Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ ایران امن معاہدہ: پاکستان اس اہم ترین سفارتی مشن کا حصہ کیسے بنا؟

آصف درانی کا کہنا ہے کہ ’ثالثی کا یہ عمل بلاشبہ تھکا دینے والا اور طویل تھا۔‘ (فائل فوٹو: پی ایم او)
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس کے بعد رواں ہفتے وزیراعظم شہباز شریف نے عسکری کارروائیوں کے 'فوری اور مستقل' خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ مزید مذاکرات کے لیے زمین ہموار کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا، جبکہ اس سلسلے میں 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ایک باقاعدہ دستخطی تقریب بھی طے پا چکی ہے۔
پاکستان اس مرکزی کردار تک کیسے پہنچا؟
مارچ میں جنگ کے آغاز کے چند ہفتوں بعد اسلام آباد نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا ذریعہ بن رہا ہے۔
فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی پاکستانی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا، تاہم کچھ حلقوں کے لیے یہ پیش رفت حیران کن بھی تھی۔
لیکن خطے کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والوں کے لیے یہ غیر متوقع نہیں تھا۔
تہران میں پاکستان کے سابق سفیر آصف درانی نے اے ایف پی کو بتایا ’سب سے اہم چیز ثالث کا اعتبار ہوتا ہے۔ پاکستان اس معیار پر پورا اترا کیونکہ اسے ایران اور امریکہ دونوں کا اعتماد حاصل تھا۔‘

صدر ٹرمپ عاصم منیر کو اپنا ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ قرار دیتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایران اور پاکستان کے تعلقات کی بنیادیں کافی گہری ہیں۔ دونوں ممالک 900 کلومیٹر طویل سرحد اور مشترکہ ثقافتی رشتوں سے جڑے ہیں۔ سنی اکثریتی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں ایران کے بعد دنیا کی دوسری بڑی شیعہ آبادی مقیم ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات اہم تو ہیں لیکن ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔
پاکستان نے افغان جنگ کے دوران نیٹو کو سپلائی روٹس فراہم کیے اور اربوں ڈالر کی امریکی امداد حاصل کی، لیکن 2011 میں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد ان تعلقات میں تلخی آگئی تھی۔
علاوہ ازیں اسلام آباد کے علاقائی قوت سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے ہیں اور چین کے ساتھ ’آہنی دوستی‘ کا رشتہ ہے، جو ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
امن کوششوں کی قیادت کون کر رہا ہے؟
پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ذاتی تعلقات نے اسلام آباد کے اثر و رسوخ میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک طاقتور علاقائی فوجی رہنما کے طور پر وہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈروں سے بخوبی واقف ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بھی گہرے مراسم ہیں۔
صدر ٹرمپ انہیں اپنا ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ شناسائی انڈیا کے ساتھ ایک تنازع کے بعد پیدا ہوئی تھی جس میں امریکی صدر نے ثالثی کی تھی۔

آصف درانی کے مطابق پاکستان کی روایتی سفارتی زبان اور مذاکراتی مہارتیں یہاں بہت کام آئیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

عاصم منیر جو سابق انٹیلیجنس چیف بھی رہ چکے ہیں، نے  سنہ 2022 میں فوج کی کمان سنبھالی۔ بین الاقوامی سطح پر ان کے بڑھتے ہوئے قد کے ساتھ ساتھ پاکستان میں فوجی طاقت کا ارتکاز بھی دیکھا گیا ہے اور فیلڈ مارشل کی مدتِ ملازمت میں توسیع بھی کی گئی ہے۔
اسلام آباد نے اب تک کیا حاصل کیا؟
اپریل میں پاکستان کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے امیدیں بنتی اور ٹوٹتی رہی ہیں۔ اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان ہونے والے تاریخی مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔
اس کے بعد پاکستان نے ایک وسیع سفارتی مہم کا آغاز کیا جس میں سعودی عرب، قطر اور چین سمیت علاقائی پلیئرز کے ساتھ درجنوں ملاقاتیں اور واشنگٹن و تہران کے دورے شامل تھے۔ اس تمام عرصے میں میدانِ جنگ میں شدت آتی رہی یہاں تک کہ جب حکام کسی پیش رفت کا اشارہ دیتے تب بھی جھڑپیں ہو رہی تھیں۔
ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں اور آبنائے ہرمز جیسے پیچیدہ معاملات پر فریقین کے درمیان سخت اختلافات رہے۔
آصف درانی کا کہنا ہے کہ ’ثالثی کا یہ عمل بلاشبہ تھکا دینے والا اور طویل تھا۔‘
ان کے مطابق پاکستان کی روایتی سفارتی زبان اور مذاکراتی مہارتیں یہاں بہت کام آئیں۔
طویل عرصے سے عالمی تنازعات میں ثالث رہنے والے قطر نے بھی حالیہ ہفتوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھایا جس پر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے دوحہ کا بطور ’برادر ثالث‘ شکریہ ادا کیا۔

پاکستان اپنے دو دیگر پڑوسیوں کے ساتھ تنازعات میں بھی بین الاقوامی حمایت کا خواہش مند ہے (فائل فوٹو: اے اہف پی)

پاکستان کا مفاد کیا ہے؟
مشرق وسطیٰ کے اس بحران نے پاکستان کے لیے مہنگائی کے طوفان اور سرحد کے قریب جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا کر دیا تھا۔ خاص طور پر بلوچستان سے متصل سرحدی علاقوں میں جہاں پہلے ہی عسکریت پسندی کے چیلنجز موجود ہیں، پاکستان کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔
پاکستان اپنے دو دیگر پڑوسیوں، افغانستان اور روایتی حریف انڈیا کے ساتھ تنازعات میں بھی بین الاقوامی حمایت کا خواہش مند ہے۔
اٹلانٹک کونسل کے سینیئر فیلو مائیکل کوگلمین کہتے ہیں ’پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی انڈین کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔‘
آگے کیا ہو گا؟
مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ ’خود کو امن پسند ملک کے طور پر پیش کر کے پاکستان اپنا وہ عالمی تأثر بدلنے میں کامیاب رہا ہے جس کے تحت اسے ایک ’بحران زدہ ریاست‘ سمجھا جاتا تھا۔‘

مائیکل گوگلمین نے کہا پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی انڈین کوششیں ناکام ہو چکی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان کو امید ہے کہ اس سفارتی کامیابی کے نتیجے میں وہ غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کر سکے گا اور ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکی پابندیوں کا حل نکال پائے گا۔
تاہم یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ جوہری پروگرام جیسے متنازع نکات پر اتفاقِ رائے ہونا باقی ہے، جو اسلام آباد کی سفارت کاری کے لیے ایک بڑا امتحان ہو گا۔
مائیکل کوگلمین کے مطابق ’پاکستان نے عوامی سطح پر اس کردار کو اپنا کر خطرہ مول لیا ہے کیونکہ اگر معاملات بگڑتے ہیں تو سارا ملبہ ثالث پر بھی آ سکتا ہے لیکن پاکستان یہ خطرہ اٹھانے کے لیے تیار تھا۔‘

شیئر: