ٹرمپ کی مداخلت سے فٹ بال ورلڈ کپ میں ہنگامہ، فیفا نے امریکی کھلاڑی پر پابندی ختم کر دی
امریکہ کی ورلڈ کپ مہم اتوار کے روز ایک غیر معمولی موڑ پر پہنچ گئی جب فیفا نے فولا رِن بالوگن پر لگنے والی خودکار ریڈ کارڈ کی پابندی معطل کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد سٹرائیکر کو پیر کے روز بیلجیم کے خلاف میچ میں کھیلنے کی اجازت مل گئی۔
روئٹرز کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ذاتی طور پر فیفا کے صدر گیانی انفانٹینو سے کیس پر نظرثانی کی درخواست کی۔
اس اقدام نے فیفا کے تادیبی نظام کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا، بیلجیم کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، اور یہ ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے تنازعات میں سے ایک بن گیا، جہاں بحث ٹیکٹکس یا ٹیم سلیکشن کے بجائے فٹبال گورننگ باڈی اور سیاسی طاقت کے تعلقات پر مرکوز ہو گئی۔
چند ہی منٹوں میں یہ فیصلہ میڈیا میں ایک بڑے طوفان کا باعث بن گیا، اور کھیلوں کے پروگراموں، ٹاک شوز اور تجزیہ کاروں کے درمیان بحث چھڑ گئی کہ آیا فیفا نے انصاف قائم رکھا یا اپنے ہی قوانین کو کمزور کیا۔
فیصلے پر سوالات بڑھنے کے باوجود فیفا نے رائٹرز کی متعدد درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا، جو اس معاملے اور ٹرمپ کی انفانٹینو سے کال سے متعلق تھیں۔
بالوگن نے بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف 2-0 کی فتح میں اپنا تیسرا گول کیا تھا، لیکن دوسرے ہاف میں تارک مہرموویچ کے ٹخنے پر جوتا مارنے پر انہیں ریڈ کارڈ دکھا دیا گیا۔
25 سالہ کھلاڑی کو VAR ریویو کے بعد میدان سے باہر بھیج دیا گیا، جبکہ امریکی کوچ موریسیو پوچیٹینو نے کہا کہ یہ ریڈ کارڈ نہیں تھا۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے انفانٹینو کو فون کر کے فیفا سے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی۔
فیفا اب بالوگن کو معطلی کے بغیر کھیلنے کی اجازت دے رہا ہے۔
فیفا نے بیان میں کہا کہ ’فیفا ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 27 کے مطابق، میچ کی معطلی کے نفاذ کو ایک سال کی عبوری مدت کے لیے معطل کیا جاتا ہے۔‘
’اگر فولا رِن بالوگن اس مدت کے دوران اسی نوعیت کی کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو معطلی دوبارہ نافذ ہو جائے گی، اور نئی خلاف ورزی پر اضافی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔‘
’بڑی ناانصافی‘
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’فیفا کا شکریہ کہ انہوں نے صحیح فیصلہ کیا اور ایک بڑی ناانصافی کو درست کیا۔‘ جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ ’USA-USA-USA۔‘
بالوگن کے ساتھی کھلاڑیوں کو اس کا علم اس وقت ہوا جب وہ سیٹل میں پیر کے میچ سے پہلے ٹریننگ کے لیے جا رہے تھے۔
امریکی فارورڈ کرسچین پولیسک نے کہا کہ ’ہمیں راستے میں سوشل میڈیا سے پتہ چلا۔ پہلے تو ہم حیران ہوئے، پھر خوشی ہوئی۔‘
کوچ پوچیٹینو نے سیٹل میں پریس کانفرنس میں اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’فٹبال میں 99.9 فیصد لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ غیر منصفانہ سزا تھی، اور ماضی میں بھی ایسی سزائیں معطل کی گئی ہیں۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا اور ٹورنامنٹ میں کئی بار ایسے فیصلے سامنے آئے ہیں۔
بیلجیم کا شدید ردعمل
رائل بیلجیئن فٹبال ایسوسی ایشن نے کہا کہ وہ اس فیصلے پر ’حیران‘ ہے اور قوانین کے مطابق تمام ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے۔
اس نے کہا کہ فیفا نے آرٹیکل 27 کے تحت فیصلہ کیا ہے، لیکن اسی ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 66.4 کے مطابق ریڈ کارڈ پر اگلے میچ کی خودکار معطلی لازمی ہوتی ہے۔
بیلجیم نے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ ٹورنامنٹ کے ضوابط کے خلاف ہے۔
پرتگال کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو کو بھی ایک بار معطلی کا حصہ معاف کیا گیا تھا، جبکہ قطر کے مڈفیلڈر اسیم مادِبو پر ایک خطرناک ٹیکل پر پانچ میچوں کی پابندی لگا دی گئی تھی۔
اب یہ میچ ایک ایسے تنازعے کے سائے میں کھیلا جائے گا جو پورے ٹورنامنٹ کی سب سے بڑی بحث بن چکا ہے، اور فیفا کے اختیارات پر سوالات غالب رہیں گے۔