سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ریجنل وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کا کہنا ہے کہ تبوک ریجن کی موزوں موسمی خصوصیات کی بدولت مختلف اقسام کے گٹھلی دار پھل ’آلو بخارا، آڑو اور خوبانی‘ کی کامیابی سے کاشت کی جاتی ہے، پھلوں کے علاوہ سبزیوں کی کاشت کے لیے بھی تبوک کا زرعی علاقہ انتہائی سازگار ہے۔
ریجن میں زرعی شعبے کی ترقی کے لیے وزارت کی جانب سے کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی اپنانے، موثر آبپاشی اور کھاد کے جدید نظام کو استعمال کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
فارمز اور کھیتوں کے حوالے سے جاری کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق ریجن میں موجود فارمز کی تعداد 14 ہزار 500 ہے ، جن میں انگور کی بیلوں کی تعداد 15 لاکھ 80 ہزار 575 ہے، جبکہ کھجور کے 8 لاکھ 34 ہزار 358 درخت، زیتون کے 13 لاکھ، انار کے درختوں کی تعداد 80 ہزار، آم کے 90 ہزار درخت مختلف فارمز اور کھیتوں میں پائے جاتے ہیں۔
ریجن میں 15 ہزار ہیکٹر پر گندم کی کاشت بھی کی جاتی ہے۔ (فوٹو: ایس پی اے)
ریجن میں گندم کی کاشت 15 ہزار ہیکٹر جبکہ سبز چارے کی کاشت 27 ہزار 200 ہیکٹر رقبے پر کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں 9 ہزار 850 گرین ہاوسز بھی ریجن میں موجود ہیں، مختلف اقسام کی سبزیوں کی کاشت 50 ہزار ہیکٹر اراضی پر کی جا رہی ہے۔
وزارت کے مطابق تبوک ریجن کا زرعی علاقہ مضبوط پیداواری صلاحیت کا عکاس ہے اور مقامی زرعی مصنوعات کی مارکیٹ میں موجودگی کو مستحکم کرنے کے ساتھ زرعی ترقی، پیداواری استعداد میں اضافے اور زرعی شعبے میں پائیداری کے قومی اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔