سٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ: قانونی جواز کے بغیر کسی شہری کا بینک اکاؤنٹ فریز نہیں ہوگا
سٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ: قانونی جواز کے بغیر کسی شہری کا بینک اکاؤنٹ فریز نہیں ہوگا
منگل 30 جون 2026 15:03
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
کوئی بھی بینک محض اپنے طور پر فرض کر کے یا کسی بھی قسم کے شک و شبہ کی بنیاد پر شہریوں کے اکاؤنٹس کے خلاف یکطرفہ کارروائی نہیں کر سکے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کو کسی بھی صارف کا بینک اکاؤنٹ بغیر کسی ٹھوس قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور مناسب تصدیق کے بلاک یا فریز کرنے سے روک دیا ہے۔
مرکزی بینک کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تمام کمرشل اور مائیکرو فائنس بینکوں کے چیف کمپلائنس آفیسرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ کسی بھی بینک اکاؤنٹ پر ڈیبٹ بلاک، آپریشنل پابندی یا اکاؤنٹ فریز کرنے کا اقدام صرف قانون کے مطابق، قانونی اختیار اور مناسب تصدیق کے بعد ہی اٹھایا جائے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دو جون کو ایک شہری کی درخواست پر سماعت کے دوران نجی بینک پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے سٹیٹ بینک کو اس سلسلے میں نئے اصول و ضوابط وضع کرنے کی ہدایت کی تھی، جس کی تعمیل میں مرکزی بینک نے اب یہ اقدام سامنے آیا ہے۔
سٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں کو مزید کیا ہدایات جاری کی ہیں؟
پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے کمرشل بینکوں کو جاری کیے گئے ہدایت نامے میں بتایا گیا ہے کہ اب کوئی بھی بینک محض اپنے طور پر فرض کر کے یا کسی بھی قسم کے شک و شبہ کی بنیاد پر شہریوں کے اکاؤنٹس کے خلاف یکطرفہ کارروائی نہیں کر سکے گا۔
قانونی اختیار کی شرط
ملک بھر کے تمام کمرشل اور مائیکروفائننس بینکوں کے چیف کمپلائنس آفیسرز کو پابند کیا گیا ہے کہ کسی بھی صارف کا اکاؤنٹ فریز کرنے یا اس پر آپریشنل پابندیاں لگانے سے قبل باقاعدہ قانونی اختیار اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کا ہونا لازمی ہے۔
مناسب تصدیق کا عمل
نوٹیفکیشن کے مطابق، بینکوں کے لیے اب یہ لازمی ہوگا کہ وہ کسی بھی اکاؤنٹ کے خلاف ڈیبٹ بلاک لگانے سے پہلے معاملے کی مکمل اور مناسب تصدیق کریں۔
بینکوں کا اندرونی نظام
سٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں کہ وہ اس عدالتی حکم پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اپنا مناسب اندرونی تعمیلی میکانزم واضع کریں۔
مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ اس نئے طریقہ کار کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بینکوں کی جانب سے کسی بھی غیر ارادی یا محض ’احتیاطی تدبیر‘ کے طور پر اٹھائے گئے اقدامات سے اکاؤنٹ ہولڈرز کو کوئی غیر ضروری مالی یا ذاتی نقصان نہ پہنچے۔
اس فیصلے کے بعد اب ملک بھر کے بینک صارفین کو یہ بڑی سہولت ملے گی کہ بینک انتظامیہ محض شک یا ’احتیاطی تدبیر‘ کی بنیاد پر ان کے اکاؤنٹس بند یا رقم نکلوانے پر پابندی نہیں لگا سکے گی۔ جبکہ اس سے قبل بینکوں کی ایسی کارروائیوں کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ اور نجی بینک کو جرمانہ
سٹیٹ بینک کے اس فیصلے کا پس منظر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر کا وہ چھ صفحات پر مشتمل فیصلہ ہے، جس میں بغیر کسی قانونی وجہ کے شہری محمد عثمان کا اکاؤنٹ بلاک کرنے پر ایک نجی بینک کو تین لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا تھا۔
مقدمے کے حقائق کے مطابق، این سی سی آئی اے نے ایک انکوائری کے سلسلے میں بینک سے مذکورہ شہری کا صرف ڈیٹا مانگا تھا۔ تاہم، بینک نے ڈیٹا فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ’احتیاطی تدبیر‘ کے طور پر خود ہی صارف کا اکاؤنٹ بھی بلاک کر دیا۔
عدالت نے بینک کو حکم دیا تھا کہ وہ شہری کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے ایک ماہ میں تین لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرے (فوٹو: اے ایف پی)
سماعت کے دوران این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے اکاؤنٹ بلاک کرنے کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی، جس پر نجی بینک نے بھی اپنی غلطی تسلیم کی۔
عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں بینک کے اس طرزِ عمل کو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 23 اور 24 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ بینک اکاؤنٹ میں جمع رقم شہری کی ملکیت (پراپرٹی) ہے اور کسی بھی شخص کو مضبوط قانونی وجہ کے بغیر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے بینک کو حکم دیا تھا کہ وہ شہری کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے ایک ماہ میں تین لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرے، اور ساتھ ہی سٹیٹ بینک کو نئے رہنما اصول وضع کرنے کی ہدایت کی جس پر عمل کرتے ہوئے اب یہ نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
قانونی اور بینکاری کے امور کے ماہرین اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے اور سٹیٹ بینک کے نئے ہدایت نامے کو صارفین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ ’عدالت نے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم کو آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کے تحت شہری کی ’پراپرٹی‘ یا ملکیت قرار دے کر ایک اہم قانونی اصول واضح کر دیا ہے۔
قانونی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ ’ماضی میں بینک انتظامیہ اکثر تفتیشی اداروں کے ساتھ محض خط و کتابت یا احتیاطی تدابیر کے تحت خود ہی اکاؤنٹس معطل کرنے کا فیصلہ کر لیتی تھی، تاہم اس عدالتی فیصلے کے بعد اب شہریوں کے ملکیتی حقوق کو تحفظ ملے گا اور بینکوں کی جانب سے یکطرفہ کارروائیوں کا امکان کم ہو جائے گا۔‘