Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بہتر رویہ نہ اپنایا تو بم گرائیں گے: صدر ٹرمپ کا ایران کو ایک بار پھر انتباہ

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے اسرائیل کا لبنان سے نکلنا ضروری ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک مرتبہ پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو اس کے خلاففوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بیان فریقین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے پر دستخط سے دو روز قبل سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون سربراہی اجلاس میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ہمراہ کہا کہ ’یہ ایک مفاہمتی یادداشت ہے، اگر یہ مجھے پسند نہ آئی تو ہم دوبارہ ان پر حملے شروع کر دیں گے، اگر انہوں نے مناسب رویہ اختیار نہ کیا تو ہم ان کے سروں کے عین بیچ میں بم گرانا شروع کریں گے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں ایران کو فوری طور پر پابندیوں میں نرمی دینے کی کوئی شق شامل نہیں، تاہم ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے پر بعد میں بات کریں گے۔
اس سے قبل امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ جمعے سے دونوں ممالک سوئٹزرلینڈ میں تنازعے کے حتمی تصفیے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے جبکہ آبنائے ہرمز کھلنے کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

تنازعے کے حتمی تصفیے کے لیے جمعے کو امریکہ اور ایران سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات شروع کریں گے (فائل فوٹو: روئٹرز)

اے ایف پی کے مطابق معاہدے پر دستخط کی تقریب کے فوراً بعد حتمی معاہدے پر بات چیت شروع ہو گی جو کہ 60 روز تک جاری رہے گی۔
اس بات چیت میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل اور بین الاقوامی اقتصادی پابندوں کے خاتمے کے حوالے سے فیصلے کیے جائیں گے۔
28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے ساتھ چھڑنے والی جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو اس وقت دھچکہ لگا جب اسرائیل نے جنوبی لبنان کے علاقوں میں تازہ حملے کیے۔
دوسری جانب ایران کی مرکزی فوجی کمان خاتم الانبیا نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو ان حملوں کے جواب میں ’سخت ردعمل کا انتظار کرنا چاہیے۔’
لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ان حملوں میں مایفدون کے علاقے میں دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان میں چار افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے حملہ اس وقت کیا گیا جس فوجی مقام کے قریب ایک ’مشکوک گاڑی‘ کی نشان دہی ہوئی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق متعدد راکٹوں کو فضا میں ہی تباہ کیا گیا اور ایک راکٹ لانچر پر بھی فضائی حملہ کیا گیا۔

اسرائیل کے لبنان پر تازہ حملوں سے جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو اس وقت دھچکہ لگا ہے (فوٹو: اے پی)

’جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل کا لبنان سے نکلنا ضروری‘

ایران کے اعلیٰ سفارت کار نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مجوزہ معاہدے کے تحت اسرائیل کو لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانا ہوں گی، تاہم اسرائیل پہلے ہی اس شرط کو مسترد کر چکا ہے، جس کے باعث معاہدے کے ناکام ہونے اور جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خطرات ہو سکتے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں اور فریقین کے حکام کی جانب سے معاہدے کے مندرجات کی متصاد تشریحات پیش کی ہیں۔ اگرچہ اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں ہے لیکن وہ جنگ کا حصہ ہے کیونکہ وہ 28 فروری کو ایران پر حملوں میں امریکہ کے ساتھ تھا۔
اسرائیل لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے اور اس کے لبنانی علاقوں پر بھی قبضہ بھی کر چکا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان پر اسرائیل کا مسلسل برقرار رہنا معاہدے کی خلاف ورزی ہو گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جب تک اسرائیل ان علاقوں سے فوجیں واپس نہیں بلاتا جن پر جنگ کے دوران قبضہ کیا گیا اس وقت تک جنگ کو مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا۔‘

شیئر: