مونگے کی چٹانیں اور خوبصورت آبی حیات: بحیرۂ احمر غوطہ خوری کے لیے دنیا کے بڑے مقامات میں سے ایک
غوطہ خور، سمندری وسائل کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
جدہ کی ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ بحیرۂ احمر کا منفرد سمندری ماحول غوطہ خوری کے لیے اہم مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
غوطہ خوری ایک اہم پروفیشن کے طور معیشت اور سیاحتی شعبے کا اہم ستون بن گیا ہے جو سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں بھی اہمیت کا حامل ہے۔
سعودی خبررساں ایجسی ایس پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے غوطہ خوری کے انسٹرکٹر رائد الغامدی نے بحیرۂ احمر کے بارے میں بات کی جو دنیا کے سب سے بڑے غوطہ خوری کے مقامات میں سے ایک ہے۔
اس کا شفاف پانی، منفرد حیاتیاتی تنوع اور مونگے کی چٹانیں غوطہ خوری کے شوقین افراد، ریسرچرز اور سمندری ماحول سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے غیر معمولی ماحول فراہم کرتا ہے۔
رائد الغامدی نے کہا کہ ’جدہ کے ساحل اپنی قدرتی خوبصورتی اور سیاحتی کشش کے باعث مملکت میں غوطہ خوری کے اہم مراکز میں شمار ہوتے ہیں۔ سال کے بیشتر حصے میں یہاں کا معتدل موسم، سازگار سمندری ماحول، غوطہ خوری کے جدید مراکز اور معیاری سمندری خدمات اسے اس سرگرمی کے لیے ایک منفرد اور پسندیدہ مقام بناتے ہیں۔‘

ان کے مطابق جدہ کے ساحل کے قریب غوطہ خوری کے مقامات میں ابوطیر اور بیاضہ نمایاں ہیں جو ماحولیاتی تنوع کے باعث غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان مقامات پر سمندری کچھوے اور انواع و اقسام کی مچھلیاں ہوتی ہیں جبکہ بعض موسموں میں ڈولفنز بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غوطہ خور، ماحولیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے اور سمندری وسائل کے تحفظ میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
غوطہ خوری کے سیزن کے حوالے سے الغامدی نے بتایا کہ ’موسمِ بہار اور خزاں سب سے موزوں مانے جاتے ہیں جبکہ بحیرۂ احمر کی مونگے کی چٹانیں ماحولیاتی تبدیلیوں سے مطابق پیدا کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتی ہیں اور سمندری ماحولیاتی نظام کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جدہ اور بحیرۂ احمر کے قدرتی اثاثے، جدید انفراسٹرکچر کے ساتھ مملکت کو ایک معروف غوطہ خوری اور سمندری سیاحتی مقام کے طور پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
