سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے سمارٹ فارمنگ کا نیا دور
جازان میں آم کے باغات میں پانی کے استعمال میں 19 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں سمارٹ فارمنگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی منفرد مثال عسیر ریجن کی کمشنری رجال المع کے مرکز الحبیل کے مشرق میں واقع گاؤں ہے جہاں ’مینگو حسوہ‘ فارم میں آم کی کامیاب کاشت کی جا رہی ہے۔
ایس پی اے کےمطابق بلند و بالا پہاڑوں اور سرسبز وادیوں کے درمیان یہ فارم اس تبدیلی کا عکاس ہے جو مملکت کے زرعی شعبے میں پائیداری، پانی کے موثر استعمال اور غذائی تحفظ کے فروغ کے لیے کی جا رہی ہے۔
مینگو حسوہ جسے عبداللہ سعد الزالفی فارم بھی کہا جاتا ہے، کا آغاز سال 2019 میں ماحولیاتی پائیداری اور غذائی تحفظ کو فروغ دینے کے مقصد سے کیا گیا۔
پہلے زمین کی خصوصیات اور پانی کے ذرائع کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا تاکہ رجال المع کے موسمی ماحول میں آم کی کامیاب کاشت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس وقت فارم میں آم کی متعدد اقسام کو کامیابی سے کاشت کیا جا رہا ہے۔ آبپاشی کے لیے زیادہ تر اگست سے اکتوبر تک ہونے والی بارشوں پر انحصار کیا جاتا ہے جبکہ خشک موسم میں معیاری زیرِ زمین پانی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
فارم میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظام کے ذریعے کاشتکاری کی گئی جس کے ذریعے مٹی میں نمی کا تناسب، ہوا کی رفتار اور پانی کے معیار کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔
وہاں نصب سینسرز کی مدد سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لیے خصوصی سافٹ ویئر ڈیزائن کیا گیا ہے، تجزیے کی بنیاد پر آبپاشی، کھاد اور دیگر زرعی اقدامات کے حوالے سے فیصلے کیے جاتے ہیں۔

یہ جدید طریقہ کار امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی کی ڈاکٹر امینہ حمدونی کی تحقیق سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
سمارٹ منصوبے کا مقصد کسانوں کو جدید آبپاشی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سمارٹ فارمنگ اپنانے کی ترغیب دینا ہے تاکہ پانی کے موثر استعمال کے ساتھ ساتھ غذائی اور آبی تحفظ کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
فارم کے نگران جمال عبداللہ الزالفی نے بتایا کہ ’سال 2026 فارم کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوا، جب مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر زرعی نظام میں شامل کیا گیا۔‘
ان کے مطابق نمی، ہوا کی رفتار اور پانی کے معیار سے متعلق معلومات کو ذہین تجزیاتی نظام سے جوڑنے کے بعد فارم میں آم کے درختوں پر پھول آنے کی شرح 98 فیصد سے بڑھ گئی ہے جبکہ 2025 میں یہ شرح تقریباً 60 فیصد تھی۔ اس کے ساتھ آبپاشی، کھاد اور بیماریوں سے تحفظ کے فیصلے بطی پہلے سے کہیں زیادہ موثر ہوگئے ہیں۔‘

خیال رہے قومی منصوبے کے تحت کیے جانے والے تجربات کے حوصلہ افزا تنائج سامنے آئے ہیں۔
جازان میں آم کے باغات میں پانی کے استعمال میں 19 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ الباحہ کے گرین ہاوسز میں تقریباً 24 فیصد پانی بچایا گیا۔
جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مینگو حسوہ فارم نے 2025 کے دوران محدود رقبے کے باوجود تقریباً چار ٹن اعلٰی معیار کے آم کاشت کیے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی سمارٹ فارمنگ اب صرف ایک تجربہ نہیں بلکہ سعودی زرعی شعبے کی نئی سمت اختیار کر چکا ہے۔
اس کے ساتھ ہائیڈرو پونکس (مٹی کے بغیر کاشت) ورٹیکل فارمنگ، جدید گرین ہاؤسز، حیاتیاتی کھادیں اور نینو ٹیکنالوجی بھی تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔
