Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی فلم ساز ھیفاء المنصور کو فلم فیسٹیول میں خصوصی ایوارڈ دیا گیا

ھیفاء المنصور کا کہنا ہے ’میرے لیے یہ اعزاز بہت اہمیت رکھتا ہے ( فوٹو: عرب نیوز)
سعودی سنیما کی مشہور پیش رو ھیفاء المنصور کو مملکت میں سنیما کے لیے اُن کی خدمات کے اعتراف میں خصوصی ایوارڈ دیا گیا ہے۔ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے انھوں نے سعودی سنیما کی ’انتھک کوششوں‘ کی بے حد تعریف کی۔
سٹیج پر ایوارڈ وصول کرتے وقت ھیفاء المنصور نے کہا ’میرے لیے یہ اعزاز بہت اہمیت رکھتا ہے۔۔۔ اس لیے نہیں کہ یہ سعودی فیسٹیول کی طرف سے ہے جو مقامی آوازوں کو تسلیم کرنے کا پلیٹ فارم ہے اور اس لیے بھی نہیں کہ اِس کا تعلق اثراء سے ہے جو سعودی فلم سازوں اور سنیما ایسوسی ایشن کی بے تحاشا کوششوں میں بھرپور تعاون کرنے والا ادارہ ہے بلکہ اِس لیے کہ میں الشرقیہ (مشرقی صوبے) کی ایک بیٹی ہوں
ایوارڈ دینے کی یہ تقریب کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچر میں ہوئی جسے عرفِ عام میں اثراء کہا جاتا ہے۔ اِس برس سعودی فلم فیسٹیول کا موضوع ’سفر کا سنیما‘ ہے جس میں ھیفاء المنصور کے اپنے سفر کی ایک جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔
سعودی عرب میں سنیما کی ترقی کی راہ ہموار کرنے والے افراد میں سے ایک، ھیفا المنصور کی مخصوص آواز نے، جو سنیما کے لیے انتہائی موزوں بھی ثابت ہوئی، مملکت میں عہدِ رواں کے فلمی منظر کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
الاحسا کے قریب پیدا ہونے والی ھیفاء المنصور کی ابتدائی فلمیں اثراء کے ہیڈ کوارٹر سے کچھ ہی فاصلے پر وجود میں آئیں۔ اِن فلموں کا آغاز سنہ 1997 میں ھیفاء کی پہلی مختصر فلم ’کون؟‘ سے ہُوا۔

ھیفا نے قاہرہ میں امریکی یونیورسٹی سے تقابلی انگریزی ادب اور آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی جامعہ سے فلم سڈیز میں  ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ اِس کے بعد اُن کے تخلیقی سفر کا رُخ فلمسازی کی طرف مُڑ گیا جہاں وہ گزشتہ کچھ دہائیوں سے کام کر رہی ہیں۔
انھوں نے کہا ’یہ مقام (الظھران) میری ابتدا کا گواہ ہے اور میرے لیے اِس سے بڑی اور کیا خوشی ہوگی کہ مجھے یہ اعزاز براہِ راست اُن ساتھیوں سے ملا ہے جو مجھے بھائیوں کی طرح عزیز ہیں۔ میں اِن کے ساتھ پلی بڑھی ہوں‘۔
ھیفاء المنصور نے تالیوں کی گونج میں فلمی صنعت سے وابستہ دیگر افراد کے علاوہ، احمد الملا کا شکریہ ادا کیا جو سعودی فلم فیسٹیول کے بانی اور ڈائریکٹر ہیں۔

ھیفاء المنصور کی شہرت کی بڑی وجہ سنہ 2012 میں آنے والی اُن کی تاریخی فیچر فلم تھی (جو اُن کی پہلی فلم بھی تھی) جس کا نام ’وجدہ‘ تھا۔ اِس فلم میں ایک چھوٹی لڑکی ایسے وقت میں بائیسِکل چلانے کی شدید خواہش رکھتی ہے، جب معاشرے میں اس کام کو بُرا تصور کیا جاتا ہے۔ یہ مملکت میں سعودی سنیما میں انقلابی تبدیلی کا آغاز تھا کیونکہ ھیفاء کی پوری کی پوری فلم، سعودی عرب میں فلمائی گئی تھی۔ 

علاوہ ازیں، یہ پہلی ایسی سعودی فلم تھی جسے سنہ 2013 میں غیر ملکی زبان میں بننے والی فلموں کی کیٹیگری میں اکیڈمی ایوارڈ کے ابتدائی انتخاب کے لیے پیش کیا گیا تھا۔
ھیفاء المنصور مستقلاً مقامی اور بین الاقوامی فلموں اور ٹیلی وژن میں ڈائریکٹر کے طور پر اپنے کیریئر سے وابستہ رہی ہیں۔ انھوں نے سنہ 2015  کے کینز فلم فیسٹیول سمیت کئی بین الاقوامی فلمی میلوں میں جیوری کی حثییت میں میں خدمات سر انجام دی ہیں۔

 

شیئر: