پاکستان سے 700 سے زائد ٹرکوں پر مشتمل انسانی امداد افغانستان پہنچ گئی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد مکمل ہونے کے باوجود 724 ٹرکوں پر مشتمل بین الاقوامی انسانی امداد افغانستان پہنچ گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے مطابق یہ امدادی قافلہ خوراک اور دیگر انتہائی ضروری انسانی سامان لے کر پاکستان کے راستے طورخم کے ذریعے افغانستان میں داخل ہوا، جہاں یہ امداد ضرورت مند خاندانوں تک پہنچائی جا رہی ہے۔
پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ اور ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر مو یحییٰ نے کہا کہ 724 ٹرک انسانی امداد لے کر طورخم کے راستے افغانستان پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد اور ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس انسانی امداد کی ترسیل کے لیے راستہ کھولنے میں کردار ادا کیا۔
افغانستان اس وقت شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق رواں سال ملک میں بچوں کی شدید غذائی قلت تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ افغان شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اکتوبر 2025 سے جاری تنازع کے باعث دونوں ملکوں کی زمینی سرحد تقریباً مکمل طور پر بند ہے، جس سے امدادی سامان کی ترسیل کے راستے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
صورتحال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغان سکول کے بچوں کے لیے پاکستان سے بھیجے جانے والے غذائیت سے بھرپور بسکٹ بھی پہلے ایران کے راستے منتقل کیے گئے، لیکن وہاں جنگ شروع ہونے کے بعد یہ راستہ بھی متاثر ہوگیا۔
بالآخر یہ امدادی سامان کئی ماہ بعد اردن، ترکی اور آذربائیجان سمیت مختلف ممالک سے گزرنے والے طویل زمینی اور بحری راستے کے ذریعے افغانستان پہنچ سکا۔