امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک مرتبہ پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو اس کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بیان فریقین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے پر دستخط سے دو روز قبل سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون سربراہی اجلاس میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ہمراہ کہا کہ ’یہ ایک مفاہمتی یادداشت ہے، اگر یہ مجھے پسند نہ آئی تو ہم دوبارہ ان پر حملے شروع کر دیں گے، اگر انہوں نے مناسب رویہ اختیار نہ کیا تو ہم ان کے سروں کے عین بیچ میں بم گرانا شروع کریں گے۔‘
مزید پڑھیں
-
اسرائیل کے جنوبی لبنان پر متعدد فضائی حملے: سرکاری میڈیاNode ID: 905456
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں ایران کو فوری طور پر پابندیوں میں نرمی دینے کی کوئی شق شامل نہیں، تاہم ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے پر بعد میں بات کریں گے۔
اس سے قبل امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ جمعے سے دونوں ممالک سوئٹزرلینڈ میں تنازعے کے حتمی تصفیے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے جبکہ آبنائے ہرمز کھلنے کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق معاہدے پر دستخط کی تقریب کے فوراً بعد حتمی معاہدے پر بات چیت شروع ہو گی جو کہ 60 روز تک جاری رہے گی۔
اس بات چیت میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل اور بین الاقوامی اقتصادی پابندوں کے خاتمے کے حوالے سے فیصلے کیے جائیں گے۔
28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے ساتھ چھڑنے والی جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو اس وقت دھچکہ لگا جب اسرائیل نے جنوبی لبنان کے علاقوں میں تازہ حملے کیے۔
دوسری جانب ایران کی مرکزی فوجی کمان خاتم الانبیا نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو ان حملوں کے جواب میں ’سخت ردعمل کا انتظار کرنا چاہیے۔’
لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ان حملوں میں مایفدون کے علاقے میں دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان میں چار افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے حملہ اس وقت کیا گیا جس فوجی مقام کے قریب ایک ’مشکوک گاڑی‘ کی نشان دہی ہوئی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق متعدد راکٹوں کو فضا میں ہی تباہ کیا گیا اور ایک راکٹ لانچر پر بھی فضائی حملہ کیا گیا۔













