Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حدودِ شمالیہ: پتھروں سے بنے مکانات میں صحرائی زندگی کی جھلک

حدودِ شمالیہ میں موجود تاریخی پتھر کے مکانات اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ صحرائی علاقوں کے لوگ سخت ماحول میں بھی خود کو کیسے ڈھال لیتے تھے۔
پتھروں سے بنائے گئے یہ مکانات صحرائی ماحول سے انسان کی ہم آہنگی اور بادیہ نشینوں کی طرزِ حیات کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق صحرائی علاقے میں موجود ان مکانات کو مقامی چونے اور قدرتی پتھروں سے تعمیر کیا گیا ہے۔
پتھروں سے تعمیر شدہ ان مکانوں کی موٹی دیواروں کی یہ خاصیت ہے کہ یہ شدید گرمی میں اپنے مکینوں کو ٹھنڈک جبکہ شدید سردی میں گرمی کا احساس دیتی اور انہیں موسمی تبدیلیوں سے بہترین طریقے سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
مکانات کی تعمیر میں پتھروں کے ساتھ مقامی لکڑی کا استعمال بھی ہوا ہے جس کے ذریعے ان مکانوں کی چھتیں بنائی گئیں جو مقامی فن تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

گھروں کی تعمیر میں  مقامی چٹانی پتھر اور لکڑی استعمال ہوئی (فوٹو، ایس پی اے)  

ان پتھریلے مکانوں میں رہنے والوں نے اپنے مویشیوں کے لیے بھی مخصوص باڑے بنائے ہیں جو علاقے میں مویشی پالنے کی قدیم سماجی روایات کے تسلسل کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
یہ گھر اور قلعے نہ صرف تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ مقامی سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان آثار کا تحفظ مادی اور غیر مادی ثقافتی ورثے کے فروغ، قومی شناخت کے استحکام اور نسلِ نو کو اپنے تاریخی ورثے سے جوڑنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

 

شیئر: