اسلام آباد: ایچ نائن بازار میں ہر سال آگ کیوں لگتی ہے؟
بدھ 24 جون 2026 20:40
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اسلام آباد کے ایچ نائن بازار میں آج سورج کی روشنی کسی رونق کے بجائے ایک ویرانی پر پڑ رہی تھی۔فضاء میں دھوئیں کی تیز اور تلخ بو پھیلی ہوئی تھی اور میں جیسے ہی میں بازار کے داخلی راستے پر پہنچا تو روز مرہ کی چہل پہل اور سبزی و فروٹ سیکشن سے آنے والی مخصوص تازگی غائب تھی۔
وہاں اب صرف کچھ جلنے کی بو تھی جو ہوا کے ساتھ ہر سو پھیل رہی تھی۔
جو تاجر کل تک اپنے سٹال سجائے گاہکوں کا انتظار کرتے تھے، وہ آج راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو جانے والی دکانوں کے ملبے سے اپنی عمر بھر کی کمائی کی بچی کچی چیزیں چن رہے تھے۔
ان کے چہروں پر اب کسی گاہک کی آمد کی امید نہیں، بلکہ صرف تھکاوٹ، بے بسی اور مایوسی کے گہرے سائے نمایاں تھے۔
وفاقی دارالحکومت کے اس سب سے بڑے سستے بازار میں گزشتہ شب اچانک بھڑکنے والی آگ چند ہی گھنٹوں میں 400سے زائد دکانوں اور سینکڑوں چھوٹے اسٹالز کو نگل کر یہاں کے دکانداروں کو سڑک پر لے آئی ہے۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ کپڑوں کے سٹال سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے بازار کے نو سیکشنز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن تاجروں کا کروڑوں روپے کا مالی نقصان ہو گیا ہے۔
آتشزدگی کے اس تازہ واقعے نے جہاں بازار کے تاجروں کو مالی طور پر مفلوج کیا ہے، وہاں وہ شدید مایوسی کا شکار بھی ہیں۔ اب وہ اس آگ کو محض ایک اتفاقی حادثہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں، بلکہ اسے شک و شبہات کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
بازار کے ایک متاثرہ تاجر عمر خان نے اردو نیوز کو بتایاکہ ’میں دن بھر کی مشقت کے بعد دکان بند کر جیسے ہی گھر پہنچا، اور ابھی پانی کا گلاس ہی ہاتھ میں لیا تھا کہ موبائل فون پر بازار میں آگ لگنے کی اطلاع عمر خان کے مطابق وہ فوراً بازار کی طرف بھاگے لیکن تب تک سب کچھ راکھ ہو چکا تھا۔‘
’عمر خان نے واقعے پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اب یہاں ہر سال آگ لگتی ہے، یہ کوئی حادثاتی آگ نہیں لگ رہی بلکہ اس کے پیچھے کوئی سوچی سمجھی سازش ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر بار ایسے واقعات کی تحقیقات کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے لیکن آج تک کسی بھی انکوائری رپورٹ کو سامنے نہیں لایا جا سکا اور نہ ہی اصل حقائق واضح کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب، اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے تاجروں کے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ انتظامیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے کی شفاف انکوائری کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات مکمل کر کے تین دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ بازار میں غیر قانونی ایل پی جی سلنڈرز کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں ہوتی ہیں اور صرف گزشتہ روز ہی نو دکان داروں سے سلنڈر ضبط کر کے متعلقہ اُنہیں گرفتار کیا گیا ہے۔
تاجروں کا دعویٰ ہے کہ بازار میں آگ رات نو بج کر 35 منٹ پر لگی جبکہ فائر بریگیڈ کی ٹیم ساڑھے 10 بجے جائے وقوعہ پر پہنچی۔ تاجروں نے الزام عائد کیا کہ عملہ ایک گھنٹے سے بھی زائد تاخیر سے پہنچا، اور اسی غفلت کی وجہ سے ان کے نقصان میں اضافہ ہوا۔
تاہم دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے تاجروں کے اس موقف کی بھی نفی کی ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ نے بروقت رسپانس دیا اور جلد ہی آگ پر قابو پانے کا عمل شروع کر دیا گیا تھا، البتہ شدت زیادہ ہونے کے باعث کولنگ کا عمل اگلی صبح تک جاری رہا۔
بازار میں بار بار لگنے والی اس آگ کے بعد اب تاجر برادری اسے محض اتفاق ماننے کو تیار نہیں ہے۔
ایچ نائن اتوار بازار میں ہی کپڑوں کا کاروبار کرنے والے ایک اور تاجر اخلاق اعوان نے اردو نیوز کو صورتحال بتاتے ہوئے کہا کہ ہر سال جب ہم محنت کر کے اپنی دکانیں دوبارہ اس قابل بناتے ہیں کہ کچھ منافع کما سکیں، تو یہاں پراسرار طریقے سے آگ لگ جاتی ہے اور ہماری کمر ٹوٹ جاتی ہے۔
اُنہوں نے ماضی کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سال 2015 کے بعد سے اب تک اس بازار میں سات بار آگ لگ چکی ہے۔ گزشتہ برس بھی یہاں ہولناک آگ لگی تھی اور اب صورتحال یہ ہے کہ ہر ایک سے دو سال کے وقفے سے یہاں ایسے ہی پراسرار حادثات ہوتے ہیں، جن میں سینکڑوں دکانیں جل کر راکھ ہو جاتی ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔
اتوار بازار میں بار بار لگنے والی اس آگ کے پیچھے تاجروں نے اب ایک نئی وجہ بھی سامنے لائی ہے۔ کچھ تاجروں نے اس آتشزدگی کو سازش قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ آگ جان بوجھ کر لگائی جاتی ہے تاکہ موجودہ تاجروں کا نقصان ہو، وہ یہاں سے کاروبار چھوڑ کر بھاگ جائیں اور انتظامیہ نئے لوگوں کو دکانوں کے ٹینڈر جاری کر سکے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسلام آباد کا یہ مصروف ترین بازار یوں شعلوں کی لپیٹ میں آیا ہو۔ اگر ماضی کے ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے، تو گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس اتوار بازار میں آتشزدگی کے نصف درجن کے قریب بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
اس سے قبل جولائی 2024 میں لگنے والی آگ نے 600 سے زائد اسٹالز کو راکھ کر دیا تھا، جبکہ سال 2022، 2019 اور 2017 میں بھی یہاں ایسے ہی حادثات رونما ہوئے، جن میں ہر بار سب سے زیادہ نقصان کپڑوں اور جوتوں کے سیکشن کو پہنچا۔
بار بار ہونے والے ان حادثات نے اب انتظامیہ کی کارکردگی اور یہاں کے سیکیورٹی انتظامات پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایک طرف کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا کہنا ہے کہ بازار میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر وقت فائر ٹینڈر کی گاڑی موجود رہتی ہے اور سیکیورٹی کے دیگر انتظامات بھی مکمل ہیں، تو دوسری جانب متاثرہ تاجروں نے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔
تاجر برادری کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات بازار میں موجود فائر بریگیڈ کی گاڑی تاخیر سے پہنچی، جس کے باعث امدادی کارروائیاں ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوئیں۔ تاجروں کے مطابق باہر سے فائر ٹینڈرز کو پہنچنے میں بھی زیادہ وقت لگا، جس کی وجہ سے آگ کو پھیلنے کا موقع ملا اور نقصان میں حد درجہ اضافہ ہوا۔
انتظامیہ نے مزید واضح کیا ہے کہ آگ بظاہر کسی (تکنیکی یا حادثاتی) وجہ سے ہی لگی ہے اور اس کی جلد رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی۔ حکام کے مطابق انکوائری کمیٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ اگلی مرتبہ ایسے واقعات کا سدِباب کیا جا سکے۔
