فیفا ورلڈ کپ 2026: گروپ سٹیج سے باہر ہونے پر سعودی فٹبال فیڈریشن کے صدر مستعفی
سعودی فٹبال میں اُن کے سات سال کا دور اختتام پذیر ہوگیا۔( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عریبین فٹبال فیڈریشن (سیف) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے صدر یاسر المسحل نے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں قومی ٹیم کے گروپ سٹیج سے باہر ہونے کی ذمہ داری لیتے ہوئے پیر کوعہدے سے استعفی دینے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد سعودی فٹبال میں ان کے سات سال کا دور اختتام پذیر ہوگیا۔
عرب نیوز کے مطابق ایکس پر اپنی پوسٹ میں استعفے کا اعلان کرتے ہوئے یاسر المسحل نے کہا کہ ’گرین فالکنز کی جانب سے ناک آؤٹ سٹیج تک رسائی حاصل نہ کرنا سعودی فٹبال اور اس کے مداحوں کی ناکامی ہے اور وہ اس مایوس کن کارکردگی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔‘
یاسر المسحل کی جانب سے استعفی دینے کے بعد سعودی فٹبال کے لیے نئے دور کا آغاز ہوگا اور اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ فیڈریشن کے قواعد کے مطابق نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے لیے انتخابات کا اعلان ہوگا۔
یاسر المسحل نے سعودی فٹبال کے لیے مسلسل تعاون فراہم کرنے پر شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت وزیر کھیل شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل اور فیڈریشن کے بورڈ اراکین کا شکریہ ادا کیا۔
یہ استعفی اس وقت سامنے آیا جب تیسری مرتبہ لگاتار ورلڈ کپ کے گروپ سٹیج مرحلے سے باہر ہونے پر فیڈریشن کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
گرین فالکنز ٹورنامنٹ میں ڈیبیو کرنے والی ٹیم کیب ور کے خلاف 0-0 گول سے میچ برابر ہونے کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی۔

یوراگوئے کے خلاف 1-1 گول سے میچ برابر ہونے کے بعد سعودی عرب کی قومی ٹیم کی امیدیں زندہ ہوئیں تاہم سپین کے خلاف 4-0 کی بڑی شکست نے انہیں آحری گروپ میچ میں ہر صورت میں فتح حاصل کرنے پر مجبور کیا جس میں گرین فالکنز ناکام رہے۔
سعودی عرب کی قومی فٹبال ٹیم اب تک سات مرتبہ ورلڈ کپ کھیل چکی ہے جس میں وہ صرف ایک مرتبہ یعنی 1994 میں امریکہ میں ہی کھیلے گئے ورلڈ کپ میں ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچی۔
ٹیم کے حالیہ پہلے مرحلے سے باہر ہونے پر شائقین، سابق کھلاڑیوں اور میڈیا شخصیات کی جانب سے تنقید کی جاری ہے۔ سعودی فٹبال کے لیے اگلے برس شیڈول اے ایف سی ایشین کپ اور پھر 2034 میں مملکت ہی میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ سے قبل تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

سعودی فٹبال فیڈریشن کو ٹورنامنٹ شروع ہونے سے کچھ ہفتے پہلے ہروے رینارڈ کی رخصتی کے بعد جورجیوس دونیس کوکوچ لگانے کے فیصلے پر بھی تنقید کی جارہی ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس اچانک فیصلے کو عدم استحکام اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی کمی کا ثبوت قرار دیا۔
سعودی عرب اب اپنی توجہ اے ایف سی ایشین کپ پر مرکوز کر رہا ہے جس کی میزبانی وہ اگلے سال خود کرے گا۔ اس حوالے سے شائقین ٹیم کی کارکردگی میں بڑی بہتری اور 1996 کے بعد پہلی مرتبہ براعظمی ٹائٹل جیتنے کا پر زور مطالبہ کررہے ہیں۔
یاسر المسحل نے کہا کہ ‘اگرچہ وہ اپنے عہدے سے الگ ہورہے ہیں لیکن وہ دیگر حیثیتوں میں سعودی کھیلوں کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں گے اور مملکت کے فٹبال کے عزائم کو آگے بڑھانے کی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کرتے رہیں گے۔’
