یورپ ہیٹ ویو کی لپیٹ میں، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے
یورپ ہیٹ ویو کی لپیٹ میں، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے
جمعہ 26 جون 2026 8:54
حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی کے معمولات کو بدلیں (فوٹو: اے ایف پی)
یورپ شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہے جبکہ برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ نے جون کے مہینے میں درجہ حرارت کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ شدید گرمی نہ صرف درجنوں جانیں لے چکی ہے بلکہ بجلی کی فراہمی میں خلل، سکولوں اور ثقافتی مقامات کی بندش کا سبب بھی بنی ہے۔
حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی کے معمولات کو بدلیں تاکہ گرمی کے اثرات سے بچ سکیں۔ پیرس پولیس نے اعلان کیا کہ جمعے کو دوپہر سے عوامی مقامات پر شراب نوشی پر پابندی ہوگی۔
پیرس میں بدھ کو درجہ حرارت 40.9 ڈگری سیلسیس تک پہنچا جو جون کا نیا ریکارڈ ہے۔ جمعرات کو بھی شہر کے جنوبی حصے میں درجہ حرارت 40 ڈگری کے قریب رہا۔ برطانیہ میں جمعرات کو 36.7 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو جون کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ محکمہ موسمیات نے جنوبی انگلینڈ کے لیے مسلسل تیسرے دن ریڈ الرٹ جاری کیا، جو تاریخ میں پہلی بار ہوا۔ اسی طرح نیدرلینڈز کے لیے بھی وارننگ دی گئی۔
سوئٹزرلینڈ میں جمعرات کو درجہ حرارت 38 ڈگری تک پہنچا جو جون میں پہلی بار اتنا بلند ہوا۔ جرمنی، آسٹریا، اٹلی اور چیک ریپبلک میں بھی آنے والے دنوں میں شدید گرمی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ فرانس میں 2003 کی گرمی کی لہر کے دوران تقریباً 15 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے، اس بار حکام خاص طور پر درمیانی عمر کے افراد کو خبردار کر رہے ہیں کہ وہ احتیاط کریں۔ فرانس میں اب تک 48 افراد ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں کیونکہ وہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے پانی میں گئے تھے۔ جرمنی میں بھی 20 سے زائد افراد تیراکی کے دوران جان سے گئے۔
زرعی شعبہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ فرانس میں سبزیاں، پھل، اناج اور مرغی کی پیداوار کم ہونے کا خدشہ ہے جس سے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ اٹلی میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 15 لاکھ مزدوروں کی صحت خطرے میں ہے، خاص طور پر کسان، تعمیراتی مزدور اور کورئیرز۔ کئی علاقوں میں دن کے سب سے گرم اوقات میں باہر کام کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
فرانس میں 13 ہزار سے زائد سکول بند یا محدود شیڈول پر ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
یہ گرمی ایک موسمیاتی نظام ’اومیگا بلاک‘ کی وجہ سے ہے جو درجہ حرارت کو معمول سے 18 ڈگری زیادہ کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سب موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی سربراہ نے کہا کہ یہ بحران فوسل فیول کے استعمال کا نتیجہ ہے اور اب یورپ اس کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ سکول بند ہو رہے ہیں، بیمار اور کمزور افراد مر رہے ہیں، اور معیشتیں دباؤ میں ہیں۔
یورپ میں ایئر کنڈیشننگ عام نہیں ہے لیکن ایشیائی کمپنیوں جیسے سام سنگ، میڈیا اور مٹسوبشی کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فرانس میں 13 ہزار سے زائد سکول بند یا محدود شیڈول پر ہیں جبکہ برطانیہ میں بھی ہزاروں سکول متاثر ہوئے ہیں۔ کلاس رومز میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے اوپر جا رہا ہے اور بچے اور اساتذہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ امریکی سیاحوں نے بھی کہا کہ وہ گرمی کی شدت کی وجہ سے پیرس کو جلد چھوڑنے پر مجبور ہیں۔