چکوال میں آسٹریلوی بچی کی ہلاکت: پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟
چکوال میں آسٹریلوی بچی کی ہلاکت: پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟
بدھ 17 جون 2026 14:50
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع چکوال میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی)کے ایک اہلکار کی مبینہ 'غلط فائرنگ‘ سے ہلاک ہونے والی آسٹریلوی 9 سالہ ہانیہ عدیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظرعام پر آ گئی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بچی کی موت جسم کے مختلف حصوں پر لگنے والی متعدد گولیوں کے باعث شدید خون بہنے اور جان لیوا صدمے کی وجہ سے ہوئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ہانیہ عدیل کے جسم پر گولیوں اور ان سے پیدا ہونے والے زخموں کے مجموعی طور پر 11 نشانات پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گولیوں کے گہرے زخموں کے نتیجے میں بچی شدید خون بہنے کا شکار ہوئی جس سے ’ہائپو وولیمک شاک‘ کی کیفیت پیدا ہوئی اور بالآخر اس کی جان چلی گئی۔
شدید خون ضائع ہونے اور جسمانی صدمے کے باعث ہانیہ کے دل اور پھیپھڑوں نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گولی لگنے سے بچی کا دایاں پھیپھڑا بری طرح متاثر ہوا اور اس کی چھاتی میں خون جمع ہو گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق گولیوں سے ہانیہ کا جگر، بڑی اور چھوٹی آنتیں بھی شدید زخمی ہوئیں۔ اس کے علاوہ دائیں چھاتی، پیٹ، ران اور بائیں کہنی پر گولیوں کے داخل اور خارج ہونے کے واضح اور گہرے نشانات موجود تھے۔
پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں ہانیہ کی دائیں ران کی ہڈی بری طرح ٹوٹ گئی تھی۔ معائنے کے دوران بچی کے جسم سے گولی کا ایک دھاتی ٹکڑا بھی برآمد ہوا جسے مزید فرانزک جانچ کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں تمام زخموں کو ’اینٹی مارٹم‘ قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ گولیاں موت واقع ہونے سے پہلے لگی تھیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخموں کی نوعیت انتہائی شدید تھی اور وہ عام حالات میں فوری طور پر جان لیوا ثابت ہو سکتے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گولی لگنے اور موت واقع ہونے کے درمیان کوئی قابل ذکر وقفہ موجود نہیں تھا۔
میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق ہانیہ کی موت اور پوسٹ مارٹم کے درمیان تقریباً 6 سے 8 گھنٹے کا وقفہ رہا۔ ہسپتال انتظامیہ نے خون آلود کپڑے، ایکس رے اور دیگر شواہد سیل کر کے تفتیشی حکام کے حوالے کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ 10 جون کو ضلع چکوال میں ایک کارروائی کے دوران سی سی ڈی اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے ہانیہ عدیل کی جان گئی جبکہ ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی زخمی ہو گئے تھے۔
یہ واقعہ چکوال میں اس وقت پیش آیا تھا جب آسٹریلوی شہریت رکھنے والا یہ خاندان پاکستان میں چھٹیاں گزارنے آیا ہوا تھا۔
واقعے کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا اور متاثرہ خاندان کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا جبکہ آسٹریلیا کی حکومت نے بھی اس معاملے میں مداخلت کی۔ پنجاب حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اہلکار کے خلاف کارروائی اور تحقیقات کا حکم دیا تھا جس کے نتیجے میں متعلقہ اہلکار کو گرفتار کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا۔
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے چند روز پیشتر حکومت پاکستان سے ’شفاف اور مناسب‘ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
اس کے چند روز بعد آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے حکومت سے ’شفاف اور مناسب‘ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
کیمبری میں پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ان حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کا شفاف طریقے سے جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ ہر کوئی جان سکے۔ سب سے بڑھ کر اس بچی کا خاندان لیکن باقی لوگ بھی۔ اور آسٹریلیا یہ توقع رکھتا ہے کہ ان حالات کی شفاف اور مناسب تحقیقات کی جائیں گی۔‘
پنجاب پولیس کے کرائم کنڑول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے اس واقعے کو ’افسوسناک انسانی غلطی‘ قرار دیتے ہوئے متعلقہ اہلکار کو گرفتار کر لیا تھا۔‘
واقعے کے حوالے سے سی سی ڈی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے مسلح ڈکیتی کی ایک جاری واردات کے دوران مداخلت کی تھی، جہاں مسلح ڈاکوؤں نے ایک کار کو روک کر کار سواروں (متاثرہ فیملی) کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا رکھا تھا۔
پولیس کے مطابق اس دوران ملزمان اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے دوران شدید افراتفری پیدا ہوئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس افراتفری میں متعلقہ پولیس افسر نے غلط فہمی کی بنیاد پر یہ سمجھا کہ ملزمان متاثرین کی گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اس نے فائرنگ کر دی۔‘