ایران کا ’امریکی فوجیوں کو پکڑنے یا مارنے‘ پر 30 ہزار ڈالر کے انعام کا اعلان
ایران کا ’امریکی فوجیوں کو پکڑنے یا مارنے‘ پر 30 ہزار ڈالر کے انعام کا اعلان
پیر 17 اگست 2026 10:51
اعلان کے مطابق ’اگر کوئی خاتون امریکی فوجی کو پکڑے یا قتل کرے تو انعام دو گنا ہو جائے گا‘ (فوٹو: اے پی)
ایرانی فوج نے امریکی فوجی کو زندہ پکڑنے یا مارنے پر 30 ہزار ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ یہ کام اگر کوئی خاتون انجام دے تو انعام دو گنا ہو جائے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سرکاری ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی کا کہنا ہے کہ ’یہ منصوبہ لوگوں کی جانب سے بڑی تعداد میں شرکت کی درخواستیں سامنے آںے کے بعد بنایا گیا ہے۔‘
28 فروری سے جاری لڑائی میں امریکی فوجیوں کی ایرانی سرزمین پر تعیناتی کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی تاہم اپریل میں ایک امریکی طیارہ ایران میں گرنے کے بعد فوجی کو بچانے کے لیے ایک امدادی مشن ضرور کیا گیا تھا۔
امیر حاتمی کی جانب سے یہ تفصیل نہیں بتائی گئی کہ امریکی کے قتل یا گرفتاری کا امکان کب اور کہاں موجود تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جو شخص کسی حملہ آور امریکی فوجی کو قتل یا گرفتار کروائے گا اسے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی جانب سے 30 ہزار ڈالر یا پانچ ارب تومان کے برابر انعام دیا جائے گا۔‘
تومان ایران میں استعمال ہونے والی ایک غیر رسمی کرنسی ہے جو ایک ہزار ایرانی ریال کے برابر ہوتی ہے۔
امیر حاتمی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر ایسا کوئی کسی باہمت خاتون کی جانب سے سامنے آیا تو ان کو دو گنا انعام دیا جائے گا۔‘
انہوں نے ایران کے اس مطالبے کو ایک بار پھر دوہرایا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ سے نکل جائے۔
’اب امریکی فوج کو خلیج، خلیج عمان یا آبنائے ہرمز میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔‘
رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کے دوران اب تک 17 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں (فوٹو: روئٹرز)
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد جنگ چھڑ گئی تھی جس کا سلسلہ جنگ بندی کے بعد بھی پوری طرح بند نہیں ہو سکا ہے۔
جنگ شروع ہونے کے قریباً ایک ماہ بعد ایک امریکی جہاز ایران میں گر گیا تھا تاہم پائلٹ اس میں سے نکلنے میں کامیاب رہا تھا، جس کے لیے ایک بڑا آپریشن کیا گیا تھا۔ اس آپریشن میں 200 سے زائد امریکی فوجیوں اور 170 کے قریب جہازوں نے حصہ لیا تھا۔
اس امدادی کارروائی کے دوران ایرانی فوجیوں نے ایک اے 10 جہاز کو نقصان پہنچایا تھا جسے اپنے زیرِ کنٹرول حصے میں ہنگامی طور پر اتارنا پڑا تھا۔
اسی طرح مبینہ طور پر مشن کے دوران استعمال ہونے والے بعض طیاروں کو تباہ کر کے وہیں چھوڑ دیا گیا تھا جن میں سی 130 بھی شامل تھا۔
اس سے قبل ایف 15 کے پائلٹ کو بچا لیا گیا تھا۔
28 فروری کو چھڑنے والی جنگ ابھی تک رک نہیں پائی (فوٹو: اے ایف پی)
قریباً 10 روز کی جنگ کے بعد اپریل میں عارضی جنگ بندی ہوئی اور مذاکرات کے لیے فریم ورک بنایا گیا تاہم بعدازاں یہ سلسلہ ناکام ہو گیا۔
اس کے بعد سے ایران اور امریکہ کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے جبکہ لڑائی کا زیادہ تر مرکز جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے اطراف کا علاقہ رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کی وساطت سے بالواسطہ رابطے بھی جاری ہیں تاہم سفارتی پیش رفت کے کوئی نمایاں آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے کچھ مطالبات پیش کیے گئے ہیں جن میں جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی شامل ہے۔
جنگ شروع ہونے سے لے کر اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 17 ہے اور جولائی کے دوران سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔
یہ سارے فوجی ایران سے باہر اردن اور عراق کے علاوہ دوسرے ممالک میں مارے گئے تھے۔