Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی واٹر ویک اختتام پذیر، پانی کے تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور

مباحثوں میں پانی کے وسائل کے انتظام کے لیے جدید حل پر توجہ مرکوز کی گئی (فوٹو: واٹر ویک ایکس)
سعودی واٹر ویک 2026 چار روزہ سائنسی اور تکنیکی مباحثوں کے ساتھ جدہ میں اختتام پذیر ہو گیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ان سیشنز میں فیصلہ سازوں، ماہرین، محققین اور بین الاقوامی تنظیموں، سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ان سیشنز میں پانی کے مستقبل، آبی تحفظ اور پائیداری سے متعلق اہم امور پر غور کیا گیا جو مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
بدھ کو اختتامی دن کے موقع پر پانی کے وسائل کے انتظام کے لیے جدید حل پر توجہ مرکوز کی گئی، ساتھ ہی ماحولیاتی اور موسمیاتی چیلنجز کے مقابلے میں کمیونٹیز کی مزاحمتی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر بھی غور کیا گیا۔
اس کے علاوہ گورننس، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور ٹیکنالوجی کی مقامی سطح پر منتقلی کے حوالے سے عالمی بہترین طریقۂ کار پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

مباحثوں میں آبی خطرات کے انتظام، پانی اور غذائی تحفظ کے باہمی تعلق، اور مملکت کی ان کوششوں پر بھی بات کی گئی جن کا مقصد سپلائی چینز کو مقامی بنانا اور پانی کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔
خصوصی ورکشاپس کے ایک سلسلے میں پانی کی ترسیل کے نظام، سمارٹ ڈیٹا اور ریموٹ سینسنگ کے استعمال، واٹر آڈٹ، واقعات کی تحقیقات اور حفاظت و آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کی حکمتِ عملیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی واٹر ویک کے دوران زیرِ بحث آنے والے متنوع موضوعات پانی سے متعلق بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجز پر توجہ کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ مباحث مملکت کے اس کردار کو بھی اجاگر کرتے ہیں جو آبی تحفظ اور وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی مکالمے، جدت اور شراکت داری کو فروغ دینے میں ادا کیا جا رہا ہے۔

شیئر: