Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حساوی تربوز: ’ہر ایک کا مرغوب اور پسندیدہ پھل‘

مملکت کے مشرقی ریجن الاحسا کا ’حساوی تربوز‘ علاقے کی اہم زرعی پیداوار میں شمار ہوتا ہے اور موسمِ گرما کی آمد کے ساتھ ہی مقامی منڈیوں اور بازاروں کی رونق بڑھا دیتا ہے۔
کئی دہائیوں سے کاشت کیا جانے والا یہ منفرد پھل نہ صرف علاقے کے زرعی و ثقافتی ورثے کی علامت ہے بلکہ مقامی معیشت میں بھی اہم کردار کا حامل ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق حساوی تربوز زرد رنگ، منفرد ذائقے اور خوشبو کے باعث ہر ایک کا مرغوب اور پسندیدہ پھل ہے۔
مقامی کاشت کاروں نے اس منفرد پھل کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اس کی کاشت کی پائیداری کو یقینی بنایا ہے جس کے نتیجے میں حساوی تربوز کی ایک ایسی مقامی قسم وجود میں آئی ہے جو منفرد خصوصیات رکھتی ہے اور نمایاں بناتی ہے۔
موسمی زراعت کے ماہر اور تربوز کی تجارت سے منسلک عبداللہ السالم کا کہنا ہے کہ ’حساوی تربوز کا سیزن تقریباً تین ہفتے قبل شروع ہو چکا ہے۔ اعلٰی معیار، غذائیت سے بھرپور، خوش ذائقہ اور منفرد خوشبو کی وجہ سے اس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔‘

کنگ فیصل یونیورسٹی کے کالج آف ایگریکلچرل سائنسز کے رکن ڈاکٹر حسام الدین حسین نے بتایا کہ ’حساوی تربوز اپنی منفرد خوشبو، زیادہ آبی تناسب اور سخت موسمی حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت کے باعث ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔‘
حساوی تربوز میں پانی کی وافر مقدار، غذائی ریشے، وٹامن سی، پوٹاشیم اور قدرتی کیروٹینائڈز پائے جاتے ہیں جبکہ اس میں کیلوریز کی مقدارنسبتا کم ہوتی ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق اس کے استعمال سے جسم میں پانی کی کمی دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔
حساوی تربوز تاریخی طور پر وادی الاحسا سے منسلک ہے جس کا شمار دنیا کے بڑے قدرتی زرعی نخلستانوں میں ہوتا ہے۔ یہ منفرد پیداوار زرعی ورثے، معاشی اہمیت اور غذائی افادیت کا حسین امتزاج ہے۔ 

 

شیئر: