طائف کا قلعہ ’مروان‘ سعودی ریاست کی تعمیر اور اتحاد کا گواہ
قلعہ کے چار واچ ٹاورز تھے جو گولائی میں بنائے گئے تھے (فوٹو: ایس پی اے)
طائف کمشنری میں قلعہ مروان کا شمار اہم و تاریخی مقامات میں ہوتا ہے۔ یہ قلعہ پہلی سعودی ریاست کے مرحلے میں انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق جب حجاز میں سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا آغاز ہوا تھا ایسے میں قلعہ مروان کا کردار امن عامہ کے حوالے سے اہم تھا۔
طائف کا کردار ماضی کے تاریخی ادوار اہم رہا جب عثمان بن عبدالرحمن المضایفی العدوانی نے امام عبدالعزیز بن محمد بن سعود کی بیعت کی۔ طائف کو حجاز میں تشکیل پانے والی پہلی سعودی ریاست میں ضم کرنے میں کردار ادا کیا اور کئی برسوں تک یہاں کا انتظام سنبھالا۔
سعودی اولین ریاست کی تاریخ میں عثمان بن عبدالرحمن الضایفی العدوانی اہم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، ان کا کردار محض سیاسی و عسکری ادوار پر ہی محیط نہیں تھا بلکہ سماجی و ثقافتی حوالوں سے بھی اہم تھا۔ وہ بہترین مدبر اور معاشرتی حوالوں سے انتہائی مستحکم شخصیت کے مالک تھے۔

المضایفی نے شمالی طائف کے گاوں العبیلا میں پرورش پائی اور نجدی طرز پر ان کی بودو باش ہوئی جس کی وجہ سے وہ معاشرے میں انتہائی قدر و منزلت کے حامل تھے۔
شہزادہ مقرن یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد ڈاکٹر صالح السلمی نے بتایا ’عثمان الضایفی درعیہ سے شمالی طائف کے اپنے آبائی علاقے میں سرکاری عہدہ لے کر آئے اور مروان قلعہ کو مرکزی دفتر کے طور پر منتخب کیا۔‘
انہوں نے طائف اور تربہ علاقے کے معززین کو جمع کیا اور سماجی و ثقافتی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کے کام کا آغاز کیا جس کے اثرات سعودی تاریخ کے تمام مراحل میں منتقل ہوگئے۔

تاریخ دان ڈاکٹرالسلمی نے بتایا’ انہیں جو ذمہ داری تفویض کی گئی تھی اس کے تحت انہوں نے سعودی اولین ریاست میں طائف کی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ریاست کے جھنڈے تلے مکہ اور دیگر خطوں کو شامل کرنے کی راہ ہموار کرنے کا آغاز کیا۔‘
طائف کے ایک اور محقق عبداللہ القثامی کا کہنا تھا ’قلعہ مروان، طائف کی کمشنری کے شمال میں سوق عکاظ کے قریب ہے۔ یہ قلعہ 19 صدی سے تعلق رکھتا ہے جس کی تعمیر اینٹوں اور چکنی مٹی سے کی گئی تھی۔‘
قلعہ کے چار واچ ٹاورز تھے جو گولائی میں بنائے گئے تھے جبکہ اس کے تین مرکزی دروازے تھے، اس کے ساتھ مسجد اور گھر بھی تھا۔ قلعہ کی بناوٹ دفاعی اور انتطامی تھی۔

طائف کی تاریخ کے سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر لطیفہ العدوانی نے کہا’ عثمان الضایفی اپنی حکمت و سیاسی دانشمندی کی وجہ سے مشہور تھے وہ کسی مزاحمت کے بغیر طائف میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور طائف کو حجاز میں سعودی اثر و رسوخ کے حوالے سے گیٹ وے بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔‘
’ قلعہ مروان ایک ایسے بنیادی مرحلے کا تاریخی گواہ ہے جس نے ریاست کی تعمیر اور اتحاد و وفاداری کی اقدار کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔‘
