پنجاب بجٹ: 752 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام، تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ
پنجاب بجٹ: 752 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام، تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ
منگل 16 جون 2026 17:36
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
پنجاب اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا تقریبا 6 ہزار ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے اسے سرپلس اور ترقیاتی بجٹ قرار دیا ہے جبکہ اپوزیشن نے بجٹ تقریر کے دوران احتجاج کرتے ہوئے ایوان میں دھرنا دیے رکھا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز بھی بجٹ اجلاس میں شریک ہوئیں تاہم تقریر کے دوران ہی اسمبلی سے روانہ ہو گئیں، جس کے بعد حکومتی حلقوں میں ان کی حالیہ سرجری اور صحت سے متعلق چہ مگوئیاں بھی زیر بحث رہیں۔
صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال کا ترقیاتی پروگرام 752 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ تعلیم اور صحت کو بدستور سب سے بڑی ترجیحات میں شامل رکھا گیا ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
اس بجٹ کی ایک اہم خصوصیت وہ مالی دباؤ ہے جس کا حکومت خود اعتراف کر رہی ہے۔ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے مطابق پنجاب نے وفاقی حکومت کو 560 ارب روپے فراہم کیے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ دفاعی اور قومی مالی ضروریات کے تناظر میں صوبوں کی جانب سے وفاق کو وسائل فراہم کیے گئے، تاہم اس کے باوجود پنجاب نے ترقیاتی اخراجات میں کمی کے بجائے بڑے پیمانے پر نئے منصوبے شامل کیے ہیں۔
صحت اور تعلیم بدستور بجٹ کا مرکز
حکومت نے تعلیم کے لیے 686 ارب روپے اور صحت کے لیے 630 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ ترقیاتی دستاویزات کے مطابق سکول انفراسٹرکچر کی بہتری، سکول میل پروگرام، سٹیم لیبارٹریوں کے قیام، کیڈٹ کالج ملتان، مریم نواز اکیڈمک لیڈرشپ سینٹر اور کالجوں میں آئی ٹی لیبز کے منصوبے جاری رکھے جائیں گے۔
اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہونہار سکالرشپ پروگرام اور وزیراعلیٰ لیپ ٹاپ پروگرام کو جاری رکھا گیا ہے جبکہ نئی یونیورسٹیوں اور کیمپسز کے قیام کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
صحت کے شعبے میں 24 گھنٹے فعال مراکز صحت کی بحالی و اپ گریڈیشن، غیر فعال مراکز صحت کی بحالی، بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت میں آلات کی فراہمی، ضلعی ہسپتالوں میں کیتھ لیبز کے قیام اور منتخب ہسپتالوں میں خصوصی طبی سہولیات کے منصوبے شامل ہیں۔
روزگار، کاروبار اور مصنوعی ذہانت پر توجہ
اس بجٹ میں روایتی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ روزگار، مہارت اور ٹیکنالوجی کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ آسان کاروبار فنانس پروگرام کے لیے 32 ارب روپے اور آسان کاروبار کارڈ پروگرام کے لیے 25 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
پنجاب کے بجٹ مین تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
حکومت نے ورک فورس ریڈینس پروگرام، سکلز فار اکنامک ٹرانسفارمیشن پروگرام، بی پی او انڈسٹری کے لیے روزگار کے منصوبے اور بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے سی ایم پرواز کارڈ پروگرام بھی شامل کیا ہے۔
بجٹ تقریر اور ترقیاتی دستاویزات میں پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل گورننس کو بھی نمایاں طور پر جگہ دی گئی ہے۔ پنجاب میں مصنوعی ذہانت کے دفتر کے قیام، جدید ٹیکنالوجی پروگراموں، سٹیم تعلیم اور آئی ٹی انفراسٹرکچر کو حکومت مستقبل کی معاشی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہی ہے۔
زراعت، صفائی اور مقامی ترقیاتی منصوبے
پنجاب اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت زراعت کو سب سے بڑا حصہ دیا گیا ہے۔ زراعت اور لائیو سٹاک کی سکیموں کے لیے 137 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جبکہ آبی زراعت، فشریز اور ایکوا بزنس حب جیسے منصوبے بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔
ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے 170 ارب روپے اور صوبہ بھر میں مریم نواز فری وائی فائی منصوبے کے لیے 11 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح ریسکیو سروسز، فائر سروسز، ایمرجنسی میڈیکل نظام اور مقامی سطح کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی نئی سکیمیں شامل کی گئی ہیں۔
اپوزیشن نے بجٹ کو اعدادوشمار کا کھیل قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا ہے جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ محدود مالی گنجائش، وفاقی ذمہ داریوں اور معاشی دباؤ کے باوجود یہ بجٹ تعلیم، صحت، روزگار، زراعت اور ڈیجیٹل معیشت پر مبنی ترقیاتی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ آئندہ پانچ روز تک پنجاب اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث جاری رہے گی جس کے بعد مختلف مطالباتِ زر پر غور کیا جائے گا۔