Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’فدک‘ کو دیواروں اور قلعوں کا شہر کیوں کہا جاتا ہے؟

فدک، حائل سے 250 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سات کلومیٹر تک سیاہ ناہموار جمے ہوئے لاوے کے پتھروں میں گِھرا ہوا قدیم گاؤں ’فدک‘ جسے آج الحائط کہہ کر بھی پکارتے ہیں، ’دیواروں اور قلعوں کا شہر‘ کہلاتا ہے۔
اِس کے دو حفاظتی دروازے شمال اور جنوب کی جانب واقع ہیں لیکن گاؤں کے اطراف میں قدیم قلعے اور دفاعی اعتبار سے مضبوط حصار آج بھی موجود ہیں اور اپنی شان و شوکت اور رعب و دبدبے کے ساتھ قائم ہیں۔
فدک، حائل سے 250 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں ہے۔ فدک کا گاؤں آج بھی اُس وراثت پر نازاں ہے جو اُسے یہاں کی شاداب زمین اور زرخیز مٹی کی خصوصیات کی بنا پر ملی ہے۔
زمانۂ قدیم میں اِس گاؤں کو فدک کہتے تھے مگر دورِ جدید میں اِس کو ’حائط النخل‘ یا ’کھجوروں کے درختوں کی دیوار‘ کا نام دیا گیا ہے۔ فدک اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث بھی مخصوص پہچان کا حامل ہے جس کی وجہ یہاں کھجور کے باغات کا کثرت سے پایا جانا، زمین کا انتہائی بارآور ہونا اور پانی کی بہتات ہے۔

کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری‘ کی جانب سے شائع کیے گئے مملکت کے انسائیکلوپیڈیا کے مطابق، الحائط، حائل ریجن میں قدیم ترین شہری مراکز میں سے ایک ہے۔
فدک وہ نام ہے جس کی بازگشت سینکڑوں برس پیچھے چلے جانے والے ماضی سے آج تک سنائی دیتی ہے۔ اِس کا اندارج اُن شہروں کی فہرست میں بھی ملتا ہے جنھیں بابل کے بادشاہ نیبونیدس نے چھٹی صدی عیسوی میں فتح کیا تھا۔ فدک کا حوالہ تاریخ کی کلاسیکی راویتوں اور جغرافیے کی اول اول لکھی جانے والی لغاتوں میں بھی ملتا ہے۔

زمانہ قبل از اسلام اور اسلام کی روشنی پھیلنے کے درمیان واقع تاریخ کا ریکارڈ رکھنے والا یہ مقام، آثارِ قدیمہ کے لیے خزانے سے کم نہیں۔ یہاں کے پتھروں پر ملنے والے ابتدائی نقوش اور کمزور ہو کر ڈھے جانے والے قلعوں سے لے کر قدیم کنوؤں اور روایتی کھیتوں تک بکھرے ہوئے نوادرات وہیں ہیں جہاں برسوں پہلے پائے جاتے تھے۔ فدک کے ثقافتی ورثے کی فراوانی اور انسانی گرہوں کا یہاں مسلسل قیام، ایک زندہ گواہی بن کر آج بھی یہاں موجود ہے۔

 

شیئر: