Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران پالیسی یا لبنان جنگ بندی، صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان چپقلش کی وجہ کیا بنی؟

ایران جنگ شروع ہونے سے قبل ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات کافی خوشگوار اور تیزی سے بڑھتے نظر آ رہے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
ایک امریکی اخبار نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان اختلافات کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ میں ان وجوہات کا بھی ذکر کیا ہے جو دونوں کو آمنے سامنے لائیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو محفوظ بنانے اور آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے فریم ورک پر کام کیا جبکہ نیتن یاہو تہران پر فوجی دباؤ بڑھانے پر زور دیتے رہے۔
دوسری جانب امریکی پالیسی میں اچانک ڈیل کی طرف پیش قدمی پر اسرائیلی حکام حیران رہ گئے اور وہ اس کی توقع نہیں کر رہے تھے۔
ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں نیتن یاہو نے متعدد بار یہ سوال اٹھایا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی معاہدے پر عملدرآمد کو کیسے یقینی بنایا جا ستا ہے اور خبردار کیا تھا کہ ایرانی قیادت پر اعتماد نہ کیا جائے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ ایک وسیع جنگ کو روکنے اور اس کے معاشی اثرات کو محدود کرنے پر مرکوز رہی خصوصاً اس وقت جب اہم آبی گزرگاہ بند ہونے سے عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا ہوئی اور توانائی کے ذرائع قیمتیں بڑھنا شروع ہوئیں۔
اختلافات کا دائرہ بڑھتے ہوئے لبنان کے ایشو تک چلا گیا اور ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں پر شدید اعتراض کیا کیونکہ ان کے خیال میں ان سے جنگ بندی کے لیے ہونے والی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سخت ہوتی گئی کیوکہ صدر ٹرمپ نے بعض فوجی کارروائیوں کے جواز پر سوال اٹھائے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے زور دیتے رہے۔
یہ اختلافات اس ہم آہنگی میں آنے والی نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں جو ایران پر حملوں کے وقت موجود تھی۔
نیتن یاہو کئی ماہ سے واشنگٹن پر زور دے رہے تھے ک وہ تہران کے خلاف سخت موقف کرے، اس کے لیے انہوں نے انٹیلیجنس رپورٹس اور فوجی منصوبے بھی پیش کرتے ہوئے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔
شروع میں صدر ٹرمپ نے ان میں سے بہت سی تجاویز کی حمایت کی اور جنگی صورت حال پر گہری نظر رکھی لیکن بعد میں انہوں نے ایسی تجاویز مسترد کر دیں جو امریکہ کو اس تنازع میں مزید گہرائی میں دھکیل سکتی تھیں۔
مضمون میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان غیرمعمولی تک قریبی تعلقات قائم ہوئے تھے اور اسرائیلی وزیراعظم نے واشنگٹن کے متعدد دورے بھی کیے تھے، وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے اور اس تعلق کو عوامی سطح پر نمایاں کرنے کی کوشش بھی کرتے رہے۔
اسی طرح جنگ کے دورسان دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا اور حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلق ایک ایسی سطح تک پہنچ گیا جس کو انہوں نے ’بے مثال‘ قرار دینا شروع کر دیا۔
تاہم عوامی سطح پر یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود سفارت کاری، فوجی حکمت عملی اور خطے سے متعلق ترجیحات کے ایشوز پر اختلافات آہستہ آہستہ بڑھتے رہے۔
امریکی اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیتن یاہو سے گفتگو کے بعد صدر ٹرمپ نے دیگر مشیروں سے بھی رائے لینا شروع کر دی تھی جبکہ انتظامیہ کے بعض عہدیداروں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا اسرائیل کی داخلی سیاسی ضروریات اور مفادات زمینی حقائق کی بنا پر ہونے والے فیصلوں کو متاثر کر رہے ہیں یا نہیں۔

شیئر: