Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اقلیتی نمائندوں نے چین کے نئے نسلی قانون کو ’ثقافتی نسل کُشی‘ قرار دے دیا

یورپ میں تبت کی نمائندہ تھنکے چکی نے نئے قانون کو شدید نتقید کا نشانہ بنایا ہے (فوٹو: تبت ڈاٹ نیٹ)
تبت اور اویغور کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ چین پر نئے قانون کو واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالیں اور اس کا مقصد اقلیتی برادریوں کی شناخت اور ثقافت کو مٹانا قرار دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایتھنک یونیٹی اینڈ پراگریس پروموشن نامی قانون جو یکم جولائی سے نافذالعمل ہو گا، کے بارے میں چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد نسلی گروہوں کے درمیان ’مشترکہ قومی شناخت قائم کرنا اور ہم آہنگی کو مضبوط‘ کرنا ہے۔
تاہم دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے الزام لگاتے ہیں کہ اس قانون کے ذریعے بیجنگ کو قانونی بنیاد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ہان اکثریت کو زبردستی ساتھ ملانے کی پالیسی  پر عمل کیا جا سکے۔
اس قانون میں پرتشدد دہشت گردانہ سرگرمیوں، نسلی علیحدگی پسندی کی سرگرمیوں یا مذہبی انتہاپسندی سے متعلق سرگرمیوں سے تعلق کو جرم قرار دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں انسانی شعبہ انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے رواں ماہ کے آغاز میں جنیور میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو خبردار کرتے ہوئے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ’اس سےے زبان، تعلیم، مذہب، ثقافت، اظہار رائے اور اجتماع کی آزادیوں پر مزید پابندیوں کا سبب بن سکتا ہے۔‘
جمعے کو انسانی حقوق کونسل کے ضمنی اجلاس میں تبت اور اویغور کے نمائندوں نے موقف اختیار کیا کہ اس قانون کے ذریعے ان کی ثقافتی، مذہبی اور لسانی شناخت کو جرم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

چین سرکاری طور پر 55 نسلی اقلیتوں کو تسلیم کرتا ہے جو مختلف سینکڑوں زبانیں بولتی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

’ثقافتی نسل کشی‘

یورپ میں دلائی لامہ اور مرکزی تبت ایڈمنسٹریشن (سی ٹی اے) کے نمائندہ تھنلے چکی نے اجلاس کے موقع پر کہا کہ ’تبت والوں کو اب مزید اپنی شناخت کے ساتھ زندہ رہنے کا حق نہیں رہے گا۔‘
انہوں نے اس قانون کو ایک ’ثقافتی نسل کشی‘ بھی قرار دیا۔
انہوں نے بعد میں اے ایف پی کے بات کرتے ہوئے کہا کہ قانون شناخت، تبت کی ثقافت اور تبت کی زبان کو ختم کرنے کے عمل کو قانونی شکل دے رہا ہے۔
چین سرکاری طور پر 55 نسلی اقلیتوں کو تسلیم کرتا ہے جو مختلف سینکڑوں زبانیں بولتی ہیں۔
تاہم حکومتی پالیسیوں کے تحت پہلے ہی ایسے علاقوں میں جہاں اقلیتی آبادی زیادہ ہے اور ان میں تبت بھی شامل ہے، کو مینڈرن چینی زبان کو بطور تدریسی زبان کے استعمال کرنے کی ہدایات دی جا چکی ہیں۔
تھنلے چکی کا کہنا تھا کہ یہ قانون پہلے سے رائج اس نظام کو قانونی حیثیت دے رہا ہے جس کے تحت تبتی بچوں کو زبردستی رہائشی بورڈرنگ سکولوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں ان کو مینڈرن زبان اور ہان چینی ثقافت اپنانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسا ہی بورڈنگ سکولز کا ایک سسٹم سنکیانگ کے علاقے میں بھی چل رہا ہے جہاں کے بارے میں اقوام متحدہ خبردار کر چکا ہے کہ وہاں ممکنہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور وہاں مسلمانوں کی ایغور اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو رکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب چین ایسے الزامات کی تردید کرتا ہے۔

شیئر: