Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران معاہدے کی کوشش میں نیتن یاہو صدر ٹرمپ کے نشانے پر، دوستی کڑی آزمائش میں

یہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے لبنان میں حالیہ اسرائیلی حملوں پر تنقید کی (فوٹو: اے پی)
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا تھا کہ وہ ان کے ’وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے سب سے بڑے دوست ہیں۔‘
اب، جب ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ نیتن یاہو پر ایسے الفاظ میں برس رہے ہیں جنہیں کسی اور امریکی رہنما نے عوامی طور پر استعمال کرنے کی جرات نہیں کی۔
امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انہوں نے اسرائیل کے وجود کا سہرا اپنے سر لیا اور کہا کہ ’میرے بغیر، اسرائیل ہوتا ہی نہیں‘ اور انٹرویوز میں ان کی بصیرت کو برا بھلا کہا۔ انہوں نے یہاں تک کہ انہیں ’پاگل‘ بھی کہا۔
نیتن یاہو کی وزارتِ عظمیٰ چار امریکی صدور پر محیط ہے، اور انہوں نے کسی نہ کسی موقع پر سب کو ناراض کیا۔ لیکن کسی نے بھی اتنی کھلے عام شکایت نہیں کی جتنی ٹرمپ نے کی۔
یہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے لبنان میں حالیہ اسرائیلی حملوں پر تنقید کی، جنہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ٹرمپ ایک معاہدے کے لیے زور دے رہے ہیں کیونکہ انہیں اپنے ملک میں سیاسی ردعمل کا سامنا ہے، جہاں یہ جنگ غیر مقبول ہے اور اس نے پٹرول کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔

جمعے کو جنیوا میں ایک معاہدے پر دستخط ہونے والے ہیں۔ منگل کو فرانس میں سالانہ جی-7 اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو بتایا ہے کہ وہ ان کے حالیہ اقدامات سے خوش نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کے بغیر، اسرائیل نہ ہوتا۔ میرے بغیر، اسرائیل نہ ہوتا کیونکہ کوئی اور صدر وہ کرنے کو تیار نہ تھا جو میں نے کیا، میرا بی بی کے ساتھ بہترین تعلق رہا ہے۔ اب بی بی کو لبنان کے حوالے سے زیادہ ذمہ دار ہونا ہوگا۔‘
واشنگٹن میں اسرائیل کی حمایت پر طویل عرصے سے دو جماعتوں کا اتفاق رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں یہ کمزور پڑ گیا ہے۔ لبرل حلقے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے سلوک پر بڑھتی ہوئی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں، خاص طور پر غزہ کی جنگ کے دوران، اور قدامت پسندوں نے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کی اہمیت پر سوال اٹھایا ہے۔ بائیں اور دائیں دونوں جانب یہودی مخالف جذبات کے بارے میں خدشات موجود ہیں۔

صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کمالا ہیرس اکثر غزہ کی جنگ کے دوران نیتن یاہو سے اختلاف کرتے رہے (فوٹو: اے ایف پی)

ٹرمپ کے تازہ ترین بیانات پر بائیں بازو کے گروہوں نے فوری تنقید کی۔
یہودی ڈیموکریٹک کونسل آف امریکہ کی سربراہ ہالی سوفر نے کہا کہ ’وہ اسرائیل کے وجود کو اپنے ساتھ مشروط کر رہے ہیں، یہ ان یہودیوں کی بھاری اکثریت کے لیے انتہائی توہین آمیز ہے جو اسرائیل کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں۔‘
صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کمالا ہیرس اکثر غزہ کی جنگ کے دوران نیتن یاہو سے اختلاف کرتے رہے، اور کبھی کبھار انہوں نے عوامی طور پر ان پر تنقید بھی کی۔ لیکن وہ زیادہ محتاط رہے تاکہ اسرائیل مخالف ہونے کے الزامات سے بچ سکیں۔
جبکہ ریپبلکن یہودی اتحاد کے صدر میٹ بروکس نے ٹرمپ کی تنقید کو محض خاندان کے افراد کے درمیان ناگزیر اختلاف قرار دیا۔
بروکس نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ ان کی جماعت کی طرف سے ٹرمپ کے بیانات پر کسی نرم تنقید کا مطلب سیاسی تضاد ہے، کیونکہ صدر کے طور پر ٹرمپ اسرائیل کے قابلِ اعتماد حامی رہے ہیں۔

کلائن نے کہا کہ ٹرمپ یہ بیانات عوامی طور پر اسرائیل کے ناقدین کو خوش کرنے کے لیے دے رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے دیگر اقدامات کے ساتھ پہلی ٹرمپ انتظامیہ کے اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے اور صدر کے دوسرے دور میں غزہ سے اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی میں کردار کو اجاگر کیا۔
اسرائیل نواز کارکن مورٹ کلائن نے کہا کہ ٹرمپ کو یہ بیانات نجی رکھنے چاہیے تھے، خاص طور پر اس بات کے پیشِ نظر کہ انہوں نے برسوں تک ترکیہ، شمالی کوریا اور چین کے آمرانہ رہنماؤں کی عوامی تعریف کی ہے۔
کلائن نے کہا کہ انہیں فکر ہے کہ ٹرمپ یہ بیانات عوامی طور پر اسرائیل کے ناقدین کو خوش کرنے کے لیے دے رہے ہیں، ’کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ امریکی اسرائیل کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ دشمنی اختیار کر چکے ہیں۔‘

 

شیئر: