حروف میں لکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ دہرائی جانے والی معلومات اور پیچیدہ تکنیکی مواد کو ہٹا کر بل کو سادہ بنا دیا گیا ہے، جبکہ بل پر ایک کیو آر کوڈ بھی شامل کیا گیا ہے جسے سکین کر کے صارفین اضافی تفصیلات اور ڈیجیٹل خدمات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
’نئے فارمیٹ میں ٹیکسز اور چارجز کی تفصیلات نہیں‘
پاور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نئے بل کے ڈیزائن میں بنیادی معلومات جیسے کہ کل رقم، ادائیگی کی آخری تاریخ اور استعمال شدہ یونٹس کو سب سے اوپر اور بڑے حروف میں نمایاں کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پُرانے بل کے لے آؤٹ کے برعکس نئے فارمیٹ میں تکنیکی تفصیلات کو ہٹا دیا گیا ہے اور ڈیجیٹل خدمات تک رسائی کے لیے دو نئے ’کیو آر کوڈز‘ شامل کیے گئے ہیں۔
تاہم اس نئی تبدیلی کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ نئے فارمیٹ میں بجلی کے بلوں پر عائد مختلف ٹیکسوں اور چارجز کی وہ تفصیلی فہرست حذف کر دی گئی ہے جو پُرانے بل میں واضح طور پر موجود ہوتی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ توانائی کے ماہرین اور عوامی حلقے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ ٹیکسوں کی تفصیلات چھپانے سے نظام کی شفافیت متاثر ہوگی، اور حکومت کو صرف بل کا ڈیزائن بدلنے کے بجائے بجلی کی قیمتوں اور بھاری ٹیکسوں میں حقیقی کمی کرنی چاہیے تھی۔
اسلام آباد میں موجود توانائی ماہر علی اویس کے مطابق ’بل کا فارمیٹ تبدیل کرنے سے صارفین کا مالی بوجھ کم نہیں ہوگا۔‘
’پُرانے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، بجلی پر جی ایس ٹی، انکم ٹیکس اور دیگر متعدد چارجز شامل ہوتے ہیں۔‘
اُن کے خیال میں نئے فارمیٹ میں معلومات کو تو سادہ کر دیا گیا ہے، لیکن ان بھاری ٹیکسوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی جو اصل میں عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔
علی اویس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’صارفین کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ بل کا کاغذ کتنا خوب صورت ہے یا اس پر کیو آر کوڈ لگا ہے یا نہیں۔‘
’اُنہیں فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ 200 یونٹ استعمال کرنے پر بھی بل 20 ہزار روپے کیوں آرہا ہے۔ حکومت کو بل کا ڈیزائن بدلنے کے بجائے بجلی سستی کرنے پر توجہ دینی چاہیے تھی۔‘