العرضہ: جذبات اور ثقافتی ورثے کا تخلیقی اظہار
الباحہ ریجن میں العرضہ ایک ایسی روایتی فن ہے جو لوگوں کی روزمرہ زندگی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ یہ تخلیقی اظہار کا ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعے جذبات اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ اپنی ایک مخصوص زبان بھی رکھتی ہے جو تال، جسمانی حرکات اور اشاروں سے تشکیل پاتے ہیں۔
سعودی عریبین سوسائٹی فار کلچر اینڈ آرٹس، الباحہ شاخ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر علی خميس البيضانی نے وضاحت کی کہ العرضہ صدیوں پرانی ایک ثقافتی ورثہ اور روایت ہے جو اس معاشرے کے ورثے اور شناخت کی عکاسی کرتی ہے اور جسے آباؤ اجداد نسل در نسل منتقل کرتے آئے ہیں۔ ’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس فن میں تبدیلی آتی گئی اور اپنی موجودہ پُرجوش شکل اختیار کی۔ یہ روایت قدیم رسم و رواج کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور شاعروں کی فنکارانہ صلاحیتوں کی بھی عکاسی کرتی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ اس خطے میں لوک فنون کے 12 گروپس موجود ہیں جن میں الباحہ کے مختلف گورنریٹس سے تعلق رکھنے والے 350 سے زیادہ ارکان شامل ہیں۔ سوسائٹی ان روایتی فنون کی دستاویز بندی اور احیا کے لیے بھی کام کر رہی ہے جو وقت کے ساتھ معدوم ہوتے گئے جن میں المھشوش اور السامر شامل ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق الباحہ شاخ ان فنون کے لیے تہواروں اور خصوصی تقریبات کا اہتمام کرتی ہے تاکہ خطے میں قومی، سماجی اور سیاحتی مواقع کے دوران ان کی موجودگی بحال کی جا سکے اور ان کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔

سوسائٹی کے لوک فنون کے گروپ کے سربراہ فیصل وازع نے وضاحت کی کہ العرضہ میں ایک ساتھ پرفارمنس مخصوص روایتی لباس اور ربط نمایاں ہوتا ہے۔ اس پرفارمنس میں عموماً ایک یا ایک سے زیادہ شاعر شامل ہوتے ہیں جن کے ساتھ روایتی الزیر ڈھول بھی ہوتا ہے۔
فنکاروں کی تعداد مقرر نہیں ہوتی اور وہ قطاروں کی شکل میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اور وہ پرفارمنس کے دوران تلواریں، رائفلیں یا خنجر بھی تھامے ہوتے ہیں۔

فنکار جوڑیوں کی صورت میں ہم آہنگ قدم اٹھاتے ہوئے حرکت کرتے ہیں، ایک دائرہ بناتے ہیں اور پھر دوبارہ ایک قطار کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ میدان کے وسط میں فنکار ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور مرکزی فنکاروں کی پرفارمنس کی پیروی کرتے ہیں جس سے ایک منظم اور دلکش اجتماعی رقص کا منظر تشکیل پاتا ہے۔
پرفارمنس کے دوران ایک موقع پر شاعرانہ تبادلے کے لیے وقفہ کیا جاتا ہے جہاں شعرا برجستہ اور فی البدیہہ اشعار پیش کرتے ہیں۔ اس شعری مقابلے کے بعد دوبارہ دائرے کی شکل میں اجتماعی پرفارمنس کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔