Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یورپ میں گرمی کی شدید لہر، فرانس میں دو بچوں سمیت 18 افراد جان سے گئے

فرانس میں گرمی کی شدید لہر اور اس سے جڑے مسائل کے باعث کم سے کم 18 افراد جان سے گئے ہیں جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔
برطانوی خبر رساں ادراے روئٹرز کے مطابق چند روز سے یورپی ممالک سخت گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور پیر کو درجہ حرارت بلند ترین سطح تک پہنچا۔
فرانس میں سکولوں کو بند کیا گیا ہے یا پھر ان کے اوقات تبدیل کیے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں ماہ کے دوران گرمی مزید بھی بڑھ سکتی ہے۔
پیر کو بورڈآکس شہر میں درجہ حرارت 41 اعشاری نو ڈگری سیلسیس (107 اعشاریہ چار ڈگری فارن ہیٹ) تک گیا جس پر پچھلے برس کے اگست کے مہینے کا ریکاڈ ٹوٹ گیا جبکہ وسطی فرانس کے شہر پوئیٹریز میں 41 اعشاریہ دو سیلسیس تک پہنچا جو 1947 کے بعد اس علاقے میں پڑنے والی اب تک کی سب سے زیادہ گرمی تھی۔
علاوہ ازیں سپین کے نسبتاً ٹھنڈے سمجھے جانے شہر سین سباسچیئن میں پیر کو درجی حرات 40 ڈگری سیلسیس تک گیا اور روئٹرز کلائمیت مانیٹر کا کہنا ہے کہ یہ اس شہر میں روایتی طور پر پائے جانے والے موسم سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ اپنے روایتی موسم سے کافی دور ہوتا جا رہا ہے ۔

سپین کے شہر سین سباسچیئن میں درجہ حرارت معمول کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ بڑھا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے اپریل میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ یورپ عالمی سطح پر بڑھنے والی گرمی کے مقابلے میں تقریباً دو گنا اضافے کے ساتھ گرم ہو رہا ہے۔
فرانس کے جنوب مشرقی شہر کارپینٹراس میں دو بچے اس وقت جان سے گزرے جب وہ ایک ایسی گاڑی کے اندر موجود تھے جو دھوپ میں کھڑی تھی، واقعے کے بارے میں زیادہ تفصیلات معلوم نہیں ہو سکی ہیں تاہم جب ان کی والدہ گاڑی کے پاس پہنچی تو دو اور چار سالہ بچے بے ہوش تھے، ان کے شور مچانے پر لوگ اکٹھے اور امدادی کارکن بھی پہنچے جنہوں نے بچوں کو ہوش میں لانے کی کوششیں کیں تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
اسی طرح بورڈآکس کے سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں پیر کو ایسے تین افراد گرمی کی وجہ سے انتقال کر گئے جن کی عمریں 80 اور 95 برس کے درمیان تھیں۔

اس وقت یورپی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور ماہرین نے مزید درجہ حرارت بڑھنے کی پیش گوئی کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

سخت گرمی کی وجہ سے لوگ ٹھنڈے اور تیراکی کے مقامات کا رخ کر رہے ہیں تاہم سول ڈیفنس کے ترجمان جیروم بولینگر نے خبردار کیا ہے کہ صرف انہی مقامات پر تیراکی کی جائے جہاں نگرانی کا نظام موجود ہو۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیر کے روز وہ 13 افراد مختلف مقامات پر نہاتے ہوئے ڈوب گئے جنہوں نے گرمی سے بچنے کے لیے وہاں کا رخ کیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے برس موسم گرما میں ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی شرح میں 172 فیصد دیکھنے میں آیا تھا کیونکہ اس وقت بھی گرمی زیادہ تھی اور لوگ ٹھنڈے مقامات کی طرف جا رہے تھے۔

فرانس میں گرمی کی وجہ سے سکول بند کر دیے گئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

لندن کے امپیریل کالج کے شعبہ موسم و آب وہوا سے وابستہ ریسرچ ایسوسی ایٹ کلیئر بارنس کا کہنا ہے کہ یورپ کو وسیع پیمانے پر متاثر کرنے والی گرمی کی اس لہر کو اومیگا بلاک کے طور پر جانا جاتا ہے کیونکہ سخت گرمی کی صورت میں یہ یونانی حرف جیسی شکل اختیار کر لیتی ہے یعنی اس صورت میں درمیان میں انتہائی گرم ہوا کا دباؤ ہوتا ہے جبکہ اس کے اطراف میں نسبتاً ٹھنڈی ہوا ہوتی ہے۔
شدید گرمی کی وجہ سے فرانس کے علاوہ دوسرے ممالک میں گرم علاقوں میں سکول بند کر دیے گئے ہیں جبکہ کئی ایونٹس منسوخ کیے جانے کے علاوہ کچھ ٹرین سروسز بھی معطل کی گئی ہیں۔

شیئر: