بلوچستان کے ضلع شیرانی میں پیش آنے والے الم ناک بس حادثے میں زخمی ہونے والے بعض مسافروں کے بیانات کے بعد بلوچستان حکومت نے حادثے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محکمۂ ٹرانسپورٹ نے متعلقہ بس کمپنی کا کوئٹہ میں دفتر سِیل کرکے اس کی گاڑیوں کو چلنے سے روکنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
بلوچستان کے ضلع شیرانی کی حدود میں پہاڑی علاقے دانہ سر میں جمعہ کی صبح پیش آنے والے حادثے میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں
-
سوات ایکسپریس وے پر حادثہ، وین اور بس کے ٹکرانے سے 17 افراد ہلاکNode ID: 904666
ابتدائی طور پر حکام نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ بس تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور سے بے قابو ہو کر حادثے کا شکار ہوئی تاہم اس حادثے میں زخمی ہونے والے دو مسافروں نے ڈرائیور پر مسافروں کے ساتھ تلخ کلامی اور ایک زخمی نے ڈرائیور پر جان بوجھ کر بس کھائی میں گرانے کا الزام عائد کیا ہے۔
حادثے میں ہلاک ہونے والے ڈرائیور کی شناخت مراد ناصر عرف بابو استاد کے نام سے ہوئی ہے جو لورالائی کے علاقے کلی باور کا رہائشی ہے۔ مرحوم ڈرائیور کے لواحقین نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رِند نے ایک بیان میں کہا کہ ’حکومت اس حادثے کے ہر پہلو کا غیرجانبدارانہ اور شفاف جائزہ لے گی تاکہ اصل اسباب کا تعین کیا جا سکے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’تفتیش میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کا تعین قانون اور حقائق کی روشنی میں کیا جائے گا۔‘

شاہد رند نے کہا کہ ’وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان کو واقعے کی مکمل تفتیش، تمام حقائق کی جانچ پڑتال اور حادثے کے اسباب پر جامع رپورٹ مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔‘
سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان محمد حیات کاکڑ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’حادثے کے بعد سامنے آنے والے تمام الزامات کی تفتیش شروع کردی گئی ہے اور ابتدائی طور پر کوئٹہ کے علاقے جبل نور میں قائم نیو میختر بس کمپنی کا دفتر سِیل کیا گیا ہے جبکہ تمام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ کمپنی کی گاڑیوں کو اگلے حکم تک مزید چلنے نہ دیا جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’تفتیش میں ڈرائیور کے کردار، مسافروں کے ساتھ رویے، بس میں سمگلنگ کے سامان کی موجودگی سمیت دیگر تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائےگا اور اگر یہ الزامات ثابت ہوئے تو کمپنی مالکان سمیت ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔‘
شیرانی میں تعینات ایک سرکاری افسر نے تصدیق کی کہ واقعہ سے قبل حادثے کی جگہ سے چند کلومیٹر قبل قائم ایک چوکی پر متاثرہ بس کو روکا گیا تھا اور چیکنگ کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے گاڑی سے ایرانی سمگل شدہ ڈیزل اتارا تھا۔
مسافر کیا کہتے ہیں؟
حادثے میں زخمی ہونے والے مسافر حسین احمد نے بتایا کہ ’وہ راستے میں بس خراب ہونے پر ایک اور مسافر کے ساتھ پشاور جانے والی اس بس میں سوار ہوئے تھے۔‘
حسین احمد کو حادثے میں زخمی ہونے کے بعد علاج کے لیے سول ہسپتال ژوب کے ٹراما سینٹر لایا گیا تھا جہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’سفر کے دوران بس میں موجود مسافروں اور ڈرائیور کے درمیان تلخ کلامی ہو رہی تھی۔‘
حسین احمد کے مطابق ڈرائیور مسافروں سے کہہ رہا تھا کہ ’تماری وجہ سے میرا ڈیزل ( پکڑا گیا) ضائع ہوا۔‘

انہوں نے الزام لگایا کہ بحث کے دوران ڈرائیور نے غصے میں آ کر سٹیئرنگ موڑا جس کے نتیجے میں بس گہری کھائی میں جا گری۔
حادثے میں زخمی ہونے والے ایک اور مسافر باجوڑ کے رہائشی امان اللہ نے بھی سفر کے دوران ڈرائیور اور مسافروں کے درمیان کشیدگی کی تصدیق کی تاہم انہوں نے کہا کہ ’وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ حادثہ جان بوجھ کر کیا گیا یا بس خود بے قابو ہوکر حادثے کا شکار ہوئی۔‘
امان اللہ کے مطابق وہ نوشکی میں مسلح افراد کی جانب سے جلائی جانے والی اپنی گاڑی کی رپورٹ درج کرانے کے لیے بلوچستان آئے تھے۔ واپس پشاور جاتے ہوئے اس حادثے کا شکار ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ ’کوئٹہ میں روانگی کے وقت سے ہی بس کے ڈرائیور کا رویہ مسافروں کے ساتھ مناسب نہیں تھا۔ بس کوئٹہ سے مقررہ وقت کی بجائے تقریباً دو گھنٹے تاخیر سے جمعرات کی شام چھ بجے روانہ ہوئی اور فجر کے وقت ژوب سے آگے سفر شروع کیا۔‘
کوئٹہ سے ژوب تک کا فاصلہ عام طور پر پانچ سے چھ گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ مسافر کے بیان کے مطابق بس راستے میں جگہ جگہ کافی دیر کھڑی ہوتی رہی۔
کوئٹہ میں کچلاک کے مقام پر مسافروں کو سوار کروانے کے لیے بس ڈیڑھ گھنٹے کھڑی رہی اس دوران پہلے سے موجود مسافروں کی بس سے نیچے اترنے کی اجازت نہ دینے پر ڈرائیور سے بحث بھی ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ژوب سے روانگی کے بعد ایک مقام پر ناشتہ کیا گیا۔ اس کے بعد راستے میں بس کو ایک ایف سی چوکی پر روکا گیا ۔ بس کی اپنی ٹینکی میں اضافی ایرانی ڈیزل کی موجودگی کی وجہ سے سکیورٹی اہلکار بس کو آگے جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے جس پر کچھ مسافروں نے نیچے اتر کر اہلکاروں کو کہا کہ یا تو اضافی ڈیرل اتار لیں یا بس کو جانے دیں جس کے بعد اہلکاروں نے اضافی ڈیزل اتار کر بس کو جانے دیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ڈرائیور نے بعدازاں بس روک کر ایک بزرگ مسافر کو اُترنے کے لیے کہا جس نے اہلکاروں کو ڈیزل اتارنے کا کہا تھا تاہم بزرگ نے کہا کہ وہ اُتریں گے تو ان کے ساتھ سارے مسافر اُتریں گے۔ دوسرے مسافروں نے بھی اِن بزرگ کا ساتھ دیا جس پر ڈرائیور نے کہا کہ سب اتر جائیں لیکن پھر کچھ مسافروں کی منت سماجت کے بعد اس نے دوبارہ سفر شروع کیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’کچھ ہی دیر بعد ڈرائیور اور پشاور سے تعلق رکھنے والے چند مسافروں کے درمیان دوبارہ بحث شروع ہو گئی۔ ڈرائیور کی جانب سے بس سے اتارنے کی دھمکی پر کچھ مسافروں نے کہا کہ اگر آپ ہمیں اتاریں گے تو آپ کو پشاور میں دیکھ لیں گے تو ڈرائیور نے کہا کہ ’دیکھو گے تو تم اس وقت جب میں تمہیں پشاور زندہ پہنچاؤں گا۔‘
سیکرٹری ٹرانسپورٹ حیات کاکڑ کا کہنا ہے کہ ’زخمیوں کے بیانات کی روشنی میں بھی تفتیش کی جارہی ہے۔‘
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ کا بھی کہنا ہے کہ ’اس مرحلے پر کسی ایک دعوے کی تصدیق کرنا قبل از وقت ہوگا ۔ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ بیشتر زخمیوں کی حالت خراب ہے اور وہ زیر علاج ہیں۔‘
دوسری جانب ڈرائیور کے چچا زاد بھائی افضل خان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور بتایا کہ ’بابو استاد 15 سے 20 سال سے ڈرائیونگ کر رہے تھے، وہ سات سال سے کم عمر ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کے والد تھے اور ایک محنت کش انسان تھے۔‘
ان کے مطابق، وہ جان بوجھ کر اپنی یا دوسروں کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ژوب میں لاش کی حوالگی کے قت ان کی اس دوسری بس کے ڈرائیور سے بھی ملاقات ہوئی جس کے مسافروں کو حادثے کا شکار ہونے والی بس میں منتقل کیا گیا تھا۔‘
افضل خان کے مطابق اس ڈرائیور نے کہا کہ ’وہ کچھ دور کھڑا تھا اور بعد میں وہاں سے گزرنے والے ایک گاڑی کے ڈرائیور نے آکر اطلاع دی کہ ایک ٹرک کو بچانے کی کوشش میں بس کھائی میں جا گری ہے۔‘
ریسکیو آپریشن میں مقامی لوگوں نے کیا کردار ادا کیا؟
شیرانی کے مقامی قبائلی رہنما قدیر خان مڑہیل نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد بڑی تعداد میں موقع پر پہنچ گئے اور امدادی ٹیموں کی آمد سے قبل ہی اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں اور لاشوں کو کھائی سے نکالنا شروع کر دیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں کے پاس گاڑیوں کی کمی تھی جس کے باعث مقامی لوگوں نے اپنی گاڑیوں میں زخمیوں اور لاشوں کو ژوب منتقل کیا جبکہ انہوں نے خود بھی کئی زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔‘
ریسکیو 1122 کے انچارج ثنا اللہ کے مطابق بس 70 فٹ سے زیادہ گہری کھائی میں گری اور پتھروں سے ٹکرا کر مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ بس کا ڈھانچہ بری طرح تباہ ہونے اور گہری کھائی ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن مکمل کرنے میں کئی گھنٹے لگ گئے۔
لاشوں اور زخمیوں کو تقریباً 70 کلومیٹر فاصلے پر واقع ژوب پہنچایا گیا جہاں قریب ترین بڑا سرکاری ہسپتال موجود ہے۔ امدادی کارروائیوں میں ژوب، شیرانی کے علاوہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی ریسکیو ٹیموں نے حصہ لیا جبکہ بعض زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل خان بھی منتقل کیا گیا۔
حکومت بلوچستان نے امدادی کارروائیوں میں تعاون پر خیبر پختونخوا حکومت اور ریسکیو اداروں کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔
ہلاکتوں کی تعداد کیوں بدلی؟
حادثے کے فوراً بعد حکام نے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتائی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند، ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ اور ریسکیو انچارج نے پہلے 40 اموات کی تصدیق کی تھی تاہم بعد میں ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ نے بتایا کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد 32 ہے جبکہ حادثے میں 17 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ کے مطابق ابتدائی افراتفری میں بعض شدید زخمی اور بے ہوش مسافروں کو مردہ سمجھ لیا گیا تھا تاہم ژوب کے سول ہسپتال پہنچنے پر معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہیں جس کے بعد انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ’حادثے کا شکار بس میں راستے میں خراب ہونے والی ایک اور بس کے مسافروں کو بھی منتقل کیا گیا تھا جس کے باعث بس میں معمول سے زیادہ مسافر سوار تھے اور جانی نقصان بڑھ گیا۔‘












