صدر ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کا حکم
صدر ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کا حکم
پیر 17 اگست 2026 6:11
رواں ہفتے ہونے والی مشقوں کو شمالی کوریا نے ’جنگ کی تیاری‘ قرار دیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مجوزہ مشترکہ فوجی مشقوں کا دائرہ محدود کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ بقول ان کے ’اس نے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے میں مدد سے انکار کیا ہے۔‘
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اتوار کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر جاری کیے گئے بیان میں یہ بھی کہا کہ ان کے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔
ان کے مطابق ’جنوبی کوریا کے ساتھ رواں ہفتے شروع ہونے والی فوجی مشقیں نہ صرف مہنگی ہیں بلکہ شمالی کوریا کو بھی نامناسب بلکہ دشمنی پر مبنی پیغام دیتی ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے دورِ صدارت کے دوران نہ صرف شمالی کوریا دھمکی آمیز رویے سے گریز کرتا رہا بلکہ احترام کا مظاہرہ بھی کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھ کہ اس وقت چونکہ مشقوں کو کینسل نہیں کیا جا سکتا اس لیے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کو ان میں نمایاں کمی کرنے کی ہدایت کی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ’انہوں نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے صدر سے کہا تھا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی کوششوں میں شامل ہوں مگر انہوں نے جواب میں ’نہیں‘ اور ’شکریہ‘ کہا۔‘
11 روز پر مشتمل ان مشقوں میں 18 ہزار جنوبی کورین فوجیوں نے شریک ہونا ہے اور ان کا مقصد شمالی کوریا کی جانب سے لاحق خطرات کے مقابلے میں فوج کو مضبوط کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق جنوبی کورین صدر نے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے میں مدد دینے سے انکار کیا (فوٹو: اے ایف پی)
جمعے کو شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے خلاف سخت اقدامات کی دھمکی دی اور فوجی مشقوں کو ’جارحیت اور جنگ کی تیاری‘ قرار دیا اور کہا کہ ان سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔
شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا اور امریکہ کے خلاف سخت بیان بازی پہلے بھی ہوتی رہی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا حریف ممالک کی فوجی مشقوں کو اپنے مزید میزائل اور ہتھیاروں کے جواب کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ہتھیاروں کا ذخیرہ بڑھایا جا سکے اور تنہائی پسند رہنما کی حمایت بڑھائی جا سکے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ مشترکہ مشقوں میں براہ راست فائرنگ، مشترکہ نشانہ بازی، فوجی نقل و حرکت کی جانچ، پانی سے گزرنے کی پریکٹس کے علاوہ ذخیرہ شدہ فوجی ساز و سامان کی تقسیم شامل تھی۔
یہ مشترکہ فوجی مشقیں اقوام متحدہ کی پابندی کے باوجود شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات دوبارہ شروع کیے جانے کے چند روز بعد ہو رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے کم جونگ اُن کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
رواں ماہ کے آغاز میں جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان نے شمالی کوریا کے ان بیلسٹک میزائلز کے بارے میں رپورٹس دی تھیں جو مختصر فاصلے تک مار کر سکتے ہیں۔
کم جونگ اُن اور صدر ٹرمپ کے درمیان 2019 میں ہونے والی اہم سفارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سے شمالی کوریا اپنے جوہری اور میزائل ہتھیاروں میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کا خیال ہے کہ ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ مستقبل میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے موقع پر زیادہ مراعات کے حصول کا باعث بنے گا۔