Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں اہم آثارِ قدیمہ کی دریافت، چٹانوں پر ابتدائی اسلامی دورِ کے شواہد

سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ ریجن کے المہد گورنریٹ میں آثارِ قدیمہ کے سروے کا دوسرا مرحلہ مکمل کر دیا ہے جس کے دوران ماضی کی تہذیبوں کے آثار و شواہد دستاویزی شکل میں محفوظ کیے گئے۔ یہ آثار ایک ایسی تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں جو اسلامی ریاست کے ابتدائی ایام تک پھیلی ہوئی ہے۔
کمیشن نے سروے کے تین علاقوں السویرقیہ، المویھیہ اور حاذۃ میں مجموعی طور پر 1774 آثارِ قدیمہ کی دریافتوں کو دستاویزی شکل دی۔ ان میں سے ہر مقام پر انسانی موجودگی کے ایسے پائیدار شواہد محفوظ ہیں جوصدیاں گزرنے کے باوجود برقرار رہے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق فیلڈ سروے ٹیموں نے آثار قدیمہ کے مزید 156 مقامات کو رجسٹر کیا جہاں مختلف ادوار کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ ان میں 461 آثار اسلامی دور کے ہیں۔ ثمودی دور کی 34 تحریریں اور 1259 چٹانی نقوش شامل ہیں۔
ماہرین آثار کی ٹیموں کی دریافت میں 11 پتھروں کی تعمیرات کے علاوہ 3 محلات اور عمارتوں کے کھنڈرات کے علاوہ قافلوں کی گزرگاہیں اور چار قدیم کنویں شامل ہیں۔
دریافت ہونے والے قدیم نقوش میں سب سے نمایاں چٹان پر حضرت عمر بن الخطاب ؓ  کا اسم گرامی ہے جبکہ ایک چٹان پر عہدِ رفتہ کی عربی شاعری کا ایک نمونہ بھی سامنے آیا جس سے اس علاقے کی تاریخی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔
ہیریٹیج کمیشن کا کہنا ہے کہ ’مملکت کے مختلف علاقوں میں آثارِ قدیمہ کی تلاش کے مراحل جاری ہیں جس کا مقصد خطے کی تاریخ کو نمایاں کرنا ہے جو مملکت کے وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

 

شیئر: