Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آفس ورکر سے میچلن اعزاز تک، بریانی نے جاپانی شیف تاکاماسا اوسوا کی زندگی کیسے بدلی؟

بریانی اوسوا کو پہلی مرتبہ بب گورمانڈ اعزاز ملا ہے۔ (فوٹو: بریانی اوسوا)
تصور کیجیے، آپ ٹوکیو میں ایک ایسے ریستوران کا دروازہ کھولتے ہیں جہاں آپ کے پاس انتخاب کے لیے نہ دسیوں پکوان ہیں، نہ لمبی چوڑی مینیو بک اور نہ یہ سوال کہ آج کیا کھائیں۔ یہاں بس ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے بریانی۔
ایک بڑا برتن، ایک خوشبو، ایک کھانا اور ایک ہی نشست میں بیٹھے تمام لوگوں کے لیے تقریباً ایک ہی وقت پر تیار ہونے والی ڈش۔  ٹوکیو کے کاندا علاقے میں واقع اسی 10 نشستوں والے ریستوران ’بریانی اوسوا کو 2026 کے میچلن گائیڈ ٹوکیو میں  بب گورمانڈ سے نوازا گیا ہے۔
میچلن گائیڈ کے مطابق بریانی اوسوا کو پہلی مرتبہ بب گورمانڈ ملا ہے۔ یہ اعزاز ایسے ریستورانوں کو دیا جاتا ہے جہاں کھانا اچھے معیار کا ہو اور قیمت کے مقابلے میں اس کی قدر بھی نمایاں ہو۔
لیکن اس کہانی میں اصل حیرت صرف میچلن نہیں، بلکہ اس شخص کی زندگی کا سفر ہے جس نے جاپان کے ایک عام دفتری ملازم سے سفر شروع کیا، انڈیا میں ایک پلیٹ بریانی کھائی اور پھر اگلے تقریباً 15 برس اپنی زندگی کے بڑے حصے کو اسی ایک ڈش کے پیچھے لگا دیا۔ اس شخص کا نام ہے تاکاماسا اوسوا۔
 میچلن کی فہرست میں بریانی کا ایک برتن
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ میچلن کا نام آتے ہی ذہن میں عام طور پر ’مشلین سٹار‘ آتا ہے، لیکن بریانی اوسوا کو سٹار نہیں بلکہ  بب گورمانڈ ملا ہے۔ دونوں اعزاز الگ ہیں۔
میچلن سٹار بنیادی طور پر غیر معمولی کھانا پکانے کے معیار کو تسلیم کرتا ہے، جبکہ بب گورمانڈ کا مرکز ایسی جگہیں ہیں جہاں اچھا کھانا مناسب قیمت یا اچھی مقدار کے ساتھ دستیاب ہو۔ بریانی اوسوا اسی دوسرے اعزاز کا حصہ بنی ہے۔ مشلین گائیڈ نے 2026 کی اپنی ٹوکیو سلیکشن میں اسے شامل کرتے ہوئے خاص طور پر اس کی بریانی، خوشبودار باسمتی چاول، نسبتاً کم تیل کے استعمال اور تمام مہمانوں کو ایک ساتھ کھانا پیش کرنے کے انداز کو نمایاں کیا۔

بب گورمانڈ کا اعزاز ایسے ریستوران کو ملتا ہے جہاں اچھا کھانا مناسب قیمت یا اچھی مقدار کے ساتھ دستیاب ہو (فوٹو: بریانی اوسوا)

بریانی اوسوا ہے کیا؟
ٹوکیو کے کاندا علاقے میں واقع یہ ایک ریزرویشن کے ذریعے چلنے والا انڈین ریستوران ہے، جو 2021 میں کھولا گیا۔ یہاں مہمان ایک U شکل کے کاؤنٹر کے گرد بیٹھتے ہیں اور کھانا کسی فرد کے لیے الگ الگ جلدی جلدی تیار نہیں کیا جاتا، بلکہ انتظار کیا جاتا ہے۔
جب تمام مہمان اپنی نشستوں پر آ جائیں تو بریانی کی تیاری اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوتی ہے، تاکہ ایک ہی بڑے برتن میں پکنے والی ڈش اپنے بہترین ذائقے، ساخت اور خوشبو کے ساتھ میز تک پہنچے۔ میچلن گائیڈ کے مطابق اوسوا کا مقصد صرف پیٹ بھرنا نہیں بلکہ بریانی کو اس لمحے کھلانا ہے جب اس کی خوشبو، چاول کی ساخت اور ذائقہ اپنی بہترین حالت میں ہوں۔ اسی لیے تمام مہمانوں کو تقریباً ایک ہی وقت پر بریانی پیش کی جاتی ہے۔
ریستوران کی ویب سائٹ کے مطابق باقاعدہ مٹن بریانی تقریباً 3,000 جاپانی ین جبکہ چکن بریانی تقریباً 3,300 ین میں دستیاب ہے، البتہ ٹیکس اور شرحِ مبادلہ کے باعث مقامی کرنسی میں رقم تبدیل ہو سکتی ہے۔ عام دنوں میں مٹن اس ریستوران کی بنیادی پیشکش ہے، جبکہ بعض دنوں میں چکن پیش کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اوسوا تجربات سے بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ لابسٹر، اوئسٹر، ہیری کرب اور حتیٰ کہ ماضی میں بیجر کے گوشت سے بنی بریانی بھی پیش کی جا چکی ہے۔ یعنی مینیو ایک ہے، مگر اس ایک ڈش کے امکانات حیرت انگیز حد تک وسیع ہیں۔

یہاں مخصوص نشستیں ریزور کی جاتی ہیں اور کسٹمرز کو ایک ہی ساتھ بریانی پیش کی جاتی ہے (فوٹو: بریانی اوسوا)

تاکاماسا اوسوا کون ہیں؟
فنانشل ایکسپریس کے مطابق تاکاماسا اوسوا کسی روایتی کلنری سکول کے فارغ التحصیل شیف نہیں تھے۔ تقریباً دو دہائیاں قبل وہ جاپان میں ایک عام دفتری ملازمت کرتے تھے اور کھانا پکانا ان کا پیشہ نہیں بلکہ ذاتی شوق تھا۔
سنہ 2009 میں اوسوا اس وقت تقریباً 20 برس کے تھے جب وہ چھٹیوں کے لیے انڈیا کی ریاست تمل ناڈو پہنچے۔ ایک مقامی ریستوران کے باہر انہوں نے ’بریانی‘ کا نام دیکھا۔ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ کیا چیز ہے۔ چاول جاپان میں بھی عام خوراک ہے اور اوسوا کو خود بھی چاول میں مختلف ذائقے شامل کرنے کا شوق تھا، اس لیے انہوں نے بریانی منگوا لی۔ اور پھر ایک پلیٹ نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔
گلف نیوز کے مطابق اوسوا آج بھی اس پہلے ذائقے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’اس بریانی نے میری زندگی بدل دی۔‘ یہ محض ایک اچھے کھانے کی تعریف نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے جنون کا آغاز تھا جس نے ان کی آئندہ زندگی کا راستہ متعین کردیا۔

جاپان میں چاولوں کو خوراک کا اہم حصہ شمار کیا جاتا ہے (فوٹو: بریانی اوسوا)

ایک پلیٹ سے شروع ہونے والا 15 سالہ سفر
جاپان واپس پہنچ کر اوسوا نے محسوس کیا کہ جس ذائقے نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا ہے، وہ جاپان میں آسانی سے دستیاب ہی نہیں۔ چنانچہ انہوں نے خود بریانی بنانا شروع کردی، لیکن پہلی کوششیں اس ذائقے تک نہیں پہنچ رہی تھیں جس کا تجربہ انہیں انڈیا میں ہوا تھا۔
اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگر بریانی کو سمجھنا ہے تو یہ صرف کتابوں سے نہیں سمجھی جا سکتی، اس کے لیے واپس جانا ہوگا۔
گلف نیوز کے مطابق اگلے تقریباً 15 برسوں تک اوسوا انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سفر کرتے رہے۔ انہوں نے بڑے ہوٹلوں یا مشہور شیفس کے بجائے مقامی ریستوران، کینٹینز اور چھوٹی دکانوں میں جا کر بریانی کے مختلف انداز دیکھے۔ وہ مقامی باورچیوں سے اجازت مانگتے، باورچی خانے میں جھانکتے اور کوشش کرتے کہ خود دیکھ سکیں کہ برتن کے اندر آخر ہو کیا رہا ہے۔
ان کے لیے زبان بھی رکاوٹ نہیں بنی۔ اوسوا کا کہنا ہے کہ انہوں نے بریانی کو 'خوشبو، ذائقے، چھونے اور دیکھنے' سے سیکھا۔
بریانی ایک نہیں، کئی دنیاؤں کا مجموعہ
اس سفر کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ اوسوا کے نزدیک بریانی کی کوئی ایک ’مکمل‘ یا ’واحد درست‘ شکل نہیں رہی۔ ہر خطے کی اپنی بریانی تھی، اپنا مزاج تھا، اپنے مصالحے تھے اور اپنے طریقے تھے۔
فنانشل ایکسپریس کے مطابق اوسوا نے وقت کے ساتھ مختلف روایات سے اثرات لے کر اپنا انداز تشکیل دیا۔ ان کے چاولوں میں حیدرآبادی انداز کی جھلک، گریوی میں پاکستانی کھانوں کا اثر اور گوشت تیار کرنے میں بلوچ طریقہ شامل ہے۔ وہ مختلف اقسام کے باسمتی چاول بھی آزماتے رہے، یہاں تک کہ پنجاب سے درآمد کیے جانے والے چاول کو اپنے لیے موزوں سمجھا۔
اور ان تمام تجربات کے باوجود حیدرآبادی بریانی ان کی پسندیدہ رہی، کیونکہ ان کے نزدیک اس میں ذائقوں کا ایک خاص توازن موجود ہے۔
یوں بریانی اوسوا کی پلیٹ صرف ایک جاپانی شیف کی بنائی ہوئی بریانی نہیں رہتی، اس میں انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور جاپان کے درمیان برسوں کے سفر کی کہانی بھی شامل ہوجاتی ہے۔

اس بریانی میں انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور جاپان کے ذائقے محسوس ہوتے ہیں (فوٹو: بریانی اوسوا)

جب شیف کے پاس ریستوران نہیں تھا
اوسوا کی کہانی روایتی شیف کی کہانی نہیں۔ گلف نیوز کے مطابق جاپان واپس آکر وہ بار بار اپنی بریانی بناتے، دوستوں کو کھلاتے اور ان سے رائے لیتے رہے۔ انہوں نے ٹوکیو میں ایک چھوٹا سا پاپ اپ بھی شروع کیا جہاں ہفتے میں دو مرتبہ بریانی بنائی جاتی تھی، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوا۔
وجہ بھی دلچسپ تھی، جاپان میں اس وقت زیادہ تر لوگ بریانی سے واقف ہی نہیں تھے۔ اوسوا نے سوچا کہ شاید ریستوران کھولنے کے بجائے دوستوں کے لیے ہی کھانا پکانا بہتر ہے۔ پھر انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پیسے جمع کیے، ایک گھر کرائے پر لیا، سب وہیں رہنے لگے اور اوسوا نے ان کے لیے تقریباً روزانہ بریانی بنانا شروع کردی۔
یہی مسلسل پکانا، غلطیاں کرنا، لوگوں سے رائے لینا اور دوبارہ بنانا ان کے لیے اصل تربیت بن گیا۔

اوسوا نے ریستوران کھولنے سے پہلے دوستوں کے لیے بریانی بنانے کا آغاز کیا تھا (فوٹو: بریانی اوسوا)

جاپانی ذائقے سے ملاقات
اوسوا نے پھر ایک اور دلچسپ سوال پوچھا، اگر بریانی جاپان میں بن رہی ہے تو کیا اس میں جاپان کی جھلک بھی آسکتی ہے؟
انہوں نے مختلف جاپانی اجزا کے ساتھ تجربات کیے۔ مثال کے طور پر شِی ٹیکے مشروم کے ساتھ سویا ساس کا استعمال کیا اور کچومر سلاد میں واسابی کا انداز آزمایا۔
یعنی وہ صرف انڈین یا پاکستانی بریانی کی نقل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ بریانی ایک خیال کے طور پر جاپان میں کس طرح سانس لے سکتی ہے۔
اور پھر 2021 میں بریانی اوسوا نے باقاعدہ ریستوران کی شکل اختیار کرلی۔

اوسوا بریانی کے لیے خود مسالحے اکھٹے کرتے ہیں (فوٹو: بریانی اوسوا)

صرف ایک ہی ڈش کیوں؟
اس سوال کا جواب اوسوا کے فلسفے میں چھپا ہے۔ بریانی کوئی ایسی ڈش نہیں جسے ایک پلیٹ کے لیے جلدی سے پکا کر میز پر رکھ دیا جائے۔ یہ بڑی مقدار میں تیار ہوتی ہے۔ چاول، گوشت، مصالحے اور دوسرے اجزا تہہ در تہہ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
اوسوا کے نزدیک اصل کمال اس وقت ہوتا ہے جب تمام اجزا اپنی بہترین حالت میں ایک ساتھ پہنچیں۔ اسی لیے بریانی اوسوا میں تمام مہمانوں کو پہلے بٹھایا جاتا ہے، پھر آخری مرحلہ شروع ہوتا ہے۔
یوں ایک برتن صرف کھانا نہیں پکاتا، وہ پورے کمرے کے وقت کو ایک ساتھ باندھ دیتا ہے۔ سب بیٹھتے ہیں، سب انتظار کرتے ہیں، برتن اپنی منزل تک پہنچتا ہے اور پھر سب ایک ساتھ کھانا شروع کرتے ہیں۔

اوسوا ریستوران کی خاصیت ہی بریانی بن چکی ہے اور اس کے مینیو میں بریانی کی ہی مختلف اقسام نظر آتی ہیں (فوٹو: بریانی اوسوا)

ایک برتن کے اندر ایسا کیا ہوتا ہے؟
یہاں اوسوا کے جنون کی اصل شکل نظر آتی ہے۔ میچلن گائیڈ کے مطابق وہ باسمتی چاول پر غیر معمولی توجہ دیتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ چاول خوشبودار ہوں، دانے الگ الگ رہیں اور تیل اتنا کم استعمال ہو کہ مصالحوں اور دوسرے اجزا کا ذائقہ دب نہ جائے۔
وہ چاول پکانے کے لیے تقریباً 100.1 ڈگری سیلسیس کی بھاپ استعمال کرتے ہیں اور برتن کے اندر چاول کی دو الگ تہوں کے درجہ حرارت پر نظر رکھتے ہیں۔ پیاز بھی عام انداز سے نہیں آتی۔ اوسوا پیاز کو پہلے پانی سے الگ کرتے ہیں، پھر اسے تیل میں پکاتے ہیں تاکہ اس کا ذائقہ زیادہ محفوظ رہے۔
اجزا کو برتن میں اس انداز سے ترتیب دیا جاتا ہے کہ وہ مختلف رفتار سے ذائقہ جذب کریں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آخر میں برتن کے اندر ہر حصہ بالکل ایک جیسا نہیں ہوتا، کہیں ذائقہ زیادہ گہرا، کہیں ساخت مختلف اور کہیں خوشبو زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔
اور اوسوا کے لیے یہی فرق خوبصورتی ہے، کیونکہ ان کے نزدیک بریانی صرف چاول اور گوشت نہیں بلکہ خوشبو، حرارت، وقت اور تہوں کا کھیل ہے۔

اوسوا اپنی بریانی کے لیے خاص باسمتی چاول استعمال کرتے ہیں (فوٹو: بریانی اوسوا)

اور پھر آتی ہے کولا
اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ کہانی یہاں ختم ہوگئی تو اوسوا کے پاس ایک اور حیرت موجود ہے۔
کھانے کے ساتھ مشروب کے طور پر وہ کولا بھی تجویز کرتے ہیں۔ مائیکلین گائیڈ کے مطابق اوسوا کولا کھانے کے دوران نہیں بلکہ کھانے کے بعد پینے کی تجویز دیتے ہیں، جبکہ انڈیا میں بریانی اور کولا کا امتزاج بھی ایک مانوس جوڑی سمجھا جاتا ہے۔
ایک جاپانی ریستوران، انڈین بریانی، پاکستانی اور بلوچ اثرات، حیدرآبادی چاول اور آخر میں کولا۔ کہانی جتنی سادہ دکھائی دیتی ہے، اتنی ہی تہہ دار نکلتی ہے۔

اوسوا کی تجویز کے مطابق کولا کھانے کے بعد زیادہ بہتر انتخاب ہوتا ہے (فوٹو: بریانی اوسوا)

بریانی اوسوا صرف ریستوران نہیں، ایک مشن بھی ہے
فنانشل ایکسپریس کے مطابق اوسوا کی بریانی سے وابستگی صرف اپنے ریستوران تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے جاپان بریانی ایسوسی ایشن بھی قائم کی، جس کے ذریعے جاپان میں بریانی کو تقریبات اور مختلف تعاون کے ذریعے متعارف کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جس شخص نے کبھی جاپان میں بریانی تلاش کرتے ہوئے خود اسے پکانا شروع کیا تھا، اب وہی شخص جاپان میں بریانی کے تعارف اور فروغ کا ایک اہم نام بن چکا ہے۔

اوسوا جاپان میں بریانی کے فروغ کا اہم نام بن چکے ہیں (فوٹو: بریانی اوسوا)

اب اگلا قدم کیا ہے؟
اس پوری کہانی کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ اوسوا ابھی رکنے کے موڈ میں نہیں۔
گلف نیوز کے مطابق ان کی خواہش ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک میں بھی اپنے ریستوران کو وسعت دیں اور ان کی نظر خاص طور پر دبئی پر ہے کیونکہ وہاں بریانی کو سمجھنے اور پسند کرنے والی بڑی آبادی موجود ہے۔
اور اگر کبھی انڈیا میں ریستوران کھولا تو ان کے ذہن میں حیدرآباد ہے۔

شیئر: