’وِمل الائچی‘: شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف ایف ڈی اے کے نشانے پر
’وِمل الائچی‘: شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف ایف ڈی اے کے نشانے پر
پیر 17 اگست 2026 9:31
تینوں سٹارز شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف اشتہار میں ایک ساتھ نظر آئے (فوٹو: انڈین میڈیا)
مشہور شخصیات بعض اوقات اپنے کام سے زیادہ اپنی امیج سے کماتے ہیں اور انہیں ان کے کام اور شہرت کی وجہ سے انڈورسمنٹ ملتی ہیں۔
اگرچہ انڈیا میں اشتہار کی دنیا بہت پرانی ہے اور پرنٹ میڈیا میں یہ رجحان آزادی سے قبل بھی دیکھا جا سکتا ہے جب معروف گلوکار اور اداکار کے ایل سہگل اشتہارات میں نظر آتے تھے۔
پھر سنہ 1960 اور 1970 کی دہائی سے اس رجحان کو زیادہ مقبولیت ملی جہاں دیو آنند، راجیش کھنہ اور شرمیلا ٹیگور اشتہارات کی زینت بنے۔ پھر صابن کے ایک برانڈ نے متعدد ہیروئینوں کو متعارف کرایا۔ بیوٹی پروڈکٹس اور کاسمیٹکس کی دنیا میں آنے والی دوڑ نے انڈیا کو نہ صرف کئی ملکۂ عالم اور ملکۂ کائنات کے اعزازات دلائے بلکہ ان کے اشتہارات میں ان حسیناؤں کی دلکشی کو بھی نمایاں کیا گیا۔
یہ رجحان فلم سے کرکٹ میں بھی آ گیا اور جہاں ابتدا میں سنیل گواسکر، کپل دیو اور ٹائیگر پٹودی اشتہارات میں نظر آئے تو بعد میں بڑے بڑے برانڈز نے پوری کی پوری ٹیم کو ہی حاصل کر لیا۔
آج ان سب کا تذکرہ اس لیے ہے کہ ممبئی کی فلمی دنیا میں ایک بار پھر اشتہارات، مشہور شخصیات اور تمباکو سے جڑی مصنوعات کے پرانے تنازع کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔
اس بار مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے بالی وڈ کے تین سٹارز شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو ’وِمل الائچی‘ کے اشتہار میں شرکت پر وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق ایف ڈی اے کا موقف یہ ہے کہ یہ اشتہار بظاہر ’بالواسطہ یا بین السطور تشہیر‘ (سروگیٹ ایڈورٹیزمنٹ) کے ذریعے ممنوعہ پان مسالہ اور تمباکو سے متعلق مصنوعات کو فروغ دے سکتا ہے۔
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے تینوں اداکاروں کو نوٹس جاری کیا ہے (فوٹو: انڈین میڈیا)
11 اگست کو جاری کیے گئے نوٹس میں تینوں اداکاروں کو برانڈ کا تشہیری نمائندہ قرار دیتے ہوئے 15 دن کے اندر اپنا اپنا موقف پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ ایف ڈی اے نے اشتہار کو ’حتمی انتباہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وِمل الائچی‘ کا نام اور اس کی پیش کش صارفین کے ذہن میں اسی وِمل برانڈ سے تعلق پیدا کرتی ہے جو مہاراشٹر میں پان مسالہ سے نمایاں طور پر وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمے کو شبہ ہے کہ الائچی کے نام پر دراصل ممنوعہ مصنوعات کی برانڈ شناخت کو زندہ رکھا جا رہا ہے۔
خبررساں ادارے اے این آئی کے مطابق یہ تنازع صرف ایک اشتہار تک محدود نہیں۔ ایف ڈی اے نے تینوں اداکاروں سے پوچھا ہے کہ وہ دستاویزی ثبوت فراہم کریں کہ ’وِمل الائچی‘ واقعی ایک الگ اور آزادانہ طور پر فروخت ہونے والی پروڈکٹ ہے یا پھر اسے وِمل پان مسالہ کی تشہیر کے لیے برانڈ ایکسٹینشن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
دی نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق اداکاروں سے ان کے تشہیری معاہدے، مہم کے بریف، مصنوعات کی تفصیلات، معاوضے اور ادائیگیوں کا ریکارڈ، اشتہاری ایجنسی اور برانڈ کے مالک کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ان تمام ٹی وی چینلوں، ڈیجیٹل پلیٹ فارموں اور سوشل میڈیا ذرائع کی تفصیل بھی مانگی گئی ہے جہاں ان کی شرکت سے یہ اشتہار نشر یا شائع ہوا۔
یہ تنازع انڈیا میں ’سروگیٹ ایڈورٹائزنگ‘ کے ایک پرانے مسئلے کو پھر سامنے لے آیا ہے۔ جب کسی ممنوعہ یا محدود مصنوعات کی براہ راست تشہیر مشکل ہو تو بعض برانڈز بظاہر کسی دوسری مصنوعات، مثلاً الائچی، سوڈا یا ماؤتھ فریشنرکے ذریعے وہی نام، رنگ، لوگو، موسیقی اور تشہیری چہرے استعمال کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ صارف کے ذہن میں اصل برانڈ کی شناخت برقرار رہتی ہے، چاہے اشتہار میں ممنوعہ شے کا نام براہ راست نہ لیا جائے۔
سوڈے کو اس قدر پرکیف انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ سوڈا نہیں بلکہ اس سے منسلک شراب ہو۔ رنگ گورا کرنے کی کریم پر تو ایک زمانے سے مباحثہ جاری ہے۔
شاہ خان کی طرح کئی دیگر بالی وڈ اداکار اشتہارات میں نظر آتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
موجودہ معاملے میں مہاراشٹر ایف ڈی اے کا اعتراض بھی اسی نکتے پر ہے۔ محکمے کا کہنا ہے کہ ’وِمل‘ نام ریاست میں پان مسالہ سے اس قدر مضبوطی سے جڑا ہوا ہے کہ صرف ’الائچی‘ کا اضافہ اس اشتہار کو لازماً ایک الگ مصنوعات کی تشہیر نہیں بنا دیتا۔
روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مہاراشٹر میں مخصوص تمباکو، نکوٹین اور اریکا نٹ پر مبنی ممنوعہ غذائی مصنوعات کے خلاف پابندی کا تازہ حکم 13 جولائی کو جاری ہوا تھا اور ایک سال تک نافذ رہنے والا ہے۔ اسی پس منظر میں ایف ڈی اے نے ومل برانڈ سے متعلق اشتہار کی جانچ شروع کی۔
ایف ڈی اے نے فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز ایکٹ 2006 اور اس کے تحت بنائے گئے اشتہارات سے متعلق ضوابط کا حوالہ دیا ہے۔ سنہ 2018 کے قانون میں اشتہارات سے متعلق یہ اصول موجود ہے کہ دعوے سچے، واضح اور غیر گمراہ کن ہوں۔
دی ہندی کی رپورٹ کے مطابق نوٹس میں کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کی دفعہ 21 کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کے تحت مرکزی صارف تحفظ اتھارٹی (سی سی پی اے) گمراہ کن اشتہار کو بند یا تبدیل کرنے کا حکم دے سکتی ہے اور بعض حالات میں تشہیری شخصیات پر جرمانہ یا ایک مقررہ مدت کے لیے کسی پروڈکٹ کی تشہیر سے پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔
ایف ڈی اے نے تینوں اداکاروں کو اشتہار میں مزید تعاون روکنے اور اپنے زیرِ اختیار سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ویب سائٹس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارموں سے تشہیری مواد ہٹانے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اگر مقررہ مدت میں جواب نہیں دیا گیا یا جواب غیر تسلی بخش پایا گیا تو مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔
شاہ رخ خان اور اجے دیوگن اس قسم کے اشتہارات کے حوالے سے پہلے بھی عوامی بحث کا حصہ رہے ہیں۔ اس بار ٹائیگر شروف بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ مختلف نسلوں کے یہ سٹارز اپنی مقبولیت کے اعتبار سے کروڑوں صارفین تک پہنچتے ہیں، اسی لیے ریگولیٹر کا سوال یہ بھی ہے کہ مشہور شخصیات کو کسی برانڈ کی تشہیر قبول کرنے سے پہلے انتہائی باریک بینی کے ساتھ پروڈکٹس کو دیکھنا چاہیے۔
یہی وجہ ہے کہ ایف ڈی اے نے صرف اشتہار بند کرنے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ یہ بھی پوچھا ہے کہ اداکاروں یا ان کی ایجنسیوں نے مہم میں شامل ہونے سے قبل کیا جانچ پڑتال کی تھی۔
60 اور 70 کی دہائی میں دیو آنند، راجیش کھنہ اور شرمیلا ٹیگور اشتہارات کی زینت بنے (فوٹو بشکریہ: جنجر میڈیا گروپ)
سوشل میڈیا پر ’وِمل‘ کا شور
نوٹس کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر حسب معمول طنز و مزاح اور حمایت کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔
ریڈ اٹ کی ایک بحث میں ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی ممنوعہ پان مسالہ کے خلاف ہے تو صرف اداکاروں کو نوٹس دینے کے بجائے ’فیکٹریوں کو بند کیوں نہیں کیا جاتا؟‘ دوسرے صارف نے جواب دیا کہ بڑی کمپنیوں کے خلاف کارروائی زیادہ مشکل ہو سکتی ہے۔
ایک اور بحث میں صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’اور بولو زباں کیسری‘ جبکہ ایک دوسرے تبصرے میں پوچھا گیا کہ ’ومل کمپنی کے مالک کے بارے میں کیا خیال ہے‘ یعنی اگر اشتہار میں اداکار ذمہ دار ہیں تو اصل برانڈ اور کمپنی کی جواب دہی کہاں ہے؟
کچھ صارفین نے کارروائی کا خیرمقدم بھی کیا۔ ایک نے لکھا کہ ’یہ پہلے کیوں نہیں کیا گیا؟‘ اور دوسرے صارف نے امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہنے چاہییں کیونکہ عوام پر اثر انداز ہونے والی شخصیات کی بھی اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے۔
دی ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اس پوری کارروائی میں مہاراشٹر ایف ڈی اے کے کمشنر تُکا رام منڈھے کا نام بھی نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ منڈھے کی قیادت میں محکمہ حالیہ دنوں میں خوراک کے معیار، ملاوٹ، صفائی اور ممنوعہ مصنوعات کے خلاف متعدد کارروائیاں کر رہا ہے۔ ان کے سخت انتظامی انداز کو سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ مل رہی ہے۔
اب گیند شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کے کورٹ میں ہے۔ تینوں کے پاس 15 دن ہیں کہ وہ وضاحت دیں، دستاویزات پیش کریں اور چاہیں تو ذاتی سماعت کی درخواست بھی کریں۔