آبنائے ہرمز پر نئی فیس، دوست ممالک کے لیے خصوصی رعایت: ایرانی سفیر
چین میں ایران کے سفیر عبرالرضا رحمانی فضلی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز سے نئی فیس وصول کی جائے گی جبکہ ’دوست‘ ممالک کو خصوصی رعایت ملے گی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آبنائے ہرمز پر گزرنے کی فیس ایک ایسا معاملہ ہے جس کو واشنگٹن مسترد کر چکا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے واملے معاہدے کے تحت تجارتی جہازوں کو 60 روز تک آبنائے ہرمز سے بغیر کسی فیس کے گزرنے کی اجازت ہو گی لیکن اس مدت کے بعد کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے یہ امر ابھی واضح نہیں ہے۔
چین میں ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے سنیچر کو بیجنگ میں منعقدہ ورلڈ پیس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک عمان کے ساتھ ’باہمی تعاون اور اشتراک‘ کے ذریعے اس اہم آبی گزرگاہ کے لیے ’نئے انتظامات‘ پر کام کر رہا ہے۔
ان کے مطابق ’ایک ایسے ملک کے طور کہ آبنائے ہرمز جس کے پانیوں میں آتی ہے ہم یقیناً فیس وصول کریں گے۔
تاہم انہوں نے ساتھ ہی اصرار بھی کیا کہ یہ فیس ’ٹال‘ نہیں ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ نئے انتظامات آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ طور پر گزرنے، جہازوں کی نگرانی، بڑی تعداد میں جہازوں کی آمد و رفت سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے اور اس کے تدارک سے متعلق ہوں گے۔‘
عبدالرضا رحمانی فضلی کے بقول ’ہم یقینی طور پر ان ممالک کے لیے خصوصی رعایت پر غور کریں گے جو ہمارے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں اور خصوصاً مشکل وقت میں ساتھ کھڑے رہے۔‘