Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات، وزیراعظم شہباز شریف پاکستانی وفد کے ہمراہ تہران میں

وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں سپریم لیڈر کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا (فوٹو: وزیراعظم آفس)
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی دعوت پر اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کی۔ سپریم لیڈر 28 فروری 2026 کو ایران پر ہونے والے حملوں کے دوران جان سے گئے تھے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جمعے کو جاری کردی بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد کی قیادت کی۔ 
وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں پارلیمانی وفد، ارکانِ پارلیمان اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شامل ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقعے پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات بھی کی اور سپریم لیڈر کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے کئی دہائیوں تک غیر معمولی بصیرت، حکمت اور دوراندیشی کے ساتھ ایرانی قوم کی رہنمائی کی۔‘
وزیراعظم نے ایران کے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای، صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور ایرانی عوام کے ساتھ اس قومی سانحے پر مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور شہید رہنما کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے دعا کی۔
وزیراطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’تہران کی فضا سوگوار ہے اور ایرانی قوم نے رہبرِاعلیٰ  کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تہران میں اُن کی تصاویر آویزاں کی ہیں۔‘
وزیراعظم آج ہی تہران پہنچے تھے اور وہ جنازے کی تقریبات میں شرکت کے بعد سرکاری دورۂ ترکیہ کے لیے استنبول روانہ ہوگئے ہیں۔
دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن نقوی کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تہران میں ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایران کے لیے خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن نقوی کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی (فوٹو: وزیراعظم آفس)

آیت اللہ علی خامنہ ای اعلیٰ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں میں اعلیٰ ایرانی قیادت کے ساتھ جان سے گئے تھے جس کے بعد خطے میں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک جنگ جاری رہی اور پاکستان اور قطر سمیت خطے کے دیگر ممالک کی رابطہ کاری اور ثالثی کی کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور اب سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے جو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین تک مؤخر کر دیے گئے ہیں۔

شیئر: