شیخ حسینہ واجد کی حوالگی تک وزیرِاعظم طارق رحمان انڈیا کا دورہ نہیں کریں گے: بنگلہ دیش
انڈیا کے بنگلہ دیش میں ہائی کمشنر دنیش ترویدی نے گزشتہ ہفتے طارق رحمان سے ملاقات کی تھی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیش نے اتوار کے روز کہا کہ وزیرِاعظم طارق رحمان اس وقت تک انڈیا کا دورہ نہیں کریں گے جب تک نئی دہلی شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے نہیں کر دیتا۔
شیخ حسینہ 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران ملک سے فرار ہو کر انڈیا چلی گئی تھیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف خونریز احتجاج کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا، جس کے بعد وہ پڑوسی ملک انڈیا فرار ہوگئیں، جہاں وہ اب بھی موجود ہیں۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔
بنگلہ دیش میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزا یافتہ ہونے کے بعد انہیں سزائے موت کا سامنا ہے، جبکہ ڈھاکہ متعدد بار انڈیا سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کر چکا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے عہدیدار اے کے ایم شاہدال کریم نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اگلے ہفتے رحمان کے ممکنہ دورہ انڈیا سے متعلق میڈیا کی قیاس آرائیوں کو خاص اہمیت نہیں دی۔
شاہدال کریم نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس دورے کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’اسی مقصد کے لیے ہم نے انڈین حکام سے شیخ حسینہ اور دیگر مفرور افراد کی حوالگی کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنے کی درخواست کی ہے۔‘
انڈیا کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی جانب سے حسینہ کی حوالگی کی درخواست ’زیرِ غور‘ ہے۔
طارق رحمان نے فروری میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا اور اس کے بعد ملائیشیا اور چین کا دورہ کر چکے ہیں۔
اس طرح انہوں نے بنگلہ دیشی رہنماؤں کے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے انڈیا جانے کی روایت سے انحراف کیا ہے۔
انڈیا کے بنگلہ دیش میں ہائی کمشنر دنیش ترویدی نے گزشتہ ہفتے طارق رحمان سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ پیش رفت کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔
شاہدال کریم نے بتایا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران بنگلہ دیش اور انڈیا کے حکام طارق رحمان کے ممکنہ دورے کے حوالے سے رابطے میں رہے ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا، ’لیکن شیخ حسینہ کے کھلے عام میڈیا سے رابطوں کی وجہ سے یہ عمل متاثر ہوا ہے، حالانکہ وہ انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزا یافتہ ہیں۔‘
شیخ حسینہ نے رواں ماہ عزم ظاہر کیا تھا کہ وہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آئیں گی، چاہے انہیں قید ہی کیوں نہ ہونا پڑے۔
شاہدال کریم نے یہ بھی کہا کہ حکومت ’بنگلہ دیش فرسٹ‘ خارجہ پالیسی اختیار کرے گی، جس کی بنیاد ملکی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں پر ہوگی، جبکہ انڈیا اور دیگر ممالک کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تعلقات قائم کرنے کی کوشش جاری رکھی جائے گی۔