قلات: ایک ماہ قبل اغوا ہونے والے اے ایس ایف افسر کی تشدد زدہ لاش برآمد
قلات: ایک ماہ قبل اغوا ہونے والے اے ایس ایف افسر کی تشدد زدہ لاش برآمد
جمعرات 25 جون 2026 8:18
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
پولیس کے مطابق اے ایس ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد وسیم احمد 20 مئی کو اپنے ساتھی کے ہمراہ کوئٹہ سے کراچی جا رہے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان کے ضلع قلات سے ایک ماہ قبل اغوا ہونے والے ایئرپورٹس سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی تشدد زدہ لاش برآمد ملی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق 58 سالہ محمد وسیم کا تعلق کراچی سے تھا۔ انہیں رواں سال 20 مئی کو ایک ساتھی سمیت قلات سے تقریباً 40 کلومیٹر دور محمد تاوا سے اس وقت نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا جب وہ کوئٹہ سے کراچی جارہے تھے۔
واقعے کے بعد سی ٹی ڈی پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جبکہ مغوی افسر اور ان کے ساتھی کی بازیابی کے لیے پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سرچ آپریشن شروع کیا گیا تھا تاہم انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔
قلات ڈویژن انتظامیہ کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ کہ بدھ کو محمد وسیم کی لاش قلات کے پولیس تھانہ صدر کی حدود میں توک نامی علاقے سے برآمد ہوئی۔
قلات پولیس کنٹرول نے بھی واقعہ کی تصدیق کی اور بتایا کہ لاش کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ سے تقریباً دو کلومیٹر مشرق کی جانب ایک ویران مقام سے ملی۔ پولیس کے مطابق لاش پر تشدد کے نشانات موجود تھے۔
پولیس نے لاش کو ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال قلات منتقل کیا اور پھر ضروری کارروائی کے بعد کراچی روانہ کردی۔
پولیس کے مطابق اے ایس ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد وسیم احمد 20 مئی کو اپنے ساتھی کے ہمراہ کوئٹہ سے کراچی جا رہے تھے۔ وہ ایک نجی گاڑی میں سفر کر رہے تھے جس میں دو ڈرائیور بھی موجود تھے۔
راستے میں گاڑی شاہراہ سے اتر کر قلات کے علاقے محمد تاوا میں واقع چیری کے باغات کی جانب گئی جہاں سے چیری خرید کر کراچی منتقل کی جانی تھی۔ پولیس کے مطابق کوئٹہ کراچی شاہراہ پر چھوٹی گاڑیاں چلانے والے ڈرائیور اضافی آمدن کے لیے چیری کے ڈبے گاڑی میں لوڈ کرکے کراچی پہنچاتے پیں۔
قلات اور اس سے ملحقہ علاقے عسکریت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کے حوالے سے حساس سمجھے جاتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پولیس کا کہنا ہے کہ جب گاڑی محمد تاوا کے علاقے میں پہنچی تو نامعلوم مسلح افراد نے اسے روک لیا۔ مسلح افراد شناخت کے بعد محمد وسیم احمد اور ان کے ساتھی کو اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ گاڑی اور دونوں ڈرائیوروں کو بعد میں چھوڑ دیا۔ ڈرائیوروں نے واقعے کی اطلاع صدر پولیس سٹیشن قلات میں دی جس کے بعد مغویوں کی تلاش شروع کی گئی۔
قلات اور اس سے ملحقہ علاقے عسکریت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کے حوالے سے حساس سمجھے جاتے ہیں اور یہاں سکیورٹی فورسز پر حملوں سمیت مختلف واقعات پیش آ چکے ہیں۔
اغوا کے اس واقعہ کی ذمہ داری بھی کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ذمہ داری قبول کی تھی۔
تاہم محمد وسیم احمد کے ہمراہ اغوا ہونے والے دوسرے شخص کے بارے میں تاحال واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔