’راہِ بخور‘: برطانوی مہم جو کا سعودی صحرا میں دو ہزار کلومیٹر کا تاریخی سفر
’راہِ بخور‘: برطانوی مہم جو کا سعودی صحرا میں دو ہزار کلومیٹر کا تاریخی سفر
بدھ 1 جولائی 2026 7:03
روزی سٹینسر نے اپنی کچھ خواتین ساتھیوں اور چند اونٹوں کے ساتھ 69 روز میں مملکت کے جنوب مغرب سے شمال مغرب تک دو ہزار کلو میٹر کا فاصلہ پیدل چل کر صحرا کو عبور کرنے کی مہم سر کر لی ہے۔
برطانوی قطب تک پہنچے والی صبر آزما مہِم جُو نے آج تک اِس قسم کی جتنی بھی مُہمات سر کی ہیں یہ اُن میں سب سے زیادہ پُرعزم جذبے کی عکاسی کرنے والی مُہم ہے۔ اِس مہم میں اُن کے ساتھ صرف خواتین تھیں جن کی وہ قیادت کر رہی تھیں۔ اِس ٹیم نے جس راستے کا انتخاب کیا اُس کی اپنی تاریخی اہمیت ہے کیونکہ پرانے وقتوں میں کاروان، مسالا جات، خوشبوئیں اور لوبان و بخُورات کو مملکت کے مغربی علاقوں سے شمال کی طرف جانے کے لیے اِسی راستے کو استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے اسے ’لُوبان اور بخُور کا تجارتی راستہ‘ یا انگریزی میں ’انسینس روٹ‘ کہتے ہیں۔
روزی سٹینسر اور اُن کی ٹیم شدید گرمی میں اِس راستے پر پیدل چلتے اور روزانہ تقریباً 30 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتے تھے۔ اِس مُہم میں اُنھیں گرد اڑاتی اور یکایک رُخ بدلتی ریت اور ایسے دشوار گزار راستوں سے پالا پڑا جو انسانی برداشت کی حدوں کو چُھو کر اُسے امتحان میں ڈال رہے تھے۔
انھوں نے اِس سفر کا آغاز نجران کے انتہائی جنوب مغربی حصے سے کیا جو تجارت کا دوراہا سمجھا جاتا رہا ہے۔ اِس سفر میں انھیں دو صحراؤں کو عبور کرنا تھا یعنی صحرائے ربعہ الخالی اور صحرائے نفوذ۔ اِس کے علاوہ ان کے راستے میں سروات کے پہاڑی سلسلے بھی آئے اور بڑے بڑے ثقافتی مراکز اور ورثے کے وہ مقامات بھی جو مملکت کے مغربی حصوں سے ملحق ہیں۔ اِن میں حِمٰی، بیشہ، مدینہ، خیبر، العلا اور تبوک شامل ہیں۔
مُہم کے اختتام پر عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے سٹینسر نے بتایا کہ ’بخور کا راستہ‘ زندگی بدل دینے والا سفر ثابت ہوا ہے۔
’تحقیق اور مُہمیں، نامعلوم کو معلوم میں بدلنے کا ایک ذریعہ ہوتی ہیں اور اِن میں اکثر مہموں کے دوران غیر متوقع حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اِس سفر نے صرف مجھے نہیں بلکہ میری پوری ٹیم کو انتہائی شان و شوکت والا اور حیرت میں ڈال دینے والے تنوع سے بھرپور سعودی عرب دکھایا ہے جو ہماری اُس سوچ سے کہیں بڑھ کر ہے جو اِس مُہم کو شروع کرنے سے پہلے ہمارے ذہنوں میں پائی جاتی تھی۔‘
اِس مہم میں روزی سٹینسر کے ساتھ صرف خواتین تھیں (فوٹو: عرب نیوز)
سفر کے دوران سٹینسر اور اُن کی ٹیم نے قدیم تاریخ کے اُن اوراق کو پلٹ پلٹ کر دیکھا جن کی بنیاد پر مملکت روز بروز ایک پائیدار مستقبل کی طرف بڑھی رہی ہے۔
’انسان ماضی کی کھوج لگاتے لگاتے، سعودی عرب میں پوری زندگی گزار سکتا ہے اور ہمارے لیے یہ باعثِ اعزاز ہے کہ ہم نے مملکت کے کچھ حصوں میں وہ کوششیں بھی دیکھی ہیں جو یہاں کے بیش قیمت ورثے کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے لاتعداد اقدامات کی ایک جھلک ہے۔‘
’حِمٰی میں 10 ہزار برس قدیم پہاڑوں پر فطری نقاشی اور قدرتی فن کے سائے میں دوپہر کا کھانا کھانے جیسے موقعے زندگی میں ایک ہی بار ملتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہماری راہ میں کئی ثقافتی علامتیں بھی آئیں جو وہ دل میں بس جانے والی تھیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’العلا نے تو میرے اُس حقیقی احساس ہی کو جگا دیا جب مسالا جات اور بخور و لوبان کو لے کر کاروان، یہاں کے نخلستان سے گزرا کرتے ہوں گے۔‘
مُہم جوؤں کے راستے پر جہاں جہاں مقامی کمیونٹیوں کا بسیرا آتا تھا، اُنھوں نے اِس ٹیم کا خیر مقدم کیا۔ مُہم جُو ٹیم نے وہ سعودی عرب دیکھا جسے کسی غیر ملکی نے شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔۔۔ ایسا سعودی عرب جو فیاض ہے، جو اپنے اوپر نازاں ہے کیونکہ اُس کے ورثے کی جڑیں بہت گہری ہیں اور جو خاموشی مگر برق رفتاری کے ساتھ توانائی سے بھرپور ایک قوم کے قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے حال سے مستقبل کی جانب رواں دواں ہے۔
ان خواتین کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا، انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا (فوٹو: عرب نیوز)
سٹینسر کے مطابق ’جہاں جہاں ہم گئے اور جن سے بھی ملے خواہ وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے تھے، یہ لوگ غیر معمولی طور پر مہمان نواز اور فیاض ہیں۔ ہم اِن لوگوں کی ایسی روایات سے بے حد متاثر ہوئے۔ دعوتوں کے بلاوے اِتنے زیادہ تھے کہ مجھے ٹیم سے کہنا پڑا کہ ہم یہ سب ضیافتیں قبول کرنے بیٹھ گئے تو آگے سفر جاری رکھنے کے بجائے کھا کھا کر موٹے ہوتے جائیں گے۔ اِس طویل سفر کے دوران مجھے جس طرح کا احترام اور نوازشوں کا سامنا ہوا، میں اُسے ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ اُس احساس کی تو کوئی قیمت ہی نہیں جو میں سعودی عرب سے ساتھ لے آئی اور جو اب میری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔‘
سٹینسر اِس سفر میں اُن لمحات کے دوران بہت متاثر ہوئیں جب اُنھوں نے مملکت کے مستقبل کے لیے لوگوں کی آنکھوں میں اُمنگ کی چمک اور دل میں اُمید دیکھی۔ ’ہمارے لیے یہ بہت اہم تھا کہ ہر فرد، مملکت کے پائیدار مستقبل کے لیے مثبت رائے اور وژن رکھتا ہے اور اُس کے اندر اِس مقصد کے حصول کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ بھی ہے۔‘‘
’ہمیں اِس سفر میں بہت سی خواتین بھی ملیں جن میں کاروبار کرنے والی خواتین، اُستانیاں، دستکار لڑکیاں اور شادی شدہ عورتیں یا مائیں شامل تھیں۔ ہر کوئی اپنے نئے تبدیل ہوتے ہوئے کردار سے واضح طور پر خوش نظر آ رہا تھا۔ اُنھیں اپنی روایات اب بھی عزیز ہیں لیکن وہ مستقبل میں اپنے کردار سے بھی بہت زیادہ خوش ہیں۔ یہ اِس بات کا ثبوت بھی ہے کہ معلومات یا کچھ جانے بغیر، رائے نہیں دینی چاہیے۔ ‘
روزی سٹینسر سعودی عرب کی مہمان نوازی سے متاثر ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
سٹینسر کے بقول چیلنجز تو تھے ہیں جن میں راستہ تلاش کرنے کی مشکلیں، شدید گرمی، ناقابلِ برداشت سردی اور پھر اچانک اُن مہمانوں سے ملاقات جنھیں آپ ملنا نہیں چاہتے یعنی سانپ اور بچھُو بھی تھے۔ میرے پاؤں چھالوں سے تو بچ گئے لیکن میرے لیے سب سے مشکل چیلنج وہ تھا جب مدینہ میں قدیم زمانے میں اُبلنے والے لاوے کی وجہ سے بننے والے ناہموار میدانوں میں چلتے ہوئے میرے ایک پاؤں کی ایڑی اور تلوے کے نچلے حصے میں درد شروع ہوگیا۔ اُس کے بعد سفر کے اختتام تک میں لنگڑا کر ہی چلتی رہی۔‘
مستقبل میں ایسی مُہمات کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ ’میری عمر 60 سال سے زیادہ ہو گئی ہے لیکن اپنے مشغلے کو چھوڑنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں۔ راہِ بخور پر پیدل سفر کی مُہم، صحرا میں تین مُہموں کا اختتامی مرحلہ تھی۔ اب میں کسی دوسرے ماحول میں کچھ کرنا چاہوں گی۔‘
روزی سٹینسر کے مطابق ’سعودی عرب ہمیشہ میرے دل میں بسا رہے گا اور میں اُن لوگوں کی تہہِ دل سے شکر گزار رہوں گی جنھوں نے میری اِس صحرائی مہم کو کامیاب بنانے میں مدد کی۔ اُن میں مجھے تعاون فراہم کرنے والے فورڈ ناغی بھی ہیں اور میرے وہ ساتھی بھی جن میں کچھ تو دو پاؤں والے (انسان) ہیں اور کچھ چار پاؤں والے (اونٹ)!۔