سپریم لیڈر کے جنازے کی تیاریاں، ایران کا طاقتور جنرل منظرِ عام پر
تہران سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کئی روزہ جنازے کی تیاری کر رہا ہے اور ایسے میں ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب کے طاقتور جنرل احمد وحیدی جمعے کو منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسے اے ایف پی کے مطابق ایرانی ریاستی میڈیا کی جانب سے شائع شدہ تصاویر میں دکھایا گیا کہ جنرل احمد وحیدی جنازے کے حوالے سے ایک اجلاس میں شریک ہیں اور پھر خامنہ ای کے تابوت کے ساتھ بیٹھے ہیں۔
ماہرین کے مطابق وحیدی ایران کے سخت موقف کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جو امریکہ کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کے ممکنہ معاہدے پر مذاکرات سے متعلق ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک چھوٹے گروہ کا حصہ ہیں جو ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے براہِ راست رابطے میں ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای فروری 28 کے اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے کے بعد منظرِ عام پر نہیں آئے، جس حملے میں ان کے والد، علی خامنہ ای، ہلاک ہوئے۔
وحیدی خود 8 فروری کے بعد سے عوامی طور پر نظر نہیں آئے تھے، یعنی ایران کی جنگ شروع ہونے سے کئی ہفتے پہلے۔
بعد میں ریاستی میڈیا نے خامنہ ای کے تابوت کی تصاویر دکھائیں، جو ایک سرخ پرچم سے ڈھکا ہوا تھا، جس پر سفید خطاطی میں ’یا حسین‘ لکھا تھا۔ یہ پرچم عراق کے کربلا میں امام حسین کے سنہری گنبد والے مزار پر لہرا رہا تھا۔ یہ پرچم روایتی طور پر کسی ناحق قتل ہونے والے کے خون اور انتقام کی پکار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
سنیچر سے ایران خامنہ ای کے لیے کئی روزہ جنازے کی تقریبات منعقد کرے گا، اور ان کی میت ایران اور پڑوسی ملک عراق کے شہروں میں لے جائی جائے گی۔ حکام نے اعلان کیا ہے کہ تہران میں سڑکیں، فضائی حدود اور روزمرہ زندگی کو بند کر دیا جائے گا، جب سوگوار خامنہ ای کی یاد میں جمع ہوں گے، جو کئی دہائیوں تک ایران کو آہنی ہاتھوں سے چلاتے رہے اور مغرب کا مقابلہ کرتے رہے۔
