کراچی: رینجرز کے دفتر پر حملے میں تین اہلکار جان سے گئے، تین عسکریت پسند ہلاک
کراچی کے علاقے موسمیات کے قریب یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ) کے مقامی ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے حملے میں رینجرز کے کم از کم تین اہلکار جان سے گئے جبکہ تین حملہ آور بھی مارے گئے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ڈان اخبار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے اخبار کو بتایا کہ سندھ رینجرز کے مقامی ہیڈکوارٹرز پر حملے میں تین دہشت گرد بھی مارے گئے گئے۔
روئٹرز کے ایک نمائندے کے مطابق جائے وقوعہ پر فائرنگ ختم ہو چکی ہے اور صورتحال اب پرامن ہے۔
اکتوبر 2024 میں چینی شہریوں کے قافلے کو نشانہ بنانے والے حملے کے بعد یہ کراچی میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں دو چینی شہری ہلاک ہوئے تھے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان کے بڑے شہروں میں ایسے حملے نسبتاً کم ہو گئے تھے، تاہم افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں عسکریت پسندی میں حالیہ اضافے نے یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ تشدد ایک بار پھر شہری مراکز تک پھیل سکتا ہے۔
عرب نیوز نے کراچی پولیس کے ایک سینیئر افسر کے حوالے سے بتایا کہ حملہ آوروں نے پہلے اپنی گاڑی دفتر کی بیرونی بیریکیڈ سے ٹکرائی، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ’دہشت گردوں نے اپنی گاڑی رینجرز کے دفتر کے بیرونی بیریکیڈ سے ٹکرائی، پھر دستی بم پھینکے۔ اس کے بعد تین یا چار حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے عمارت میں داخل ہو گئے۔‘
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ایک عینی شاہد بتا رہے ہیں کہ پہلے دھماکہ ہوا اس کے بعد فائرنگ شروع ہوئی۔
تاحال حکام کی جانب سے واقعے کی نوعیت، ممکنہ جانی نقصان یا ذمہ داروں سے متعلق کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
تاہم وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سید مراد علی شاہ نے موسمیات چورنگی کے پاس دھماکے کی آواز سننے اور فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رابطہ کرکے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
