سپین میں قانونی رہائش کی سکیم، کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں مشکلات کی شکایات کیوں؟
سپین میں قانونی رہائش کی سکیم، کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں مشکلات کی شکایات کیوں؟
بدھ 17 جون 2026 7:04
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان سے بیرونِ ممالک بالخصوص یورپی ملک سپین جانے والے شہریوں کے لیے ’نیشنل پولیس بیورو‘ کا جاری کردہ ملک گیر کریکٹر سرٹیفکیٹ، ان دنوں ایک اہم دستاویز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے جہاں ملک کے اندر سے درخواستیں دی جا رہی ہیں، وہیں بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی بڑی تعداد میں نیشنل پولیس بیورو سے رجوع کر رہے ہیں۔
اس غیر معمولی طلب کے باعث جہاں وفاقی ادارے پر کام کا دباؤ بڑھا ہے، وہاں شہریوں کی جانب سے طویل انتظار اور کوریئر کے مراحل میں مشکلات کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے جاری کردہ یہ سرٹیفکیٹ دراصل ایک ایسی وفاقی دستاویز ہے، جو بیرونِ ملک جانے والے شہریوں کے ملک گیر فوجداری ریکارڈ کی تصدیق کرتی ہے۔
بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر ملکی سفارت خانوں کے لیے یہ اطمینان کرنا لازم ہوتا ہے کہ ان کے ملک میں آنے والا کوئی بھی شخص کسی سنگین جرم، دہشت گردی یا عدالت کو مطلوب تو نہیں اور یہی وجہ ہے کہ عام ضلعی سرٹیفکیٹ، جو صرف ایک شہر تک محدود ہوتا ہے، کے برعکس نیشنل پولیس بیورو کی یہ دستاویز پورے پاکستان سے ’نو کرمنل ریکارڈ‘ کی حتمی کلین چٹ فراہم کرتی ہے۔
حکام کے مطابق اب تک سپین میں 27 ہزار پاکستانیوں کو دستاویزات فراہم کی جا چکی ہیں: فوٹو روئٹرز
اس سرٹیفکیٹ کی طلب میں اچانک اضافے کی بنیادی وجہ سپین کی حکومت کا وہ حالیہ فیصلہ ہے، جس کے تحت وہاں موجود غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے ویزا قوانین میں نرمی اور انہیں قانونی حیثیت دینے (ریگولرائزیشن) کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
سپین کی حکومت کی اس نئی پالیسی کے تحت وہاں مقیم ہزاروں غیر قانونی پاکستانیوں کو اپنی رہائش اور روزگار کو قانونی شکل دینے کا ایک سنہری موقع ملا ہے، جس کے لیے پاکستان سے ’ملک گیر کریکٹر سرٹیفکیٹ‘ کی فراہمی اولین اور لازمی شرط قرار دی گئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سپین میں مقیم پاکستانی اپنے خاندانوں کے ذریعے پاکستان سے ہنگامی بنیادوں پر نیشنل پولیس بیورو کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے رجوع کر رہے ہیں، تاکہ وہ اس قانونی سہولت سے وقت پر فائدہ اٹھا سکیں۔
آخر اس سرٹیفکیٹ کی اہمیت اتنی زیادہ کیوں ہے اور یہ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی بڑی تعداد میں نیشنل پولیس بیورو سے رجوع کرتے ہیں: فائل فوٹو روئٹرز
نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے جاری ہونے والا یہ کریکٹر سرٹیفکیٹ ایک مخصوص وفاقی سکیورٹی پیپر پر پرنٹ ہوتا ہے جس میں جعل سازی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے
اس اہم دستاویز پر درخواست گزار کا مکمل بائیو ڈیٹا، پاسپورٹ اور کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبر درج ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی ڈیجیٹل تصویر اور بائیومیٹرک فنگر پرنٹس بھی موجود ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر فوری تصدیق کے لیے اس پر ایک منفرد کیو آر کوڈ یا بار کوڈ واضح کیا جاتا ہے، جس کی مدد سے دنیا کا کوئی بھی سفارت خانہ اس سرٹیفکیٹ کی آن لائن تصدیق کر سکتا ہے۔
سرٹیفکیٹ کے آخری مرحلے میں نیشنل پولیس بیورو کے مجاز افسر کے دستخط اور مہر ثبت کی جاتی ہے، جس کے بعد وزارتِ خارجہ کی جانب سے اس پر ’اپوسٹائل‘ کا تصدیقی سٹیکر چسپاں کیا جاتا ہے۔
جہاں تک اس سرٹیفکیٹ کے حصول کا تعلق ہے، تو یہ عمل مکمل طور پر آن لائن نہیں ہے بلکہ ایک ہائبرڈ یعنی مخلوط نظام کے تحت کام کرتا ہے۔
پہلے مرحلے میں درخواست گزار کو اپنے متعلقہ ضلع کے 'پولیس خدمت مرکز' سے لوکل سرٹیفکیٹ حاصل کرنا یا ڈیجیٹل انٹری کروانی ہوتی ہے۔
چونکہ نیشنل پولیس بیورو براہِ راست پبلک ڈیلنگ نہیں کرتا، اس لیے دوسرے مرحلے میں تمام ضروری دستاویزات، بشمول اصل پاسپورٹ، شناختی کارڈ کی کاپی، سفید پس منظر والی تصاویر اور سو روپے کے اسٹامپ پیپر پر تیار کردہ بیانِ حلفی کو نامزد کوریئر سروس (ٹی سی ایس یا جیریز)کے ذریعے اسلام آباد ہیڈ کوارٹرز بھیجا جاتا ہے۔
اگر اخراجات کی بات کی جائے تو مقامی خدمت مرکز کی بنیادی فیس ساڑھے تین سو روپے ہے، تاہم کوریئر چارجز، وزارتِ خارجہ سے اپوسٹائل کی تصدیق اور سپینش زبان میں آفیشل ترجمے کے بعد کل سرکاری و انتظامی اخراجات دو ہزار سے تین ہزار روپے تک جا پہنچتے ہیں۔
شہریوں کی شکایات اور نیشنل پولیس بیورو
سپین میں مقیم پاکستانی ہنگامی بنیادوں پر نیشنل پولیس بیورو کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے رجوع کر رہے ہیں: فوٹو روئٹرز
اسلام آباد کے رہائشی مبشر ستی کے بھائی سپین میں مقیم ہیں، انہوں نے اردو نیوز کو اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ ماہ انہیں اپنے بھائی کے لیے یہ وفاقی کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے سلسلے میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے معلومات کی کمی کے باعث انہوں نے مختلف اداروں کے کئی چکر لگائے، جس کے بعد کہیں جا کر انہیں یہ پتا چلا کہ اس سرٹیفکیٹ کے حصول کا اصل طریقہ کار کیا ہے اور یہ کام آخر ہوتا کیسے ہے۔
مبشر ستی نے دعویٰ کیا کہ اس پریشانی کے دوران انہیں ایک ایسا شخص بھی ملا جس نے انہیں یہ پیشکش کی کہ ’آپ مجھے 30 ہزار روپے دیں تو میں آپ کو گھر بیٹھے بٹھائے یہ سرٹیفکیٹ لا دوں گا، آپ کو خود کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی'۔
تاہم انہوں نے اس غیر قانونی راستے کو اختیار کرنے سے گریز کیا اور مطالبہ کیا کہ شہریوں کو ایجنٹ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے اس پورے نظام کو فوری طور پر ڈیجیٹلائز کیا جائے۔
اس حوالے سے اسلام آباد میں نیشنل پولیس بیورو کے ایک اعلی افسر یاسر الحسن نے ’اردو نیوز‘ کو بتایا کہ سرٹیفکیٹس کے اجراء کے اس پورے عمل کو شفاف انداز میں چلایا جا رہا ہے اور اب تک کرپشن کے حوالے سے کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے لیے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ مل کام جاری ہے، جبکہ مستقبل قریب میں اس پورے سسٹم کو وزارتِ خارجہ کے ’اپوسٹائل‘ ویریفیکیشن سسٹم کے ساتھ بھی لنک کرنے کا ارادہ ہے تاکہ شہریوں کو الگ سے دفاتر کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔
یشنل پولیس بیورو کے افسر یاسر الحسن نے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے وضاحت کی کہ درخواست گزاروں کی آسانی کے لیے کوریئر سروسز کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ٹی سی ایس اور جیریز کو یہ خدمات سونپ دی گئی ہیں تاکہ شہری اپنے قریبی مراکز سے ہی دستاویزات براہِ راست اسلام آباد ہیڈ کوارٹرز بھجوا سکیں۔
تاہم انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس کام کے لیے نجی ایجنٹوں کا سہارا لینے سے گریز کریں، کیونکہ ایجنٹ مافیا ہی ارجنٹ سروس کے نام پر شہریوں سے زائد پیسے وصول کرتا ہے اور شکایات کا باعث بنتا ہے۔
دوسری جانب امیگریشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس پورے نظام کو آن لائن منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں میں شعور اور آگاہی بڑھانے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق، محض ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ شہریوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ انہیں کس مخصوص ملک اور مقصد کے لیے اس وفاقی سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہے، تاکہ وہ ایجنٹ مافیا کے ہاتھوں گمراہ ہونے سے بچ سکیں۔