ایئرفورس کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قاتل کو پکڑنے میں بائیکیا ڈرائیور پولیس کے لیے اہم سراغ کیسے بنا؟
ایئرفورس کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قاتل کو پکڑنے میں بائیکیا ڈرائیور پولیس کے لیے اہم سراغ کیسے بنا؟
پیر 6 جولائی 2026 7:06
ادیب یوسفزئی -اردو نیوز
گروپ کیپٹن عاصم طارق کو ملزم سعد عباسی نے اتوار کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا (فوٹو: اسلام آباد پولیس)
اسلام آباد کے اس بائیکیا ڈرائیور کو شاید اس وقت اندازہ بھی نہیں تھا کہ 300 روپے کرائے والی یہ سواری چند گھنٹوں بعد ایک ایسے قتل کی تفتیش کا اہم ترین سرا بن جائے گی جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اتوار کو اسلام آباد میں سڑک پر سعد عباسی نامی لڑکے اور نمرہ نامی لڑکی کے مابین بحث و تکرار کے دوران پاکستان فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل ہوئے تھے۔
اس کیس کے ملزم کو پکڑنے میں اسلام آباد کے ایک بائیکیا ڈرائیور نے بھی اہم کردار ادا کیا جن کی موٹرسائیکل پر ملزم اسلام آباد کے مختلف مقامات پر جاتا رہا۔
پولیس کے مطابق اس دوران کرایہ 300 روپے طے ہوا تھا لیکن فیض آباد اڈے پر اتر کر ملزم نے 250 روپے ادا کیے۔ ڈرائیور کے لیے بظاہر یہ معمول کی سواری تھی لیکن اسلام آباد پولیس کے لیے ان کی فراہم کردہ معلومات نے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے مبینہ قاتل سعد عباسی تک پہنچنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
اتوار کی رات آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی نے دعویٰ کیا کہ جدید تفتیشی تکنیک، سیف سٹی کیمروں، مصنوعی ذہانت اور روایتی پولیسنگ کے ذریعے ملزم کو واقعے کے صرف 9 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کیس کی تفتیش ایس پی سٹی ڈاکٹر آیاز حسین کے سپرد کی گئی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے وقت ضائع کیے بغیر مختلف سمتوں میں کام شروع کر دیا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب تقریباً 20 سال عمر کے ایک لڑکے اور لڑکی کے درمیان اسلام آباد کی نائنتھ ایونیو پر تلخ کلامی ہو رہی تھی۔
پولیس نے مزید بتایا کہ بعد کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ملزم سعد عباسی اور لڑکی نمرہ کھنہ کی رہائشی ہیں اور دونوں میلوڈی کے ایک کیش اینڈ کیری سٹور میں ملازم تھے۔ 'دونوں کی شناسائی تقریباً 10 سے 12 روز قبل ہوئی تھی اور سعد گزشتہ چند دنوں سے اسے اپنی موٹر سائیکل پر دفتر لاتا اور لے جاتا تھا۔
ملزم سعد عباسی واقعے کے بعد فرار ہو گیا تھا (فوٹو: اسلام آباد پولیس)
واقعہ کیسے ہوا؟
اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایس پی سٹی آیاز حسین نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’لڑکا اور لڑکی دونوں بائیک پر میلوڈی جا رہے تھے۔ نائنتھ ایونیو پر لڑکی بائیک سے اتری اور دونوں کے درمیان کسی بات پر تکرار شروع ہو گئی۔ اسی دوران گروپ کیپٹن عاصم طارق اپنی آفیشل اسائنمنٹ پر گھر سے راولپنڈی جا رہے تھے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ عاصم طارق نے گاڑی روکی اور نوجوان سے پوچھا کہ وہ لڑکی کے ساتھ زبردستی کیوں کر رہا ہے؟ ان کے بقول 'لڑکے نے کہا کہ یہ ان کا فیملی میٹر ہے، آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس پر گروپ کیپٹن آگے بڑھ گئے لیکن جب انہوں نے بیک مرر میں دیکھا تو لڑکی پر لڑکے کا تشدد مزید بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے انہوں نے یوٹرن لیا اور دوبارہ وہاں پہنچ گئے۔‘
پولیس کے مطابق جب عاصم طارق نے دوبارہ مداخلت کی تو انہوں نے نوجوان سے کہا کہ انہوں نے اس کے پاس پستول بھی دیکھی ہے اور وہ لڑکی کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کر رہا ہے؟ ڈاکٹر ایاز حسین کہتے ہیں 'لڑکے نے لڑکی کے سامنے پستول لہرا کر کہا کہ تم میرے ساتھ بائیک پر بیٹھ جاؤ۔ وہ اسے ایک پارک لے جانے پر بضد تھا۔ لڑکی گرین بیلٹ پر تھی جبکہ گروپ کیپٹن کی گاڑی ان دونوں کے درمیان ایک شیلڈ کی طرح کھڑی تھی۔ گروپ کیپٹن کوشش کر رہے تھے کہ لڑکی کو بچایا جائے۔ اسی دوران لڑکے کو طیش آیا اور اس نے فائر کھول دیا۔ گولی سیدھا گروپ کیپٹن عاصم طارق کے سینے میں لگی اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
بائیکیا پر سفر
پولیس کے مطابق یہ واقعہ دوپہر 11 بج کر 30 منٹ پر پیش آیا۔ ایس پی ڈاکٹر آیاز حسین بتاتے ہیں کہ 'میں خود بھی موقع پر پہنچا۔ فرانزک کا عمل شروع ہوا اور وہاں سے نائن ایم ایم پستول کی گولی کا خول ملا۔ تقریباً ڈیڑھ بجے تک ہم نے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دیں اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے تفتیش کا آغاز کیا۔' قتل کے بعد ملزم نے اپنی گرفتاری سے بچنے کے لیے مسلسل حکمت عملی تبدیل کی اور پولیس کو چکما دینے کی کوشش کرتا رہا۔ ڈاکٹر ایاز حسین کے اس حوالے سے بتاتے ہیں 'ہم سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی مدد سے اسلام آباد کے علاقے غوری ٹاؤن پہنچے جہاں اس نے اپنی موٹر سائیکل ایک گھر کے سامنے کھڑی کر کے اس پر کپڑا ڈال دیا۔ اس کے بعد اس نے ایک بائیکیا بک کیا اور مارکیٹ سے نئی نیلی شرٹ خریدی۔ اس نے پہلے سبز رنگ کی شرٹ زیب تن کی ہوئی تھی۔ یوں اس نے وہیں پر اپنا بیگ ایک فارمیسی پر رکھوایا جس میں پستول بھی موجود تھی'
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ملزم گرفتاری سے بچنے کے لیے مسلسل حکمت عملی تبدیل کرتا رہا (فوٹو: اسلام آباد پولیس)
اسی مرحلے پر پولیس کو بائیکیا ڈرائیور مل گیا۔ پولیس نے اس دوران اپنی ٹیمیں مذکورہ مقامات پر بٹھا دیں تھیں تاکہ کسی بھی طور پر ملزم فرار ہونے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ سی سی ٹی وی کیمرے میں پولیس نے بائیکیا کے مالک کو ٹریس کرنا شروع کیا۔ اس حوالے سے ایس پی سٹی ڈاکٹر آیاز حسین بتاتے ہیں 'ہم بائیکیا والے کو بھی ٹریس کرتے رہے۔ خوش قسمتی سے وہ بائیکیا والا ہمیں مل گیا۔ اس نے ہمیں پوری کہانی بتائی اور یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے ملزم تک پہنچنا ہمارے لیے نسبتاً آسان ہو گیا۔' ان کے مطابق بائیکیا ڈرائیور کی فراہم کردہ معلومات نے تفتیش کو نئی سمت دی۔ '
بائیکیا ڈرائیور نے بتایا کہ ملزم ان کے ساتھ پہلے غوری ٹاؤن مارکیٹ گیا جہاں اس نے بیگ رکھا اور ایک دکان سے شرٹ خریدی۔ اس کے بعد اس نے بائیکیا والے کو سکائی ویز پہنچنے کا کہا جہاں سے وہ لاہور جانا چاہتا تھا۔ جب ہماری ٹیم سکائی ویز گئی تو بس کے مسافروں کی فہرست سے سیٹ نمبر 24 پر سعد عباسی کا نام، شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر مل گیا۔ یہی معلومات بعد کی کارروائی میں انتہائی اہم ثابت ہوئیں۔' ان کے مطابق پولیس کو یقین تھا کہ ملزم اندھیرے میں اپنا سامان لینے واپس آئے گا۔
پولیس کے مطابق سکائی ویز سے مسافروں کی فہرست لینے کے بعد تفتیش جاری رہی جبکہ اس دوران ملزم کے ڈیجیٹل فٹ پرنٹس کو بھی ٹریس کیا جاتا رہا۔ پولیس حکام کے بقول 'سعد عباسی نامی یہ ملزم اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہوا تاہم وہ بھیرہ کے مقام پر اترا اور کھنہ میں اپنی رہائش گاہ پہنچا۔' ایس پی آیاز حسین اس حوالے سے بتاتے ہیں 'اس دوران ملزم نے ایک ریڑھی والے کے موبائل سے اپنے دوست کو فون کال پر موٹرسائیکل کا بتایا اور خود اس فارمیسی پر پہنچا جہاں اس کا بیگ موجود تھا۔ ہمیں شک تھا کہ یہ اندھیرے میں کسی بھی ایک پوائنٹ پر آئے گا۔ چنانچہ جب وہ فارمیسی اپنا بیگ لینے پہنچا تو ہماری ٹیم پہلے سے وہاں موجود تھی اور وہیں اسے گرفتار کر لیا گیا۔‘
ملزم کو لے جانے والے بایکیا رائیڈر نے پولیس کو اہم معلومات دیں (فوٹو: بیس بک، بائیکیا)
پولیس کا کہنا ہے کہ اس پوری کارروائی میں مصنوعی ذہانت سے بھی مدد لی گئی۔ ڈاکٹر ایاز حسین کے مطابق 'ہم نے اس کی موٹر سائیکل کا نمبر اپنے اے آئی سسٹم میں فیڈ کیا جس سے اسے مختلف مقامات پر ٹریک کرنا آسان ہوا۔'
ملزم کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس علی ناصر رضوی نے بتایا کہ اس کیس کو غیر معمولی اہمیت دی گئی اور تفتیش کے لیے 11 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔
ان کے مطابق ان ٹیموں نے ڈیجیٹل سرویلنس، سیلولر ٹیکنالوجی، سیف سٹی اور نجی کیمروں کی فوٹیج، اور روایتی چھاپہ مار کارروائیوں پر بیک وقت کام کیا۔ پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی کے 275 سیف سٹی کیمروں اور 100 سے زائد نجی کیمروں کی فوٹیج دیکھی گئی جبکہ 137 فون کالز کا ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا۔
آئی جی کے مطابق تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملزم ایک ماہ قبل ایک خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کر کے میانوالی لے گیا تھا تاہم وہ معاملہ خاندانوں کے درمیان ہی حل ہو گیا تھا اور پولیس تک نہیں پہنچا۔ پولیس نے ملزم کے ایبٹ آباد اور میانوالی سے تعلق رکھنے والے روابط کی بھی جانچ کی جبکہ لاہور کے لیے روانہ ہونے کی ٹپ پر وہاں بھی ٹیم روانہ کی جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں 13 مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے موبائل فون بند کر کے سم نکال دی تھی اور اپنی ڈیجیٹل موجودگی چھپانے کی کوشش بھی کی تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل شواہد اور روایتی پولیسنگ کی مدد نے بالآخر اسے کھنہ کے علاقے میں پولیس نے گرفتار کر لیا۔