Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کے ایس ریلیف کا غزہ میں کمزور طبقات اور معذور افراد کے لیے معاشی خودمختاری کا منصوبہ

کورس مکمل کرنے پر ٹریننگ لینے والوں کو ڈپلومہ سرٹیفیکیٹ اور ایک پروفیشنل ٹول کِٹ دی جائے گی (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی امدادی ایجنسی شاہ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (کے ایس ریلیف سینٹر) نے گزشتہ روز وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں غزہ کی پٹی میں ضرورت مند خاندانوں اور معذور افراد کے لیے ایک معاشی خودمختاری کے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اس تقریب کے انعقاد میں یونائیٹڈ نیشنز ڈیویلپمنٹ پروگرام، یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ اور یونائیٹڈ نیشن آفس فار کوآرڈینیشن آف ہیومن ٹیرین افیئرز سمیت کئی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے عہدیداران نے شرکت کی۔
یہ منصوبہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کی امداد کے لیے جاری سعودی مہم کے ایک حصے کے طور پر شروع کیا گیا ہے۔
افتتاحی تقریب میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی، اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) اور اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (اوچا) کے نمائندوں سمیت متعدد مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں نے شرکت کی۔
 
اپنے پہلے مرحلے میں اس منصوبے کا مقصد ایک ہزار سے زائد ضرورت مند اور معذور افراد کو مختلف تکنیکی اور ڈیجیٹل شعبوں میں تربیت فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے میں آٹھ ووکیشنل اور ڈیجیٹل کورسز میں مجموعی طور پر تقریباً 130 گھنٹوں کی خصوصی ٹریننگ دی جائے گی۔

کورس مکمل کرنے پر ٹریننگ لینے والوں کو ڈپلومہ سرٹیفیکیٹ اور ایک پروفیشنل ٹول کِٹ دی جائے گی جس کی مدد سے وہ لیبر مارکیٹ میں کام کر پائیں گے، اس سے معاشی مواقع بڑھیں گے اور آمدن کے پائیدار ذرائع پیدا ہوں گے۔

یہ منصوبہ سعودی عرب کی ان مسلسل کوششوں کا تسلسل ہے جو وہ اپنے انسانی ہمدردی کے ادارے کے ایس ریلیف کے ذریعے غزہ کی پٹی میں معاشی بحالی اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے انجام دے رہا ہے۔

 

شیئر: