Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانی سکیورٹی فورسز کا پاک، افغان سرحدی علاقوں میں کارروائیاں، 29 دہشت گرد ہلاک کر دیے: عطا تارڑ

پاکستان کے وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد، سکیورٹی فورسز نے پاکستان،افغانستان سرحد کے ساتھ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر زمینی کارروائی کی، جس کے بعد سرحدی علاقوں میں جماعت الاحرار اور ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایکس پر جاری بیان میں وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ کارروائیوں میں مجموعی طور پر 29 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
28  جون 2026 کو سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں پاکستان،افغانستان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے ایک گروہ کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی۔ مؤثر اور پیشہ ورانہ انداز میں کی گئی کارروائی کے نتیجے میں انڈین سرپرستی میں سرگرم جماعت الاحرار کا اہم کمانڈر خان فروش عرف زبل اپنے تین ساتھی دہشت گردوں سمیت مارا گیا، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن ’غضبُ الحق‘ کے تسلسل میں، مستند انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر 28 اور 29 جون کی درمیانی شب پاکستان،افغانستان سرحدی علاقے میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو بھی انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا۔
’ان کارروائیوں کے دوران پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں قائم تین دہشت گرد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے، جہاں 25 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ان مراکز اور پناہ گاہوں میں موجود بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔‘
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے کوششیں کی ہیں، تاہم اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔
وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی تاکہ بیرونی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔‘

شیئر: