Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’بہت ٹھنڈ تھی اور جسم اکڑ گیا تھا‘، ارشد ندیم نے تنقید کے بعد عوام سے کیا کہا؟

پاکستان کے اولمپک چیمپیئن ارشد ندیم نے کامن ویلتھ گیمز 2026 میں نویں پوزیشن پر آنے کی وجہ گلاسگو کے شدید سرد موسم کو قرار دیا ہے۔ 
وطن واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارشد ندیم نے کہا کہ ٹھنڈ کے باعث اُن کا جسم اکڑ گیا تھا، جس سے وہ اپنی معمول کی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ ’موسم بہت زیادہ ٹھنڈا تھا اور اس کا میرے جسم پر اثر پڑا۔ میرے گذشتہ مقابلوں میں رن اپ بہت ہموار تھا، لیکن اس بار سردی کی وجہ سے جسم اکڑ گیا تھا۔‘

’فٹنس اور صحت دونوں ٹھیک تھیں، مگر آخرکار وہی ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے۔‘

ارشد ندیم نے  پاکستانی عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ مایوس نہ ہوں اور ان کی حمایت جاری رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ ’براہِ کرم دل چھوٹا نہ کریں اور میری حوصلہ افزائی کرتے رہیں۔ پاکستان کو دنیا بھر میں جو عزت اور پہچان ملی، وہ برسوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔‘ 
’میں ہر مقابلے میں مکمل تیاری کے ساتھ اُترتا ہوں اور اس بار بھی ایسا ہی تھا۔‘
سوشل میڈیا پر تنقید کے حوالے سے ارشد ندیم نے کہا کہ ’میں پاکستان کا بیٹا ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔‘
’کچھ تبصرے دیکھے جن سے دکھ ہوا، لیکن میں پاکستانیوں کے جذبات کو سمجھتا ہوں کیونکہ وہ میرے اپنے لوگ ہیں۔‘
گلاسگو میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز کے جیولین تھرو فائنل میں دفاعی چیمپیئن ارشد ندیم پہلی کوشش میں فاؤل کر گئے تھے۔ دوسری کوشش میں انہوں نے 77.41 میٹر جبکہ تیسری کوشش میں 75.39 میٹر کی تھرو کی۔ ابتدائی تین راؤنڈز کے بعد وہ ٹاپ آٹھ میں جگہ نہ بنا سکے اور نویں پوزیشن پر مقابلے سے باہر ہوگئے۔
اس مقابلے میں سری لنکا کے رومیش تھارانگا پاتھیراج نے طلائی، انڈیا کے نیرج چوپڑا نے چاندی جبکہ یشویر سنگھ نے کانسی کا تمغہ جیتا۔ اس کے برعکس 2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم نے 90.18 میٹر کی ریکارڈ تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ اپنے نام کیا تھا۔
اب ارشد ندیم 21 اگست کو سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں ہونے والی ڈائمنڈ لیگ میں ایکشن میں نظر آئیں گے، جہاں انہیں نیرج چوپڑا، رومیش تھارانگا پاتھیراج، کیشورن والکاٹ، اینڈرسن پیٹرز اور تھامس روہلر سمیت دنیا کے صفِ اول کے جیولین تھرو ایتھلیٹس کا سامنا ہوگا۔

شیئر: