قافلے، نئی فورس اور انشورنس: بلوچستان میں شاہراہوں پر نیا سکیورٹی نظام
قافلے، نئی فورس اور انشورنس: بلوچستان میں شاہراہوں پر نیا سکیورٹی نظام
ہفتہ 13 جون 2026 5:18
زین الدین احمد، -اردو نیوز، کوئٹہ
بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے جمعرات کی شام میں کوئٹہ چیمبر آف کامرس میں مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد حکومتی اقدامات کا اعلان کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان میں قومی شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں کو جلانے، لوٹ مار اور خراب سکیورٹی صورتحال کے خلاف تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کے احتجاج کے بعد حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد صوبے بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال مؤخر کردی گئی ہے۔
حکومت نے شاہراہوں کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے 25 ارب روپے کی لاگت سے نئی فورس کے قیام، جلائی گئی گاڑیوں کے مالکان کو معاوضہ اور بلوچستان میں مال بردار گاڑیوں کے لیے انشورنس سکیم سمیت متعدد اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
تاجر تنظیموں، ٹرانسپورٹرز اور مائنز مالکان کی جانب سے جمعرات کو بلوچستان بھر میں ہڑتال کی گئی تھی جس کے باعث کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں کاروباری مراکز بند رہے جبکہ صوبے کو پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سے ملانے والی اہم شاہراہوں پر ٹریفک بھی معطل رہی۔ مظاہرین نے شاہراہوں پر حملوں، گاڑیوں کو جلانے اور لوٹ مار کے واقعات کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سکیورٹی اور معاوضے کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔
احتجاج میں 20 سے زائد تنظیموں نے حصہ لیا جبکہ سیاسی جماعتوں اور وکلا تنظیموں نے بھی حمایت کی۔ ابتدا میں غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی کال دی گئی تھی تاہم مذاکرات کے بعد اسے ایک روز بعد ہی مؤخر کردیا گیا۔
ٹرانسپورٹراور تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ میں بلوچستان کی اہم شاہراہوں خصوصاً کوئٹہ۔تفتان ایران روٹ پر درجنوں مال بردار گاڑیاں جلائی جا چکی ہیں جس سے ایک ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ ان کے مطابق پہلے صرف معدنیات لے جانے والی گاڑیاں نشانہ بنتی تھیں لیکن اب پھل، خوراکی اشیا سمیت عام تجارتی سامان اور ایل پی جی ٹینکرز بھی حملوں کی زد میں ہیں جس کے باعث بیشتر ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیاں بند کر دی ہیں۔اس صورتحال کے باعث بلوچستان کے اندرون ملک سامان کی ترسیل، ہمسائیہ ملک کے ساتھ تجارت رک گئی تھی۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے جمعرات کی شام میں کوئٹہ چیمبر آف کامرس میں مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد حکومتی اقدامات کا اعلان کیا۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات نے اعتراف کیا کہ تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کا احتجاج بلا وجہ نہیں ، ان کے بیشتر مسائل حقیقی ہیں جن کے حل کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں۔
حمزہ شفقات نے کہا کہ تاجروں کے 33 مطالبات میں سے 15 پر اتفاق ہو چکا ہے جبکہ باقی معاملات پر بھی بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق وفاقی نوعیت کے معاملات پر وزیراعظم سے رابطہ کیا گیا ہے اور وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین ایف بی آر بجٹ کے بعد کوئٹہ آئیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ شاہراہوں پر سکیورٹی کے لیے نئی فورس قائم کی جا رہی ہے جبکہ مال بردار گاڑیوں کے لیے انشورنس نظام بھی متعارف کرایا جائے گا اس سلسلے میں اسٹیٹ لائف انشورنس سے بات چیت جاری ہے۔ بلوچستان حکومت بھی انشورنس میں اپنا حصہ ڈالے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہوں پر جلائی گئی گاڑیوں کے مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کی جائے گی اس عمل کو تیز کیا جا رہا ہے ۔ اسی طرح دہشت گردی سے متاثرہ گاڑیوں کی واپسی کا وقت مہینوں سے کم کر کے ایک ہفتہ کیا جا رہا ہے۔
حمزہ شفقات نے کہا کہ تاجروں کے 33 مطالبات میں سے 15 پر اتفاق ہو چکا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ان کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث پھنسنے والی گاڑیوں کو اب قافلوں کی صورت میں سکیورٹی حصار میں منزل تک پہنچایا جائے گا جس میں ضرورت پڑنے پر پاک فوج کی مدد بھی لی جائے گی۔آئی جی بلوچستان بھی تاجروں کے ساتھ سکیورٹی پلان پر مشاورت کریں گے ۔
حمزہ شفقات کے مطابق بار بار اور غیر ضروری چیکنگ کی شکایات کا بھی ازالہ کیا جارہا ہے۔قومی شاہراہوں پر قائم 55 چیک پوسٹوں کی تعداد مرحلہ وار کم کی جائے گی جبکہ بعض چوکیوں سے کسٹم اختیارات واپس لے کر انہیں صرف سکیورٹی تک محدود کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ سے باہر جانے والی چھوٹی اور نجی گاڑیوں کی لکپاس اور بلیلی چیک پوسٹوں پر چیکنگ اب نہیں کی جائے گی جبکہ مال بردار گاڑیوں کے لیے خصوصی کلیئرنس کارڈ سسٹم متعارف کرایا جائے گا تاکہ ایک بار چیکنگ کے بعد بار بار روکا نہ جائے۔سندھ میں بلوچستان کے تاجروں ، ٹرانسپورٹروں اور مسافروں کو تنگ کئے جانے کی شکایات پر سندھ حکومت سے مسئلہ اٹھایا جائےگا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کوئٹہ ڈیرہ غازی خان شاہراہ پر رکھنی کے قریب بواٹہ چوکی پر بسوں اور گاڑیوں کی چیکنگ میں تین چار گھنٹے کی شکایت پر بھی غور کیاگیا۔ اب چیکنگ کو گھنٹوں سے کم کرکے 15 سے 20 منٹ تک لایا جائے گا۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کا کہنا ہے کہ شاہراہوں پر گاڑیوں کو جلانے کے واقعات میں ملوث عناصر مالی دہشت گردی کے ذریعے معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں جس میں کالعدم تنظیمیں اور غیر ملکی ایجنسیاں ملوث ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کئے جارہے ہیں۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کا کہنا ہے کہ شاہراہوں پر گاڑیوں کو جلانے میں ملوث عناصر مالی دہشت گردی کے ذریعے معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ان کا کہنا تھا کہ روڈ نیٹ روک، گاڑیوں اور مائنز اینڈ منرل کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی فورس قائم کی جارہی ہے جو اگلے چھ مہینے میں تیار ہوگی۔ اس وقت تک مال بردار گاڑیوں کو سکیورٹی حصار میں خصوصی قافلوں میں لے جایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی بجٹ سے پیسہ نکال کر سکیورٹی پر لگایا جارہا ہے۔حکومت اور تاجر برادری اسمگلنگ کے خاتمے پر متفق ہیں، سمگلنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی تاہم جائز اور قانونی کاروبار کو ہر قسم کی سہولت دی جائے گی۔
صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ دشمن عناصر اور بیرونی قوتیں اربوں روپے خرچ کرکے بلوچستان میں بدامنی پھیلانے، کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنے اور عوام، سکیورٹی فورسز، تنصیبات و تاجر برادری کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں تاہم حکومت، عوام، تاجر برادری اور سکیورٹی ادارے مل کر ان عزائم کو ناکام بنائیں گے۔
تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کی نمائندہ تنظیم آل بلوچستان بزنس الائنس اینڈ ایکشن کمیٹی کے سربراہ اور کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ایوب مریانی نے کہا کہ یہ احتجاج امن و امان کی خراب صورتحال، مال بردار گاڑیوں کو نذر آتش کیے جانے، لوٹ مار اور قانونی تجارت میں رکاوٹوں کے خلاف کیا گیا تھا ۔
ان کے مطابق حکومت، کور کمانڈر بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام نے مذاکرات میں سنجیدگی دکھائی جس کے بعد احتجاج مؤخر کیا گیا ہے۔
مائنز اونرز ایسوسی ایشن کے رہنما میر بہروز ریکی کا کہنا ہے کہ احتجاج وقتی طور پر مؤخر کیا گیا ہے اور آئندہ 10 روز میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔اگر مطالبات پر عمل نہ ہوا تو دوبارہ احتجاج کیا جاسکتا ہے۔