سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ’مشار فلکی رصد گاہ‘ وادی مشار میں ’اجا پہاڑ‘ کے دامن میں واقع ہے، اس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رصد گاہ 3 ہزار 500 برس سے زیادہ قدیم ہے۔
چٹانی ساختوں کے ماہر و محقق مشاری النشمی جو کہ ’مشار فلکی رصد گاہ کلب‘ کے سربراہ بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ قدیم شمسی نظام کی اولین رصد گاہ ہے، جہاں سال کے آغاز کا تعین ستارہ الشعری الیمانیہ (سیریس) کے طلوع سے کیا جاتا تھا، جیسا کہ متعدد قدیم تہذیبوں میں رائج تھا۔
’مشار فلکی رصد گاہ‘ وادی میں ’اجا پہاڑ‘ کے دامن میں واقع ہے (فوٹو: ایس پی اے)
ہر برس 5 اگست کو ایک منفرد فلکیاتی نظارہ یہاں دیکھنے کو ملتا ہے، جب سورج کی شعاعیں رصد گاہ کے مخصوص سوراخ سے اندر داخل ہوتی ہیں۔ یہی تاریخ فجر کے وقت ستارہ الشعری الیمانیہ کے طلوع سے بھی ہم آہنگ ہوتی ہے۔
اسی روز شام کے 5 بج کر 25 منٹ پر سورج کی کرنیں دوبارہ اسی سوراخ سے گزرتی ہیں، جبکہ 5 مئی کو یہی منظر مخالف سمت سے دہرایا جاتا ہے۔
یہ فلکیاتی مظہر قدیم انسان کی فلکیاتی مہارت، درست پیمائش اور انجینیئرنگ کے بہترین علم و ہنر کا منہ بولتا ثبوت سمجھا جاتا ہے۔