کشمیر: کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنما شوکت نواز میر گرفتار
منگل 30 جون 2026 18:02
فرحان خان، اردو نیوز۔ اسلام آباد
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے والی کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنما شوکت نواز میر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
منگل کی شام دارالحکومت مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر منیر قریشی نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت نواز میر کی گرفتاری کی تصدیق کی۔
انتظامیہ کے مطابق انہیں ضلع مظفرآباد اور باغ کی حدود کے قریب سے حراست میں لیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق یہ ایک مشترکہ آپریشن تھا جس میں قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے بھی حصہ لیا۔
ایس ایچ او دھیر کوٹ راجہ سہیل نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’شوکت نواز میر اور ان کے دو ساتھیوں کو دھیر کوٹ کے قریب ’ہِلّاں‘ کے مقام پر ایک نالے کے پاس سے گرفتار کیا گیا جو سنگڑ پٹھاریاں نامی گاؤں کے نزدیک واقع ہے۔‘
راجہ سہیل کے مطابق حراست میں لیے گئے دیگر دو افراد میں سے ایک پر شوکت نواز میر کو اپنے گھر میں پناہ دینے کا الزام ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’گرفتار رہنما سے ابتدائی تفتیش کی جا رہی ہے، تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان کی موجودہ لوکیشن ظاہر نہیں کی گئی۔‘
ایک کروڑ روپے انعام اور شیڈول فور
واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں جب حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کی تو شوکت نواز میر، سردار عمر نذیر، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان کی گرفتاری میں مدد دینے پر ایک، ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد خطے میں سینکڑوں افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں۔
پونچھ ڈویژن میں مقامی انتظامیہ نے ان سرکاری ملازمین، حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کا ریکارڈ بھی تادیبی کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں کو فراہم کیا ہے جن کی فہرستیں پبلک کی جا چکی ہیں۔
راولاکوٹ میں کرفیو اور مظفرآباد کی صورتحال
دوسری جانب پونچھ ڈویژن کے مرکزی شہر راولاکوٹ میں گزشتہ تین ہفتوں سے بدستور کرفیو نافذ ہے اور شہر کے اطراف میں چار مقامات پر دھرنے جاری ہیں۔
ان میں دریک عیدگاہ گراؤنڈ اور متیالمیرہ بس ٹرمینل پر مظاہرین کی بڑی تعداد موجود ہے۔
اس کے برعکس دارالحکومت مظفرآباد میں صورتحال بتدریج معمول پر آ رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے آخر میں شوکت نواز میر کے قریبی ساتھی اور مرکزی انجمن تاجران کے نائب صدر گوہر کشمیری نے دیگر تاجر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ایکشن کمیٹی سے علیحدگی اور مارکیٹیں کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
مقامی صحافی سجاد میر کے مطابق مظفرآباد کا تجارتی مرکز قریباً 20 سے 25 فیصد تک کھل چکا ہے اور بڑے برانڈز کے آؤٹ لیٹس فعال ہیں، تاہم بینکوں اور اے ٹی ایم سروز کی معطلی کے باعث خریداروں کی تعداد انتہائی کم ہے۔
’شہر میں اس وقت سب سے بڑا چیلنج پٹرول کی عدم دستیابی ہے، جس کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے اور انٹرنیٹ تین ہفتوں سے بند ہے جس کی وجہ سے بہت مشکلات ہیں۔‘
لاتعلقی کے اعلانات اور مذاکرات میں ڈیڈ لاک
حالیہ دنوں میں ایکشن کمیٹی کے کئی اہم ارکان جن میں راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ، انجم زمان اعوان، فیصل جمیل کاشمیری اور افتخار زمان شامل ہیں، کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں وہ کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کر چکے ہیں۔
اس وقت حکومت اور کالعدم کمیٹی کے مابین مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ پانچ جون کے بعد حکومت کی جانب سے کیے گئے تمام تادیبی اقدامات اور نوٹیفکیشنز منسوخ کیے جائیں، جبکہ حکومت کا اصرار ہے کہ کسی بھی بات چیت سے قبل دھرنے فوری طور پر ختم کیے جائیں۔
سیاسی رہنماؤں کی آمد پر پابندی اور ثالثی کی کوششیں
اس سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے اسلام آباد میں بھی متحرک دیکھا گیا ہے۔ پیر کے روز اپوزیشن لیڈرز محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مصطفیٰ نواز کھوکھر راولاکوٹ دھرنے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے، تاہم اسلام آباد پولیس نے انہیں سہالہ کے مقام پر روک دیا۔ ان رہنماؤں نے وہاں دھرنا دیا اور بعد ازاں اسلام آباد واپس آ کر پریس کانفرنس کی۔
علاوہ ازیں، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی حکومت اور کشمیری مظاہرین کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے، تاہم مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی باقاعدہ پیغام موصول نہیں ہوا ہے۔