سابق گینگ لیڈر ڈوئن ’کیفی ڈی‘ ڈیوس کے خلاف ریپر ٹوپاک شکور کے قتل کی سازش کے الزام میں مقدمے کی سماعت پیر کو شروع ہوگئی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق امریکہ کے ہائی پروفائل اور طویل عرصے تک حل نہ ہونے والے اس مقدمے کا آغاز قتل کے تقریباً 30 سال بعد ہوا ہے۔
سماعت کا سلسلہ تقریباً ایک ماہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ تاہم امکان ہے کہ مقدمے سے یہ واضح نہ ہوسکے کہ 7 ستمبر 1996 کی رات لاس ویگاس میں فائرنگ کرکے کیلیفورنیا کے مشہور ہپ ہاپ فنکار کو قتل کرنے والی گولی کس نے چلائی تھی۔ ٹوپاک اس وقت مائیک ٹائسن کی باکسنگ فائٹ دیکھنے کے لیے لاس ویگاس میں موجود تھے۔
مزید پڑھیں
استغاثہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ ساوتھ سائڈ کمپٹن کرپس کے سابق سربراہ ڈوئن ’کیفی ڈی‘ ڈیوس نے قتل کا حکم دیا تھا اور وہی پستول فراہم کی تھی جس سے ٹوپاک کو گاڑی پر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔
مقدمے کا آغاز پیر کو جیوری کے انتخاب سے ہوا، جو رواں ہفتے کے اختتام تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
63 سالہ ڈوئن ڈیوس عدالت میں ہلکے نیلے رنگ کی قمیض اور نیلی ٹائی پہنے پیش ہوئے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں بغیر پیرول کے عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

ٹوپاک، جنہیں ’ٹوپیک‘ اور ’2Pac‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، کا قتل امریکہ کے سب سے مشہور حل نہ ہونے والے مقدمات میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے مداح تین دہائیوں سے اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ انہیں کس نے اور کیوں قتل کیا۔
25 سال کی عمر میں ہلاک ہونے والے ٹوپاک ایسٹ کوسٹ اور ویسٹ کوسٹ کے درمیان جاری ہپ ہاپ کی شدید کشمکش میں ایک اہم نام تھے۔
'کیلیفورنیا لو‘ اور ’آل آئیز آن می‘ جیسے مشہور گانوں کے لیے پہچانے جانے والے ٹوپاک بلیک پینتھر پارٹی سے وابستہ ایک والد کے بیٹے تھے۔ ان کی پرورش نیویارک کے علاقے ہارلم اور بالٹی مور میں ہوئی، تاہم لاس اینجلس میں قائم ڈیتھ رو ریکارڈز سے معاہدے کے بعد وہ جلد ہی کیلیفورنیا کے باغی مزاج ریپر کے طور پر پہچانے جانے لگے۔
مقدمے میں ڈیتھ رو ریکارڈز اور بیڈ بوائے ریکارڈز کے درمیان جاری دشمنی بھی زیرِ بحث آئے گی۔ ڈیتھ رو ریکارڈز کی بنیاد میریون ’سوج‘ نائٹ نے رکھی تھی، جبکہ ایسٹ کوسٹ کے بیڈ بوائے ریکارڈز کے بانی شان ’ڈیڈی‘ کومبس تھے، جہاں کرسٹوفر ’دی نوتوریئس بی آئی جی‘ والیس بھی نمایاں فنکار تھے۔ والیس کو مارچ 1997 میں قتل کردیا گیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق ڈیتھ رو ریکارڈز کو لاس اینجلس کے گینگ ’ماب پیرو‘ کی حمایت حاصل تھی، جو وسیع تر ’بلڈز‘ اتحاد کا حصہ تھا۔ سوج نائٹ کے بھی اس گروپ سے تعلقات تھے۔
دوسری جانب بیڈ بوائے ریکارڈز نے ڈیتھ رو کے حریف گروپ ’ساوتھ سائڈ کمپٹن کرپس‘ کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے خدمات حاصل کی تھیں، جس کی قیادت ڈوئن ڈیوس کرتے تھے۔
مائیک ٹائسن کی فائٹ کے بعد ایم جی ایم گرینڈ کیسینو سے نکلتے ہوئے سوج نائٹ اور ٹوپاک نے کرپس کے رکن اور ڈوئن ڈیوس کے بھتیجے اورلینڈو ’بیبی لین‘ اینڈرسن کو مبینہ طور پر ڈیتھ رو کے ایک ملازم پر حملے کے بدلے میں تشدد کا نشانہ بنایا۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد ڈیوس نے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔
اسی رات بعد میں ایک سفید رنگ کی کیڈی لک گاڑی، جس میں ڈیوس، اینڈرسن اور دیگر افراد سوار تھے، لاس ویگاس میں ٹوپاک کی گاڑی کے قریب آکر رکی۔ کیڈی لک سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ٹوپاک شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں دم توڑ گئے۔

’متنازع‘ خودنوشت نے کیس دوبارہ کھول دیا
شواہد کی کمی کے باعث کئی دہائیوں تک قتل کی تحقیقات میں کوئی خاص پیش رفت نہ ہوسکی۔ تاہم 2019 میں ڈیوس کی خودنوشت شائع ہونے کے بعد یہ کیس دوبارہ زندہ ہوا۔
کتاب میں ڈیوس نے لکھا کہ وہ کیڈی لک کی اگلی نشست پر بیٹھے تھے اور انہوں نے پستول پچھلی نشست پر موجود افراد کو دی تھی۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ٹوپاک پر فائرنگ کس نے کی۔
اس رات کیڈی لک میں موجود دیگر تمام افراد اب انتقال کرچکے ہیں۔
ڈیوس کی کتاب میں کیے گئے انکشافات ان بیانات سے بھی مطابقت رکھتے تھے جو وہ اس سے قبل صحافیوں کو دے چکے تھے۔ تاہم اس بار انہی بیانات نے انہیں مشکل میں ڈال دیا اور ستمبر 2023 میں انہیں گرفتار کرلیا گیا۔
ڈیوس نے بعد میں اپنے مؤقف سے رجوع کرتے ہوئے عدالت میں خود کو بے قصور قرار دیا۔
مارچ 2025 میں جیل سے اے بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈیوس نے کہا، ’میں بے قصور ہوں۔ میں نے کسی کو قتل نہیں کیا، کبھی کسی کو قتل نہیں کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں‘ اور ’وہ مجھے لاس ویگاس میں موجود بھی ثابت نہیں کرسکتے۔‘
ڈیوس اب مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ٹوپاک کے قتل کی رات وہ لاس اینجلس میں تھے اور انہوں نے اپنی خودنوشت کبھی پڑھی ہی نہیں۔ ان کے مطابق کتاب کے شریک مصنف نے فروخت بڑھانے کے لیے ان کے بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔
ڈیوس نے کہا، ’میں نے اسے اپنی زندگی کی تفصیلات بتائی تھیں۔ اس نے اپنی چھوٹی سی تحقیق کی اور خود ہی کتاب لکھ دی۔‘
مقدمے سے قبل ڈیوس کے وکلا نے کوشش کی کہ خودنوشت کو بطور ثبوت پیش کرنے سے روکا جائے۔ انہوں نے 2008 میں پولیس کو دیے گئے ڈیوس کے اس انٹرویو کو بھی شواہد کا حصہ بنانے کی مخالفت کی، جس میں وہ قتل کے گواہ کے طور پر بیان دے رہے تھے، تاہم وہ کامیاب نہ ہوسکے۔












