دو ریاستی حل ہی مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا واحد راستہ ہے: سعودی مندوب
دو ریاستی حل ہی مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا واحد راستہ ہے: سعودی مندوب
جمعہ 19 جون 2026 7:32
عرب گروپ نے غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کا خیرمقدم کیا (فائل فوٹو: یو این)
اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ مسئلہ فلسطین اب بھی مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی جڑ ہے اور انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ ختم کیے بغیر خطے میں حقیقی امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
عرب نیوز کے مطابق جمعرات کو غزہ کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران عرب گروپ کی نمائندگی کرتے ہوئے عبدالعزیز الواصل نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ فلسطینی اپنے ’جائز اور ناقابلِ تنسیخ حقوق‘ کا استعمال کریں جن میں سب سے اہم سنہ 1967 کی حدود کے مطابق ایک آزاد ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم (القدس) ہو۔
انہوں نے مقبوضہ علاقوں میں جاری اسرائیلی خلاف ورزیوں پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا جن میں عام شہریوں کو نشانہ بنانا، بستیوں کی توسیع، زمینوں پر قبضہ، گھروں کو مسمار کرنا، نقل مکانی اور الحاق شامل ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اقدامات علاقائی اور بین الاقوامی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
عرب گروپ نے اسرائیل کے ان تمام اقدامات کو مسترد کر دیا جن کا مقصد قبضے کو طول دینا یا فلسطینی سرزمین پر اپنی خودمختاری قائم کرنا ہے۔
گروپ نے انہیں ’کالعدم اور باطل‘ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
عرب گروپ نے غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان کوششوں کو بنیاد بنا کر ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے جس کے تحت تنازع کا خاتمہ، شہریوں کا تحفظ اور دو ریاستی حل کی جانب ایک معتبر سیاسی عمل کا آغاز ممکن ہو سکے۔
گروپ نے فلسطینیوں کے خلاف جاری ’قتلِ عام‘ کی مذمت کی اور پورے غزہ میں فوری اور بلاتعطل انسانی امداد کی ترسیل کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے امداد کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے اجتماعی سزا قرار دیا۔
سعودی مندوب عنے غزہ کے کچھ حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے اور رہائشیوں کو بے دخل کرنے کے اقدامات کی شدید مذمت کی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
مزید برآں گروپ نے امدادی سرگرمیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی تعاون اور اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں کو بلا روک ٹوک رسائی دینے پر زور دیا۔
سعودی مندوب عبدالعزیز الواصل نے غزہ کے کچھ حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے اور وہاں کے رہائشیوں کو بے دخل کرنے کے اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی اور اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی بھی خلاف ورزی قرار دیا۔
عرب گروپ نے 1967 سے مقبوضہ علاقوں کے حصے کے طور پر یروشلم (القدس) کی حیثیت کا اعادہ کیا اور اس کی آبادیاتی یا قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے مقدس مقامات پر موجودہ صورتحال (سٹیس کو) کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔
آخر میں عبدالعزیز الواصل نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی قبضے کا خاتمہ کروا کر فلسطینیوں کے حقوق کو بحال کرے۔