صدر ٹرمپ سے ملاقات کی خواہش، ’نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہے‘
صدر ٹرمپ سے نیتن یاہو کی آخری ملاقات فروری میں ہوئی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ہے جو کہ اگلے ہفتے کے آغاز میں ہو سکتی ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس سے ٹیلی فون پر مختصر بات چیت میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں اور نیتن یاہو جانتے ہیں ک اصل باس کون ہے۔‘ ان کا اشارہ اپنی طرف تھا۔
یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان فروری میں سچوئیشن روم میں اس ڈرامائی ملاقات کے بعد پہلی ملاقات ہو گی جس میں نیتن یاہو نے ان کے سامنے یران کے خلاف مشترکہ لڑائی کا منصوبہ رکھا تھا۔
اسرائیل کے ایک سرکاری عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے میں اس ملاقات کا ہونا مشکل ہو گا کیونکہ صدر ٹرمپ ترکیہ کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں نیٹو سربراہی اجلاس سات آٹھ جولائی کو ہو رہا ہے۔
عہدیدار کے مطابق ’یہ ملاقات ممکنہ طور پر نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ہو سکتی ہے۔‘
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو نے جمعے کو صدر ٹرمپ کو فون کر کے امریکہ کے 250 یوم آزادی کی مبارک باد دی تھی۔
پی ایم آفس کے مطابق ’وزیراعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ امریکہ عالمی آزادی کا ضامن ہے اور اسرائیل دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ جلد ہی امریکہ میں ملاقات کریں گے۔‘
رپورٹ کے مطابق فروری میں ہونے والی ملاقات کے بعد سے صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں میں نیتن یاہو سے متعلق شکوک اور مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ’صدر ٹرمپ کے بہت سے قریبی مشیروں کا خیال ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم قریباً ہر معاملے میں غلط ثابت ہوئے ہیں۔‘
پچھلے مہینے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فوجی کارروائیاں بڑھنے پر صدر ٹرمپ نے نتین یاہو سے فون پر سخت ناراضی کا اظہار کیا تھا اور ان کو ’دیوانہ‘ قرار دیتے ہوئے ان پر شکرگزار نہ ہونے کا الزام بھی لگایا تھا۔
اس صورت حال نے اسرائیل جنگ سے متعلق ریپبلکن پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو مزید گہرا کر دیا ہے وار اس سے وابستہ بااثر شخصیات جیسے ٹکر کارلسن صدر ٹرمپ پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ نیتن یاہو کے زیراثر ہیں۔
پچھلے دو ماہ کے دوران جنگ اور خطے سے متعلق دیگر معاملات پر صدر ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے درمیان قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور اندرونی سیاسی مفادات کے معاملات میں نمایاں اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔
نیتن یاہو کی جانب سے تحفظات کے باوجود صدر ٹرمپ نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جس سے ایران کے ساتھ جنگ بندی ہوئی اور جوہری مذاکرات کا نیا دور شروع ہا۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم وہ لبنان میں کارروائیاں سے گریز کریں کیونکہ وہ مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن رہی تھیں۔
وائٹ ہاؤس میں یہ ملاقات نیتن یاہو کے لیے انتہائی اہمت کی حامل ہے کیونکہ وہ اکتوبر میں ہونے والے انتخابات کے لیے اپنی مہم شروع کر چکے ہیں جہاں پولز میں فی الحال وہ پیچھے دکھائی دے رہے ہیں۔